شبنم کی جدائی نے ‘ جیل کی تنہائی نے۔سالم کو شاعر بنادیا

تازہ خبر قومی

گرل فرینڈ شبنم کو بچانےکے لئے پنج وقتہ نمازوں میں دعائیں
نئی دہلی:6؍جولائی
(عمران زین)
کہتے ہیں محبت اندھی ہوتی ہے‘ محبت کو پانے کے جنون میں انسانیت کی حد سے گزرتے ہوئے شیطانی کاموں کو انجام دیاجا رہا ہے جس سے پوری انسانیت آئے دن شرمسار ہوتی جارہی ہے۔ اپنے معشوق کی خوشی اور اُ س کو پانے کے لئےعاشق کوئی بھی حدوں سے گزرتے ہوئےہر کوئی کام کرجاتا ہے جس کی خاطر کبھی خود کو قربان کردیتا ہے یا پھر پانے کے لئے دوسروں کی جان کا دشمن بن جاتاہے

ایسا ہی ایک واقعہ 2008 میں پیش آیا تھا۔ شبنم سالم کی محبت کی کہانی اور ان کی خونی تاریخ کو کون نہیں جانتا ہے۔امروہہ کے قریب حسن پورٹاون سے متصل باون کھیڑی کے عوام کو آج بھی یہ لرزہ خیز واقعہ یاد ہے۔اتر دیش کے امروہہ سے تعلق رکھنے والی شبنم اپنے عاشق سالم کے ساتھ ملکر اپنے ہی خاندان کے سا ت افرادقتل کیا تھا شبنم نے یہ دردندہ صفت حرکت اس لئے کی تھی کہ یہ افراد اسکے محبت کے راستہ میں حائل ہورہے تھے۔

اس واقعہ کے دونوں ملزمان ان دنوںسرخیوں میں ہیں سال گذشتہ فروری میں شبنم کو تختہ دار پر لٹکانے کی تیار یاں شروع کی گئیں تھیں تاہم کچھ دنوں بعد اسکی پھانسی کی تاریخ عارضی طورپر پھر ٹل گئی ہے

ا ب شبنم کا عاشق سالم اخبارو ں کی زینت بنا ہوا ہے فی الوقت شبنم بریلی کی جیل میں اور سالم اگرہ کی جیل میں محروس ہے۔شبنم اور سالم کودونوں کو با باون کھیڑی قتل کیس میں سزائے موت سنائی گئی تھی ۔شبنم اور سالم نے صدر جمہوریہ ہند کے پاس درخواست رحم دی تھی مگر اس کو بھی مسترد کرد یا گیاہے

‘ سالم ان دنوں اپنی گرل فرینڈ شبنم کو بچانے کے لئے خدا سے دعا ئیں کر رہا ہے۔ جب سے شبنم کو پھانسی دئیے جانے کا معاملہ پھر منظر عام پر آیا تھا۔

سالم کو انتظامی وجوہات کی بناء پر بریلی جیل سے نینی سینٹرل جیل میں منتقل کیا گیاجہاں اس کو ویران کوٹھریوں میں رکھا گیا ہے۔ شبنم سے علیحدگی ‘ جدائی اور جیل کی تنہائی نے سالم کو شاعر بنا دیا ہے۔ اس نے اب جیل میں لکھنا اور پڑھنا شروع کیا ہے۔اور شبنم کی یاد میں شاعری بھی کرنے لگا ہےجیل عہدیداروں کے مطابق اس کے طرز عمل میں بدلاؤ آنے لگا۔

وہ پنج وقتہ نمازوں کی پابندی کرنے لگا ہےاور نمازوں میں اپنی گرل فرینڈ شبنم کو بچانے کے لئے دعا کرتا ہے۔جیل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سالم جیلوں میں رہتے ہوئے پڑھنا لکھنا سیکھ لیا ہےتعلیم یافتہ ہونے کے باوجود سالم ان دنوں جیل میں نظمیں لکھتا ہے شاعری کرتاہے‘ وہ ہندی میں لکھتا ہے لیکن اُردو زبان کا استعمال کرتے ہوئے اشعار لکھتا ہے

جیل انتظامیہ کے مطابق سالم نے شبنم پر ایک درجن سے زائد اشعار لکھ ڈالے۔جیل کے قیدیوں کا کہنا ہے کہ شبنم کے پیار کی وجہ سے وہ ایک شاعر بن گیا۔سالم اخبارات اور رسائل میں اسکے اور شبنم کے متعلق چھپی خبروں اور تصویروں کو اپنے سینے سے لگائے رکھتا ہے اس نے ڈھیروں تصویریں شبنم کی جمع کر رکھی ہیں۔سالم پہلے محبت میں قات بنا اورپھر اسی محبت نے اسے شاعر بنادیا۔