حجاب تنازعہ : درخواست گزار کے والد اور بھائی پر حملہ

تازہ خبر قومی

ہجوم نے میرے بھائی پر بے رحمی سے حملہ کیا۔
میں اپنے حجاب کے لیے لڑ رہی ہوں جو میرا حق ہے۔حاجرہ شفا
بنگلور:22؍فرورئ
(اے ایم این ایس)
کرناٹک کے اسکولوں اور کالجوں میں حجاب پر پابندی بعد سے تنازعہ جاری ہے حجاب پر پابندی کو لیکر مسلم طالبات  نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے اور یہ معاملہ عدالت میں زیر دوراں ہے او رروزانہ سماعت جاری ہے ایسے میں کرناٹک سے ایک بڑی خبرنکل کر آئی ہے

حجاب تنازعہ پر کرناٹک ہائی کورٹ میں عرضی داخل کرنے والی لڑکیوں میں سے ایک حاجرہ شفانے الزام لگایا ہے کہ اُڈپی میں پیر کی رات مبینہ طور پر ’’سنگھ پریوار کے غنڈوں‘‘ نے اس کے بھائی پر حملہ کیا اور املاک کو نقصان پہنچایا۔

حجاب کے تنازعہ کو لے کر عدالت میں درخواست دائر کرنے والی خاتون کے اہل خانہ پر حملہ کیا گیا ہے۔ عرضی گزارحاجرہ شفاکے والد کے ہوٹل پر پیر کو حملہ کیا گیا جس میں ان کے والد اور بھائی کو شدید چوٹیں آئیں۔یہ واقعہ اُڈپی ضلع کے مالپے کا بتایا جا رہا ہے۔ حملے کے حوالے سے حاجرہ شفا نے سوشل میڈیا پر معلومات دی ہیں۔

حاجرہ شفا نے اپنی ٹویٹر وال پر لکھا کہ ہجوم نے میرے بھائی پر بے رحمی سے حملہ کیا۔ صرف اس لیے کہ میں اپنے حجاب کے لیے لڑ رہی ہوں جو میرا حق ہے۔ ہماری املاک بھی تباہ کر دی گئیں….کیوں؟ کیا میں اپنا حق نہیں مانگ سکتی؟ اس کا اگلا ہدف کون ہوگا؟ میں سنگھ پریوار کے غنڈوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتی ہوں۔

شفا کے مطابق، اس کا 20 سالہ بھائی سیف اڈوپی کے ہائی ٹیک اسپتال میں داخل ہے۔ شفا کے ایک جاننے والے مسعود منا نے ایک ٹویٹ میں دعویٰ کیا کہ 150 لوگوں کے ہجوم نے سیف پر حملہ کیا۔

منا نے ٹویٹ کیا کہ انہیں اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ ان کی بہن حاجرہ شفا اپنے حجاب کے حق کے لیے لڑ رہی ہیں۔ نہ صرف طلبہ کی زندگیاں بلکہ اہل خانہ کی زندگیاں بھی داؤ پر لگ گئی ہیں۔ سخت ایکشن لیا جائے

 

یہ بھی پڑھیں :❇️ روس کی جانب سے یوکــــرین کے دو صوبوں کی آزاد ملک مملکت کی حیثیت سے تسلـــــیم