حجاب پر عدالت نے جو فیصلہ برقرار رکھا ہے وہ انتہائی مایوس کن ۔
کرناٹک ہائی کورٹ کےحجاب تنازعہ پرفیصلے کے بعد مختلف قائدین کا رد عمل
نئی دہلی :15؍مارچ
(اے ایم این ایس)
کرناٹک ہائی کورٹ نے حجاب تنازعہ پر اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ حجاب پہننا اسلام میں لازمی عمل نہیں ہے۔ چیف جسٹس ریتو راج اوستھی کی سربراہی والی بنچ نے اس معاملہ میں کہا کہ عدالت کا خیال ہے کہ مسلم خواتین کا حجاب پہننا اسلامی عقیدے میں ضروری مذہبی عمل کا حصہ نہیں ہے۔
کوئی بھی طالب علم اسکول یونیفارم پہننے پر اعتراض نہیں کر سکتا۔ ساتھ ہی عدالت نے کہا کہ ریاستی حکومت کو اسکول یونیفارم سے متعلق احکامات جاری کرنے کا حق ہے۔
ہائی کورٹ کے فیصلے پرمختلف قائدین نے اپنے رد عمل کا اظہار کیا ہے
Deeply disappointed by the High Court verdict upholding Hijab Ban: PDP Chief Mehbooba Mufti pic.twitter.com/yK4lPAFEFg
— Kashmir Bulletin (@KB_Bulletin) March 15, 2022
قومی کمیشن برائے خواتین کی چیئرپرسن ریکھا شرما نے عدالت کے فیصلے پر کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کا خیرمقدم کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں ڈریس کوڈ لاگو ہوتا ہے وہاں تمام بچوں کو اس پر عمل کرنا چاہیے۔
اسی دوران پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ حجاب پر عدالت نے جو فیصلہ برقرار رکھا ہے وہ انتہائی مایوس کن فیصلہ ہے۔ لڑکی اور عورت کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ کیا پہنیں؟ اور کیا نہ پہنیں۔
Very disappointed by the verdict of the Karnataka High Court. Regardless of what you may think about the hijab it’s not about an item of clothing, it’s about the right of a woman to choose how she wants to dress. That the court didn’t uphold this basic right is a travesty.
— Omar Abdullah (@OmarAbdullah) March 15, 2022
نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہاکہ کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے سے بہت مایوسی ہوئی ہے۔ اس سے قطع نظر کہ آپ حجاب کے بارے میں کیا سوچتے ہیں یہ لباس کی کسی چیز کے بارے میں نہیں ہے، یہ عورت کے حق کے بارے میں ہے کہ وہ اس بات کا انتخاب کرے کہ وہ کس طرح کا لباس پہننا چاہتی ہے۔ یہ کہ عدالت نے اس بنیادی حق کو برقرار نہیں رکھا یہ ایک دھوکہ ہے۔
1. I disagree with Karnataka High Court's judgement on #hijab. It’s my right to disagree with the judgement & I hope that petitioners appeal before SC
2. I also hope that not only @AIMPLB_Official but also organisations of other religious groups appeal this judgement…
— Asaduddin Owaisi (@asadowaisi) March 15, 2022
ال انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربرا ہ و رکن پارلیمنٹ حیدرآبا د بیرسٹر اسد الدین اوسی نے کہاکہ ہم کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے سے متفق نہیں ہیں۔
یہ آئین کے آرٹیکل 15 کی خلاف ورزی ہے۔ ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ حجاب ضروری مذہبی عمل نہیں لیکن اس کا فیصلہ کون کرے گا؟ اس لیے ہم اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جائیں گے
