صارفین کے احتجاج کے بعد پٹرول پمپ کو عارضی طور پر بند
حیدرآباد:3؍اگسٹ
(زین نیوز)
پیٹرول کے صارفین کوپمپ مالکان کی جانب سے ہمیشہ سے لوٹ مار کا سامنا رہا ہے پیٹرول ملاوٹ اور کم مقدار کی فراہمی کی شکایت کئی بار دیکھی اور سنی گئی ہے اور اکثر یہ سنا جا تا ہے کہ پٹرول میں مٹی کے تیل کی ملاوٹ کی جاتی ہے‘ مگر ریاست تلنگانہ کریم نگر بوماکل میںایک انوکھا واقعہ پیش آیا۔
کریم نگر ضلع کے بوماکل میں و اقع ایچ پی پٹرول پمپ پیٹرول پمپ پر جب صارفین پیٹرول بھروانے لگے تو حیرت زدہ رہ گئے پیٹرول کم اور پانی کی مقدار زیادہ تھی جس کے بعد برہم صارفین نے پٹرول پمپ انتظامیہ کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی دھرنا منظم کیا۔ جس کے بعد پیٹرول میں پانی کے ملاوٹ کی تصاویر اور ویڈیو ز تیزی کے ساتھ شوشیل پر وائرل ہوگئیں
تفصیلات کے مطابق ایک موٹر سیکل صارف نے جب پٹرول پمپ پر پٹرول بھروانے کے بعد کچھ دو ر جانے کے بعد گاڑی اچانک رک گئی اور دوبارہ چالو نہیں ہوئی جس پر اس نے اپنی گاڑی میکانک کو بتائی ۔ میکانک نے گاڑی کی چیکنگ کے بعد بتایا کہ موٹر سیکل کے انجن میں پانی جانے کی وجہ سے گاڑی خراب ہوگئی ۔

پٹرول میں پانی آنے کے واقعہ کو لیکر جب صارفین نے پٹرول پمپ کے منتظمین سے دریافت کیا تو انتظامیہ نے خود کو بچانے کی کوشش کرتے ہوئے بتایاکہ زیر زمین ٹینک کی خرابی کی وجہ سے پٹرول میں پانی مکس ہورہا ہے وہیں پٹرول پمپ انتظامیہ نے ایسا بھی باور کرانے کی کوشش کی کہ تیل کمپنیوں کی جانب سے پٹرول میں 10 فیصد سے زائد ایتھنول شامل کرنے کی وجہ سےشایدپانی کی مقدار آرہی ہے
جس کے بعد برہم صارفین نے اس معاملہ کی متعلقہ عہدیداروں سے شکایت درج کروائی ۔حکام نے پٹرول میں پانی کی مقدار زیادہ پائے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے پمپ انتظامیہ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے پٹرول پمپ کو عارضی طور پر بند کردیا
