احسن المدارس نوی پیٹ اصلاحی مجلس سے چند
اقتباسات
تحریر: عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ضلع نظام آباد تلنگانہ
نوی پیٹ ادارہ احسن المدارس میں اصلاحی مجلس سے مولاناعبدالقوی صاحب نے ناصحانہ خطاب کرتے ہوے بڑے درد وکرب کا اظہارکیا کہ آج مسلم سماج ومعاشرہ میں والدین کے ساتھ جو ناانصافیاں اور نارواسلوک اولاد کی جانب سے دیکھنے اور سننے کومل رہاہے وہ بڑاتکلیف دہ ہے حالانکہ اللہ تعالی نے والدین کے حقوق کی ادائیگی اور ان کی رضاءکو قرآن مجید میں اپنے حقوق کے ساتھ ملاکر بیان فرمایا جس سے ان کی عظمت ورفعت مقام کاپتہ چلتا ہے
اولاد کے اس دنیا میں وجودپذیر ہونے کا اصل ذریعہ تو اللہ تعالی کی قدرت ہے اسبکے بعد فوری طورپر ظاہری اسباب میں والدین ہی ہیں جن کی وجہ سے اولاد اس دنیا جہاں میں آی اسی لے باری تعالی نے والدین کے ساتھ حسن سلوک اور اچھے رویہ کا تاکیدی حکم اور نصیحت فرمای
قرآن مجید کہتاہے
ووصیناالانسان بوالدیہ احسانا
ہم نے انسان کو والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنےکاتاکیدی حکم دیا ہے
ایک دونہیں کئ ایک مقامات پر قرآن مجید نے والدین کے حقوق کو اللہ کے حقوق سے متصل ذکرکیا اور بتلادیا کہ جسطرح اللہ کے حقوق کی ادائیگی میں کمی کرنا یا غفلت برتنا گناہ اور جرم عظیم ہے اسی طرح والدین کے حقوق کو پامال کرنا بھی گناہ کبیرہ اور عنداللہ مواخذہ کا سبب ہے
وقضی ربک ان لاتعبدوا الاایاہ وبالوالدین احسانا
والی آیت میں بھی فرمایا جارہا ہیکہ اس روے زمین پر سب سے بڑاگناہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹہرانا ہے یعنی شرک سب سے بڑا گناک ہے
ان الشرک لظلم عظیم
بالکل اسی کے برابر گناہ عقوق الوالدین یعنی والدین کی نافرمانی کرنا ان کے ساتھ بدسلوکی کرنا ان کے حقوق کو پامال کرنا ہے
والدین کا اولاد پر حق ہیکہ وہ ان کی خدمت کرے عزت کرے اور راحت پہونچاے کسی بھی طرح سے ان کو ایذاء اور تکلیف نہ پہونچاے
ہاں اگر ان کی طرف سے ہمارے حقوق کی ادائیگی میں کمی بیشی ہوجاے تو ہمیں اس پر صبر کرنے کی تعلیم دی گئ ہے ان سے مراجعہ کرنا اورسوال و جواب کرنا اپنی زبان سے بڑی بات کرنا یا ان کی تذلیل وتوہین کرنا ہمارے لےء درست نہیں بلکہ انہوں نےہمیں پیداکرکے اور پیدائش کے وقت مختلف قسم کے دردوکرب تکالیف اور ہریشانیوں کو برداشت کیا ہمیں پالا پوسا اور بڑاکیا تو ان کے اس احسان کو یادکرکے ہمیں خاموش رہنے کی تعلیم دی گیء ہے
دنیامیں ہر والدین اپنے بچوں سے بے حد محبت اورپیارکرتے ہیں بطورخاص ماں تو کسی قیمت پر اپنی اولاد کو تکلیف ومصیبت میں دیکھنا گوارا نہیں کرتی ہے بچوں کو پریشانی آتی ہے تو ایک ماں کا دل ہے جو تڑپ اٹھتا ہے
وہ ہرحال میں اپنی اولاد کو چین وسکون سے جیتا دیکھنا چاہتی ہے
حضورپاک علیہ السلام نے احادیث مبارکہ کے ذریعہ سے امت کے ایک ایک فرد کو بتلادیا کہ ماں کی قدرومنزلت کیا اس کے حقوق کیا ہیں ان کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہیے
ایک صحابی اپنی ماں کو کندھوں پہ بٹھاکر حج کے ارکان اداکروارہے تھے حضور علیہ السلام پر نظر پڑی تو آپ نے پوچھا اے
