سب کے مطلب کی کہ رہاہوں
قلم میرا ہے بات سب کی
ازقلم عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماءنظام آباد 9505057866
گذشتہ ایک ہفتہ قبل سے مسلسل مسلم بچیوں میں ارتداداور خودکشی کے واقعات کی روز کہیں نہ کہیں سے خبرین موصول ہورہی ہیں جس پر علماء کرام دانشورحضرات اور مختلف قلمکاروں نے خامہ فرسائ کی اورکررہے ہیں تاکہ ان جرائم کی روک تھام ہواور معاشرہ ان برائیوں سے پاک رہے ہرکسی نے ان گناہوں کے پیچھے لڑکوں اور مردوں کو ہی الزام دیا اور انہیں کو دوشی ٹہرایا حقیقت کیا ہے واللہ اعلملیکن
آج میری ملاقات ایک شخص سے ہوئی جنہوں نے راقم سطور کے اصلاحی مضامین کی بھر پور تائید کی دعاؤں سے نوازااور کہا کہ اس زمانہ میں جس قدر بھی کوششیں سماج سے رسم ورواج اور جہیز ودیگربرائیوں کے خاتمہ کے لےء ہورہی ہیں وہ سب قدر کی نگاہوں سے ہی دیکھی جائیں گے اوردیکھی جانی بھی چاہہیے
چونکہ معاشرہ کی حالت ابتر ہوتی جارہی ہے کیا خواندہ کیا ناخواندہ کیا غریب کیا امیر کیا دیندار کیا بے دین سب ہی گھرانے کسی نہ کسی مقدار میں اس جرم ناگہانی میں مبتلا ہیں الاماشاء اللہلیکن موصوف نے ساتھ ہی ساتھ تصویر کا ایک دوسرارخ بتایا کہ کرتا کوی ہے بھرتا کوی اورہے جیسے کسی سائکل راں نے کسی گاڑی چلانے والے کو ٹکر ماردی تو دیکھنے والے راستہ چلنے والے ہر فرد کی زبان پر گالیاں اور احمقانہ جملے جوآتے ہیں اس کا ملزم سائیکل راں ہی کوقراردیا جاتا ہےخواہ غلطی کسی سے بھی صادر ہوں اس جانب توجہ کئے بنا ہی اس بیچارے کو مطعون ومقذوف کیا جاتا ہے
من وعن اسی طرح کوئی لڑکی اگر خودکشی کرتی ہے یا اور کوی انتہای اقدام کرلیتی یے جس کو سماج میں برا سمجھاجاتا ہوں تو اس کی حقیقت وماہیت کو جانے بغیر ہی ہرکس وناکس شوہر اور مردہی کو مجرم قراردے دیا جاتا ہے لیکنہرمعاملہ ایسا نہیں ہوتا بلکہ بعض امور ایسے ہوتے ہیں جس کی مجرم خود بیوی اور عورت ہوتی ہے جس کاجرم چھپ جاتا ہے سب کو نظر نہیں آتا اوریہ ایک اندرونی معاملہ ہوتا ہے جس کو صاحب معاملہ ہی بتاسکتا ہےمثلا بیویوں میں قناعت پسندی کے بجاے حرص وہوس اور اپنے دیگر افراد خاندان کی برابری کرنے کی کوشش کرنا حق تو یہ ہیکہ ہر عورت اپنے خاوند کی حلال کمای پر اکتفاء کرکے بخوشی اس کے ساتھ رہے اور نندن دیورانی یا جٹھانی کی برابری کرنے یا ان سے اچھا دکھنے کی کوشش وفکرمیں نہ رہے شوہر کی آمدنی سے زیادہ اس پر بوجھ نہ ڈالے بالکل کفایت شعاری کے ساتھ کام لے کر اپنی جگہ خوش رہے اگر اس کی آمدنی سے زیادہ بوجھ ڈالوگی تو وہ یاتواپنے آپ کومجبور سمجھے گا یا حلال وحرام کی تمیز کئے بنا سب کچھ حاصل کرکے اپنی بیوی کی خواہش کی تکمیل کرنے لگے گا جو یقینا اسلامی اور دنیاوی ہر دواعتبار سے قبیح عمل ہے پھر اس کی بے برکتی سے آپسی رنجشیں بڑھیں گے شوہر کا اچاٹ ہوگا وہ اب بیوی کو محبت کی نظر سے نہیں دیکھے گا جس کا نتیجہ یہی ہوگا کہ عورت یاتو اپنے خوابوں کی تعبیر نہ ملنے اور اپنے مطالبات پورے نہ ہونے کی وجہ سے کسی بھی قسم کاجرم کرنے سے نہیں رکے گی اس لےء خواتین کو اپنی بچیوں کو اس سلسلہ میں ہم سرپرست اس بات کاپابند بنائیں کہ گھر کی معاشرتی زندگی میں حالات سے سمجھوتہ کرنا سیکھیں کسی کے لےء بھی ہم بوجھ نہ بنیں دیکھا دیکھی یاکسی کی برابری کا خواب ہرگز نہ دیکھیں من جانب اللہ جوحلال رزق کا پہونچانا شوہر کی ذمہ داری ہے اسی پر قناعت کرنے کی عادت ڈالیں
برکت نام ہے اخراجات کم کرکے کفایت شعاری کی زندگی گزارنے کا آمدنی بڑھنے کانام برکت نہیں ہےہم اپنی اولاد کو یہ سمجھائیں کہ حضور علیہ السلام نے صحابہ کرام وصحابیات کا جو مزاج بنایا تھا کہ اگر خاوند تین دن تک بھی مزدوری نہ ملنے کی وجہ سے کچھ کماکر گھر نہیں لاتاتو بیویاں خالی پیٹ ہی سوجایاکرتی تھیں اور اپنے بچوں کو بھی بہلاکر سلادیا کرتی تھیں اور اللہ کا شکر اداکرتی تھیں کہ ہمارا خاوند بھلے خالی ہاتھ گھرلوٹ آیا مگر کسی حرام کوہاتھ نہیں لگایا چوتھے دن جب شوہر گھر سے نکلتا تو بیوی دروازہ پر رخصت کرتے ہوے کہتی کہ اے میرے سرتاج آج بھی اگر کام نہ ملے تو خالی ہاتھ ہی گھرلوٹنا مگر ہماری فکرمیں کوی حرام کا لقمہ اپنے ساتھ مت لانا جب یہ مزاج خواتین کا بنے گا تو یقینا معاشرہ میں سدھار آے گا اور ازدواجی زندگیاں خوشگوار گزریں گیآج کے دور میں یہ مزاج یقینا بہت عام ہوتا جارہا ہے
ہرعورت اپنے سے بڑے کی برابری کرنے میں سب سے آگے نظرآتی ہے اسی لالچ وحرص نے عورتوں کی لٹیا ڈبودی مال وزر کے اعتبار سے ہوں یا اچھے کھانے پینے کے اعتبار سے ہوں یا عمدہ لباس وپوشاک کے اعتبار سے ہوں اگر ہماری خواتین اپنی حیثیت کے مطابق اپنا شوق پوراکرلیں تو میں سمجھتا ہوں کہ معاشرہ سے یہ خودکشی وخود سوزی کا سنگین گناہ ختم ہوسکے گا ورنہ تو پھر اس سماج کا اللہ ہی محافظ ہے اللہ پاک توفیق فہم نصیب فرماے