دلت نوجوان کو پیشاب پینے پر مجبور کرنے والے پی ایس آئی کو برخواست کا مطالبہ

بین الریاستی تازہ خبر

ایم ایل سی اروندکمارارلی کاوزیراعلیٰ کومکتوب
بیدر۔24مئی
(عبدالصمد منجوالا)
رکن قانون سازکونسل جناب اروندکمارارلی نے وزیراعلیٰ بی ایس یڈیورپا کو ایک مکتوب روانہ کیاہے۔ اور دلت نوجوان پر ہونے والے مظالم کی داستان بیان کرتے ہوئے خاطی پی ایس آئی ارجن کوملازمت سے برخواست کرنے کامطالبہ کیاہے۔

تفصیلات کے بموجب اروندکمارارلی نے اپنے مکتوب میں لکھاہے کہ پچھلے ہفتہ چکمگلور ضلع کے موڈ بیدرے تعلقہ کے گونی بیڈن پولیس اسٹیشن کے حدود میں آنیو الے گرام پنچایت کے رہائشی دلت فرد کے ایل پنیت کوکسی ایک کیس میں بغیر کسی وجہ کے ماراپیٹا گیا۔یہاں تک کہ پاؤں کو رسی باندھ کر الٹالٹکاکر بے تحاشہ ماراگیا۔

دلت نوجوان نے جب پٹائی سے بے حال ہوکر پیاس لگنے پرپانی مانگاتووہاں موجود ایک چور سے کہاگیاکہ اس کو پانی چاہئیے تو اس کے منہ میں پیشاب کر۔ کہاجاتاہے کہ اس دلت نوجوان کونیچے گراکراس کے منہ میں پیشاب کیاگیا۔یہ ظلم اس حدتک بڑھ گیاکہ پیشاب کے جوقطرے نیچے گرگئے تھے ان قطروں کوچاٹنے پربھی مجبور کیاگیا۔

ذات پات کو بنیاد بناکر اس طرح کا انتہائی گھناؤنا قدم اٹھانے والے پی ایس آئی ارجن کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ مسٹرایم ایل سی نے وزیراعلیٰ سے مکتوب کے ذریعہ مطالبہ کیاہے کہ اس طرح کی غلط اور گھناونی ذہنیت رکھنے والے پی ایس آئی ارجن کو ملازمت سے فوری برخواست کیاجائے۔ اس کے خلاف اٹراسٹی مقدمہ درج کیاجائے اوراس واقعہ کی اعلیٰ سطحی تحقیقات بھی ہونی چاہیے۔اتناہی نہیں چکمگلور کے ایس پی کے توسط سے اس کے خلاف کاروائی کی جائے۔

ضلع سماج کلیان افسر نے اس معاملے میں اپنے فرائض سے کوتاہی برتی ہے اس لئے اس کے خلاف بھی کارروائی ضروری ہے۔ موصوف نے لکھاہے کہ پی ایس آئی ارجن کواواوڈی(OOD) دینا سزا نہیں ہے بلکہ پہلے اس خاطی افسرکے خلاف کیس درج کیاجائے اور اس کو ملازمت سے فوری برخواست کیاجائے۔ اگر حکومت ایسانہیں کرتی ہے تو منظم احتجاج کے لئے تیار رہنے ایم ایل سی نے انتباہ دیاہے۔