ریاض :9 / مارچ
(زین نیوزویب ڈیسک)
سعودی عرب نے مشرقی بندر گاہ پر تیل تنصیبات کے قریب ڈرون اور میزائل حملے کی تصدیق کر دی۔سعودی وزارت توانائی نے مشرقی بندر گاہ پر تیل تنصیبات کے قریب ڈرون اور میزائل حملے کی تصدیق کی تاہم کسی جانی یا مالی نقصان کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔
اس سے پہلے سعودی اتحادی فورسز کہنا تھا کہ حوثی باغیوں کے ڈرون حملوں کے بعد یمن میں حوثیوں کے عسکری ٹھکانوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔حوثی ملیشیا نے اتوار کی صبح سعودی عرب کی جانب بارود سے بھرے 12 ڈرون بھیجے تھے جنہیں اتحادی فورسز نے تباہ کردیا تھا۔
سعودی عرب کی اہم تیل تنصیبات بڑے نقصان سے بچ گئی ہے ۔ سعودی وزارت دفاع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ یمن کی حوثی ملیشیا کی جانب سے گزشتہ روز راس تنورہ کی بندرگاہ پر سعودی پٹرولیم کمپنی ‘ارامکو’ کے ایک پٹرول اسٹیشن کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تاہم اس میزائل کو ہدف پر پہنچے سے کچھ لمحوں پہلے فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔
اگر یہ میزائل آئل اسٹیشن پر جا گرتا تو اس سے سے بڑی تباہی ہو سکتی تھی۔ اس کے علاوہ جانی نقصان کا بھی اندیشہ تھا کیونکہ یہ آئل تنصیب گنجان آباد علاقے میں واقع ہے ۔ تیل کو آگ لگنے کی صورت میں بڑے پیمانے پر تباہی ہو سکتی تھی۔
سعودی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ سعودی ایئر فورسز نے یہ حملہ ناکام بنا دیا ہے ۔یہ آئل اسٹیشن سعودی شہر ظہران میں سمندر کنارے واقع ہے ۔اگرچہ بیلسٹک میزائل کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا تاہم اس کے کچھ ٹکڑے آبادی پر آ گرے ۔
خوش قسمتی سے کوئی شہری ان کی زد میں نہیں آیا۔ واضح رہے کل سعودی شہر الظہران میں شدید دھماکوں کی آواز سنی گئی تھی ہے ۔مقامی افراد نے بتایا کہ انہوں نے زور دار دھماکے کی آواز سنی تھی، جس کی وجہ سے کھڑکیاں لرز اُٹھیں۔
سعودی آئل کمپنی آرمکو نے مقامی افراد کی جانب سے سنے گئے زور دار دھماکوں کی آوازوں کے حوالے سے کسی قسم کی رائے کا اظہار نہیں کیا ہے ۔
تاہم وزارت دفاع نے اس معاملے کی تصدیق کر دی ہے ۔ اس بیلسٹک میزائل کے حملے کے علاوہ صرف پانچ گھنٹے میں بارود سے لدے دس ڈرون بھی بھیجے گئے ۔ جن کا ہدف سعودی عرب کے مختلف شہر تھے ۔ ان تمام ڈرونز کو بھی ہدف پر پہنچنے سے پہلے تباہ کیا گیا ہے ۔ اتحادی افواج کے ترجمان کرنل تُرکی المالکی کا کہنا تھا کہ حوثی دہشت گرد ملیشیا نے جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے ۔
ہم بین الاقوامی قانون کے مطابق شہریوں اور شہری اہداف کے تحفظ کے لیے آپریشنل اقدامات کر رہے ہیں۔
