حقیقی ہندوتوادی ہوتا تو وہ جناح کو گولی مار دیتا۔ گاندھی کو گولی کیوں ماری؟سنجے راوت

تازہ خبر قومی

بی جے پی اور آر ایس ایس کی ٹرول فوج۔ اشوک گہلوت
راہل گاندھی کے ٹویٹ بعدملک میں سیاست گرم
نئی دہلی: 30؍جنوری
(اے ایم این ایس)
مہاتما گاندھی کے یوم شہادت پر کانگریس لیڈر راہل گاندھی کے ایک ٹویٹ پر ملک میں سیاست گرم ہو گئی ہے۔ اتوار کی صبح راہول گاندھی نے ٹویٹ کیا، ‘ایک ہندوتوادی نے گاندھی جی کو گولی مار دی۔ تمام ہندوتوادیوں کو لگتا ہے کہ گاندھی جی نہیں رہے۔ جہاں سچ ہے وہاں باپو زندہ ہے
!’ ان کے ٹویٹ کےشیوسینا کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے راہل گاندھی کے ٹویٹ پر کہا کہ اگر کوئی حقیقی ہندوتوادی ہوتا تو وہ جناح کو گولی مار دیتا۔ گاندھی کو گولی کیوں ماری؟ ان کا مزید کہنا تھا کہ جناح نے پاکستان کا مطالبہ کیا تھا، ملک کو تقسیم کرنے والے نے پاکستان کا مطالبہ کیا تھا۔ یعنی جناح کو گولی مارنی چاہیے تھی۔ اگر آپ میں ہمت ہوتی تو آپ جناح کو گولی مار دیتے۔  گاندھی کو گولی مارنا درست نہیں تھا۔

راہل گاندھی کے ٹویٹ کے بعد مہاراشٹر میں سیاسی دیو کے اہم حلقہ شیو سینا کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت کے طنز کے بعد راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت راہل کے بچاؤ پر آ گئے ہیں۔ مہاتما گاندھی کے 74ویں یوم شہادت کے موقع پر جے پور میں باپو کے مجسمہ پر پھول چڑھانے کے بعد وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے کہا کہ گاندھی جی کو قتل کر دیا گیا تھا۔ سب جانتے ہیں کہ قاتل کس نظریہ سے تعلق رکھتا تھا اور آج اسی نظریہ کے لوگ پارلیمنٹ کے ممبر بھی ہیں۔ گاندھی جی کےقتل پر پوری دنیا نے سوگ منایا۔ آج ملک میں تشدد، کشیدگی، بداعتمادی کا چرچا ہے۔

وزیر اعلی اشوک گہلوت نے مزید کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کی ٹرول فوج بنی ہوئی ہے جو عوام پر گرتی ہے۔ اختلاف کرنے والوں کو غدار بنا دیا جاتا ہے۔ یہ ملک کے ہر شہری کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

مہاتما گاندھی کے یوم شہادت کے موقع پر کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے ٹویٹ کرکے ملک کے سیاسی ماحول کو پوری طرح سے گرما دیا ہے۔ یوم شہدا کے موقع پر انہوں نے ٹویٹ کیا، ‘ایک ہندوتوادی نے گاندھی جی کو گولی مار دی۔ تمام ہندوتوادیوں کو لگتا ہے کہ گاندھی جی نہیں رہے۔ جہاں سچ ہے وہاں باپو زندہ ہے!’ ان کے اس ٹویٹ کے بعد سیاسی ماحول گرم ہونے کا امکان ہے۔

تاہم راہل گاندھی ماضی میں ہندوتوا پر حملہ کرنے کے بعد سیاسی طور پر گھرے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔ اس سے قبل گزشتہ سال 29 دسمبر کو راہول گاندھی نے کانگریس کے تین روزہ تربیتی کیمپ کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ جو ہندوتوا کے نظریہ پر یقین رکھتے ہیں، وہ کسی کے سامنے بھی جھکتے ہیں، وہ انگریزوں کے سامنے جھکتے ہیں۔ وہ پیسے کے آگے جھکتے ہیں، کیونکہ ان کے دل میں کوئی سچائی نہیں ہے۔