اللہ کے نبی میں اپنی والدہ کو اپنے سرپہ بٹھاکر طواف کیا ہے تو کیا میں نے ان کا حق اداکردیا
جس پر حضور نے ارشاد فرمایا کہ تم نے اچھاکام کیا لیکن اس کا حق ادانہیں کیا 30ماہ تک وہ مختلف ادوار سے گذرتی ہے اور تمہارے حمل ونقل رضاعت ودیگر مراحل میں اکیلی اس تکلیف کو برداشت کرتی ہے تم ا س کا کیا حق اداکرسکوگے جب اولاد بڑی ہوجاتی ہے اور شعور آجاتا ہے تو وہ اپنے ماں باپ کو فراموش کربیٹھتے ہیں بدقسمت ہے وہ انسان جس کے والدین زندہ ہوں اور وہ ان کو خوش کرکے ان کی خدمت کرکے اپنے آپ کو جنت کا مستحق نہ بنالیا ہوں
والدین کی دعاؤں میں اللہ تعالی نے قبولیت رکھی ہے اور ان کی بددعائیں معتبر بن جاتی ہیں اس لےء کبھی ان کو ناراض کرکے دل دکھاکے بددعاء کے مستحق مت بنو ہمیشہ ان کی دعائیں لیتے رہو
ایک ماں نے اپنے ایک فرمانبردار بیٹے کو ہمیشہ یہ دعاء دیاکرتی تھی کہ اللہ تجھے گاے کے وزن کے برابر سونا دے چنانچہ اس دعاء کو اللہ تعالی نے قبول کیا اور
قرآن مجید کے سورہ بقرہ میں بنی اسرائیل کا ایک واقعہ موجود ہے جس میں اللہ پاک نے قاتل کا نام جاننے کے لےء ایک گاے کو ذبح کرنے کا حکم دیا ہے
جس کاپس منظر یوں بیان کیا گیا کہ ایک انسان نے مال ودولت کی ہوس دل میں لےء ہوے اپنے چچا کو قتل کردیا تھا تاکہ اس کی ساری جائیداداور مال ودولت کو اپنے نام کرلے جب مقتول کے افراد خاندان کو علم ہوا تو انہوں نے قاتل کانام جاننے کے لےء حضرت موسی علیہ السلام کے پاس آے اورکہاکہ اللہ تعالی سے بات کرکے بتائیں کہ کس نے اس کا قتل کیا موسی علیہ السلام نے اللہ سے بات کی اللہ نے بذریعہ وحی حکم دیا کہ ان کو ایک گاے ذبح کرنے کا حکم دو چنانچہ اس مقتول کے افراد خاندان نےبہت تلاش کیا مگر ناکام ہوتے گےء اللہ تعالی کی بتای ہوی صفات والی گاے کہیں ان کو میسر نہیں آی
یہ بھی پڑھیں :❇️ حجاب تنـــــازعہ : درخواست گــــزار کے والــــد اور بھائی پر حملــــہ
البتہ ایک نوجوان تھا جس کے گذربسر کے لےء بس ایک ہی گاے تھی جواسی تمام صفات سے متصف تھی افراد خاندان نے اس سے یہ گاے خریدی جس کی قیمت یہ طےء کی گئ کہ اس گاے کے وزن کے برابر سونا دیا جاے تو میں گاے دوں گا
ان لوگوں کی تو مجبوری تھی ہی ا سکے علاوہ کوی چارہ کار نہ تھا سب افراد خاندان نے اپنے اپنے گھروں سے سونا لاکر جمع کیا اوراس نوجوان کو دے دیا گاے اس سے حاصل کرلی
مقصد واقعہ اینکہ ایک ماں نے کبھی اپنے بچہ کو دعاء دی تھی اللہ نے اس کو قبول کیا تھا اسی کے یہ راستے بناکر نوجوان کو سونا دلوادیا
اس لےء والدین کی دعائیں لینا خاص طور پر والدہ کی دعاء لینے کا اہتمام کرنا چاہیے جس کے لےء ان کی خدمت عزت اور احترام کرنا لازمی ہے
لیکن افسوس
کہ آج مسلم نوجوان بچے جوانی کے زعم میں آکر یا شادی ہونے کے بعد بیوی کی باتوں میں آکر یا نوکری لگ جاے تو مال ودولت کے غرور میں آکر ماں باپ کے احسانات کو فراموش کررہے ہیں بلکہ ان کے ساتھ بدسلوکی سے پیش آرہے ہیں
اللہ پاک سارے مسلمانوں کو والدین کی قدردانی کی توفیق عطاء فرماے ناقدری سے حفاظت فرماے