حید رآباد :2؍مئی
(زین نیوز ڈا ٹ نیوز)
سیاست میں الزامات نئی بات نہیں ہے ۔جھوٹ کے ذ ریعہ میری شخصیت کو مجروح کر نے کی کوشش کی گئی ہے ۔ان خیالات کا اظہار مسٹر ایٹالہ راجند ر نے آج میڈ یا سے بات چیت کر تے ہو ئے کیا ۔
انہوں نے دوٹوک کہا کہ دوسری مر تبہ اقتدار پر فا ئز ہو نے کے بعد تلنگانہ تحر یک کے نظر یات با قی نہیں ر ہے ۔اور انہیں دوسری مر تبہ منصب دینے میں بھی نا راضگی ظا ہر کی گئی تھی ۔انہوں نے بتا یا کہ اسمبلی اجلاس کے دوران ہی وہ کے سی آر سے ملاقات کئے تھے ۔
جبکہ کے ٹی آر سے بھی ملاقات کے لئے کو شش کی گئی تھی لیکن یہ لا حا صل ر ہی ۔انھوںنے بتا یا کہ ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت ہی ان کے خلاف سازش کی جا ر ہی ہے ۔انھوں نے دو ٹوک کہا کہ وہ کہیں بھی اراضی پر قبضہ نہیں کئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اگر ان پر الزامات عا ئد ہوں تو فوری انہیں طلب کر کے استفسار کیا جا سکتا تھا۔
انھوں نے بتا یا کہ کے سی آر کے علم میں لا ئے بغیر تلنگانہ حکو مت میں چیو نٹی بھی پر نہیں مار سکتی ۔ واضح کیا کہ انہیں سیاسی جماعت قائم کر نے کا کوئی ارادہ نہیں ہے بلکہ وہ وزارت میں ر ہتے ہو ئے بھی انکے مسائل ہی حل نہ کر سکے ۔ انہوں نے بتا یا کہ وہ مستقبل کے لا ئحہ عمل کے بارے میں ابھی کو ئی فیصلہ نہیں کئے ہیں۔
تا ہم ایٹا لہ را جند ر نے ان پر عائدا لزامات پر بر سر خد مت جج سے تحقیقات کر وانے کا مطالبہ کیا تا کہ سماج کو حقائق کا پتہ چلے ۔انھوں نے ببا نگ دہل کہا کہ مید ک ضلع کی انعامی اراضیات پر قبضہ کا الزام انکے خلاف ایک منصوبہ بند سازش ہے ۔انہوں نے ریمارک کیا کہ اسکو ٹر پر گھو منے والے ہزار کروڑ کے مالک بن گئے ہیں ۔
ایک ہی نشست میں سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں کروڑ کمانے والے کئی لوگ ہیں ۔ان کے پاس دولت کہاں سے آئی جبکہ میں آگ کی طر ح انسان ہوں ۔ میرا خاندانی پس منظر اور میر ی جا ئیداد پر تحقیقات کی جا ئیں اگر کو ئی غلط ہو تو جو سزا دوگے وہ منظور ہے۔
انھوں نے دو ٹوک کہا کہ وہ پانچ پیسے کا بھی غبن نہیں کئے ہیں ۔میں مد یراج کا بیٹا ہوں موت آئی تو مر وں گا لیکن بات سے مکر نے والا نہیں ہوں ۔انہوں نے بتا یا کہ وہ 1986 ء سے پو لٹری کا کاروبار کر تے ہیں ۔وہ2007 ء میں پانچ کروڑکے سر مایہ سے 2100 گز اراضی خر یدے تھے جو متنا زعہ بن گئی ہے ۔اور اب تک مجھے حا صل نہیں ہو ئی ہے ۔
انھوں نے بتا یا کہ سال 2016 ء میں جمنا ایچ آریس کے نام سے اچم پلی اور حکیم پیٹ مواضعات میں 6 لاکھ رو پئے کے حساب سے 40 ہیکڑ اراضی خر ید کر اس پر سا ئبان ڈالا گیا تھا ۔اسکے بعد پھر سات ہیکڑ اراضی خر یدی گئی تھی ۔ انہوں نے بتا یا کہ اس کے لئے کینرا بنک سے 100 کروڑ کا قر ض بھی لیا گیا تھا ۔اور یہ قر ض وہ ابھی تک ادا کر ر ہے ہیں ۔جبکہ پو لٹری کے لئے مز ید اراضی کی ضرورت تھی لیکن اطراف و اکناف پو ری اسئاینڈ اراضیات ر ہنے کی وجہہ سے اس وقت محکمہ صنعت کو در خواست دی گئی تھی لیکن محکمہ کی جانب سے اس اراضی کو نہ دئے جا نے کی وضاحت کے بعد وہ حاصل نہیں کی گئی
ایٹالہ راجندر نے بتا یا کہ 1994 ء میں اسئا ئینڈٖ اراضیات استفادہ کنندگان کو ادا کی گئی تھیں لیکن اب تک بھی ان اراضیات میں کاشت نہیں کی گئی ۔تاہم عہد یداروں نے انہیں بتا یا کہ اگر مذکورہ اراضیات کو دوبارہ حکو مت حا صل کر تے ہو ئے انہیں مختص کر ے تو تا خیر ہو گی اسکے بر خلاف اگر استفادکنند گان ہی ان اراضیات کو دوبارہ حکو مت کو واپس کر دیں تو یہ جلد حا صل کی جاسکتی ہیں ۔تا ہم اس وقت کچھ کسانوں سے بات چیت کر تے ہو ئے 20 تا 25 ہیکڑ اراضی حکومت حا صل کر لی تھی تاہم اس کے بعد ہم نے پو لٹری کی صنعت کی تو سیع کے منصوبہ کو مو خر کر دیا ۔اور اب بھی گورنمنٹ کو واپس کی ہو ئی اراضیات ہنوز کسانوں کے قبضہ میں ہی ہیں جبکہ ان اراضیات کے دستاویزات متعلقہ ایم آر او کے پاس مو جود ہیں
انھوں نے بتا یا کہ وہ 2004 ء میں انتخابات کے وقت اپنی جا ئیداد کی تفصیلات بتا ئے ہیں اس سے انکی مو جودہ جائیداد کا موازنہ کیا جا سکتا ہے ۔اور سوال کیا کہ سیاست میں راتوں رات امیر ہوئے افراد بھی موجود ہیں تا ہم ان سے کیوں استفسار نہیں کیا جا سکتا ۔
