عاملانہ احکامات پر دستخط‘ سرحد پر کشیدگی باعث تشویش
‘ سلامتی کونسل سے مداخلت کرنے ہندوستان کی درخواست
نئی دہلی:22؍فروری
(اے ایم این ایس)
مشرقی یورپ میں یوکرین اور روس کے درمیان تنازعہ اب تک کے سب سے مشکل دور میں پہنچ گیا ہے یوکرین پر روس کے حملے کے بارے میں امریکی خدشات کے درمیان صدر ولادیمیر پوتن نے بڑا قدم اٹھایا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے یوکرین کے باغیوں کے زیر قبضہ عوامی جمہوریہ (DPR) اور لوگانسک عوامی جمہوریہ (LPR) صوبوں کو آزاد ملک تسلیم کر لیا ہے۔ پوٹن نے ٹیلی ویژن پر خطاب میں یوکرین کی حکومت، نیٹو افواج اور امریکی حکومت پر تنقید کی۔روسی صدر نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ یوکرین امریکہ کی کالونی بن چکا ہے جہاں کٹھ پتلی حکومت چل رہی ہے۔
ان کے اس فیصلے کے بعد یورپی یونین، نیٹو اور مغربی دنیا کے تمام ممالک روس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ۔ ادھر یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ صدر ولادی میر پیوٹن کے اس فیصلے سے نہ صرف یوکرین بلکہ مغرب سمیت پوری دنیا میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔
🇷🇺 Putin orders Russian troops into eastern Ukraine to ‘maintain peace’ after decree recognising two breakaway republics https://t.co/nMEPmRoNaT
— euronews (@euronews) February 22, 2022
میڈیا رپورٹس کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے ڈونیٹسک پیپلز ریپبلک (DPR) اور Lugansk People’s Republic (LPR) کو تسلیم کرنے سے متعلق ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے ہیں۔ روسی صدر نے ڈی پی آر کے سربراہ ڈینس پوشیلین اور ایل پی آر کے سربراہ لیونیڈ پاسنک کے ساتھ ایک معاہدے پر بھی دستخط کیے۔ روس، ڈی پی آر اور ایل پی آر کے درمیان یہ معاہدہ دوستی، تعاون اور باہمی مدد سے متعلق ہے۔
The escalation of tension along the border of Ukraine with the Russian Federation is a matter of deep concern. These developments have the potential to undermine peace and security of the region: India’s Permanent Rep to United Nations TS Tirumurti, at UNSC meet on Ukraine pic.twitter.com/LzJohFcIDv
— ANI (@ANI) February 22, 2022
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روس پر امن مذاکرات میں خلل ڈالنے کا الزام لگایا ہے۔ منگل کی صبح قوم سے خطاب میں، انہوں نے کسی بھی علاقائی رعایت کو مسترد کر دیا۔انھوں نے پیوٹن کے اس بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ڈرنے والے نہیں ہیں۔ زیلینسکی اب بھی مغربی حمایت کی امید رکھتے ہیں
منگل کو ہندوستان نے یوکرین کے معاملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کی میٹنگ میں اپنا موقف پیش کیا۔ اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندے ٹی ایس ترمورتی نے کہا کہ روس کے ساتھ یوکرین کی سرحد پر بڑھتی ہوئی کشیدگی گہری تشویش کا باعث ہے۔ یہ پیش رفت خطے کے امن و سلامتی کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
1) The US isn’t threatening war against Russia. 2) US and Ukraine have no defense agreement. There are no US bases there. 3) Putin has declared the two Ukranian provinces independent countries. 4) Putin appears to be planning to invade the entire country.
— Paul Falzer (@prf5) February 21, 2022
انہوں نے کہا کہ شہریوں اور طلباء کا تحفظ ضروری ہے۔ 20,000 سے زیادہ ہندوستانی طلباء اور شہری یوکرین کے مختلف حصوں میں رہتے اور تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ ہندوستان کے لوگ بھی اس کے سرحدی علاقوں میں رہتے ہیں۔ ہندوستانیوں کی بھلائی ہمارے لیے اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمام فریقین کو انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرنے اور بین الاقوامی امن و سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے سفارتی کوششوں کو تیز کرنے کی اہم ضرورت پر زور دیتے ہیں، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ باہمی دوستانہ حل جلد از جلد پہنچایا جائے
यूक्रेन के राष्ट्रपति वोलोदिमीर जेलेंस्की ने रूस पर शांति वार्ता को बर्बाद करने का आरोप लगाया और मंगलवार की सुबह के शुरुआती घंटों में राष्ट्र के नाम एक संबोधन में किसी भी क्षेत्रीय रियायत को ख़ारिज कर दिया है: रॉयटर्स की रिपोर्ट pic.twitter.com/Z3LHPjQMnq
— ANI_HindiNews (@AHindinews) February 22, 2022
دوسری جانب یہ خبر بھی ہے کہ یوکرین کے معاملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس ختم ہو گیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی اے این آئی کی رپورٹ کے مطابق اب یوکرین بحران پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کھلی میٹنگ ہوگی جس میں ہندوستان بھی ایک بیان کے ذریعہ اپنے موقف کا دفاع کرے گا۔