شب برأت اور رحمت الہی سے محروم لوگ

تازہ خبر مذہبی مضامین

ازقلم : عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماءہند نظام آباد
9505057866
شعبان کی پندرہویں شب کو شب برأت اور لیلۃ البرأت کہا جاتا ہے اس رات کے سلسلہ میں امت مسلمہ میں بہت ساری غلط فہمیاں اور افراط وتفریط پایا جاتا یے لیکن حق یہ ہیکہ اس حوالہ سے راہ اعتدال کو مان کر اس رات کی فضیلت کواسی حد تک مانا جاے جہاں تک ثبوت ہے اور ہر اس عمل سے اجتناب کیا جاے جس سے زیادتی بے جا فضیلت ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے
اس سلسلہ میں وارد احادیث کو جمع کیاجاے تو قدرے مشترک طور پر فضیلت ہی معلوم ہوتی ہے ہاں البتہ خاص قسم کی کوی طریق عبادت یا خاص قسم کے پکوان کو لازم کرلینا حد سے تجاوز کرنے کے مترادف ہے اسی طرح زیارت قبور کو بھی دائمی طور پر اعمال شب برأت میں سمجھاجانا بھی تجاوز عن الحدود کہلاتاہے

اس رات کی فضیلت میں وارد ہوا ہیکہ اللہ تعالی قبیلہ بنوکلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد میں اپنے کو معاف فرماتے ہیں اور عام بخشش کا اعلان فرماتے ہیں بہرکیف مغفرت وبخشش کے اس اعلان عام کے باوجود بھیاس فضیلت والی رات میں باری تعالی کی رحمت سے چند لوگ محروم رہتے ہیں جس کی جانب ہمیں توجہ کرنے کی ضرورت ہے اور اپنے آپ کو ان محروم القسمت لوگوں میں شمار کےء جانے سے بچنے کی ضرورت ہے

1)مشرک کی مغفرت نہیں ہو گی
شرک اس روے زمین کا سب سے بدترین اور خبیث ترین جرم اور گناہ ہے خواہ وہ شرک اللہ تعالی کی ذات کے علاوہ کسی دوسرے کو مان کر ہوں یا اللہ کے ساتھ اس کے اعمال وافعال اور صفات میں کسی دوسرے کو شریک کرکےہوں ہر دواعتبار سے یہ ناقابل معافی جرم ہے ہمارے مسلم سماج اور معاشرہ میں اس قسم کی بہت ساری واہیات اور غلط عقائد سرایت کررہے ہیں مثلا قبرپرستی یا اہل قبر کو مشکل کشا وحاجت روا سمجھنا یاکسی ولی کامل کو اپنا کام بنانے یا بگاڑنے والاسمجھنا قبروں پر سجدہ کرنا وغیرہ عام ہوتا جارہا ہے جس سے اجتناب کرنا ضروری ہے چونکہ یہ شرک ہے جو عنداللہ معافی کے قابل نہیں ہے ہم اپنے موٹے ذہنوں سے اس بات کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ دنیا میں کوی بھی کاریگر اپنی کاریگری میں کسی دوسرے کو شریک کرنا پسند نہیں کرتا ہے تو وہ باری تعالی جو خالق کائنات ہے اس نء دنیا جہاں کو بنایا وہی عبادت کے لائق ہے تو وہ کیسے عبادت یا افعال میں دوسرے کی شرکت کو گواراکرسکتا ہے قرآن مجید اور احادیث نبویہ کی طویل ترین آیات واحادیث اس کی قباحت وشناعت میں وارد ہوی ہیں ہمیں ان کو پڑھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے

2)کینہ رکھنے والاکینہ یہ ہلاک کرنے والی بیماریوں میں سے ایک بیماری ہے جو انسان کےدل کے اندر پای جاتی ہے اکثر وبیشتر لوگ محض اپنی انانیت کی خاطر اس گناہ بے لذت میں مبتلا ہوجاتے ہیں جس کا ان
کو احساس بھی نہیں ہوتا ہے جس طرح ظاہربدن کو امراض لاحق ہوتے ہیں اسی طرح اندرون میں بھی امراض لاحق ہوتے ہیں جنمیں سے ایک بہت بڑی اور محسوس نہ ہونے والی بیماری کانام حقد اور کینہ ہے قرآن واحادیث میں سختی سے اس بیماری سے بچنے کی تلقین وتاکید فرمای گیء ہے محض نفسانیت کی بنیاد پر انسان دوسرے انسان سے اپنے سینہ کو کینہ سے بھرلیتاہے آج معاشرہ میں کیا عوام کیا خواص ہر کوی اس ہلاک کرنے کی بیماری میں ملوث ہے اور بہت کم لوگ ہیں جو بزرگان دین واہلناللہ سے تعلق پیداکرکے اپنے دل کی اس بیماری کا علاج کروانے کی فکر کرتے ہیں ایسے لوگ بھی اس رات میں رحمت الہی سے محروم کردییے جاتے ہیں

3)ناحق کسی کوقتل کرنے والاایک دوسرے کا قتل ناحق بھی آج دنیا میں عام ہوچکا ہے روزآنہ اخبارات کی سرخیوں میں چھپنے والی اگر کوی خبر ہے تو وہ قتل ناحق ہے آے دن یہ واقعات بڑی تیزی سے رونما ہورہے ہیں مال ودولت کی بنیاد پر یا اپنے حقوق کے حصول کہ بنیاد پر یا جائیداد میں اپنا حصہ نہ ملنے یا کم ملنے کو بہانہ بناکر انسان ایک دوسرے کا قتل کرنے پر اڑے ہوے ہیں حالانکہ باہمی مفاہمت سے بآسانی ان مسائل کاحل نکل سکتا ہے شوہر بیوی کی آپسی معمولی تکرار کو بنیاد بناکر قتل کے درپے آزار ہونا بھی ایک فیشن بن چکا ہے ایسے لوگوں کو سمجھ لینا چاہیے کہ شرعی حدود وجنایت کے بغیر جو بھی قتل ہوگا وہ قتل ناحق کہلاے گا جس کے مرتکب کی اس رات میں معافی نہیں ہوگی

4)بدکارعورت بدکاری یعنی نافرمان اور ناشیزہ عورت جو اپنے دین اور شریعت کی خلاف ورزی کرکے اپنے شوہر کی بغاوت پر اترآی ہوں اور اس کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اپنی خواہشات کی تکمیل کا پیشہ بنالی ہوں اور شوہر کا حق اداکرنے اس کے دل کی تسکین بننے کے بجاے دوسرے مردوں پر نگاہ جمای ہوی ہوں خواہ زنا کی مرتکب ہوں یا محض تسلی دل کا ساماں کرتی ہوں ایسی عورت کو بھی آج کی اس فضیلت والی رات میں رحمت الہی سے محروم رکھا جاے گا آج اگردیانتداری سے کام لیاجاے تو ہماری مسلم لڑکیاں اس گناہ میں بے تحاشہ مبتلاہوکر غیر مرد تو درکنار بے دین اور اغیار سے عشق لڑاکر ان سے شادیاں رچارہی ہیں جو ہمارے سماج کے لےء ایک بدنما داغ بن کر اپنی اپنے والدین اور خاندان کی عزتوں کو نیلام کررہی ہیں تعلیم کے نام یا آپسی تفریح کے نام پر آج لڑکیاں بدکار بنتے ہوے ارتداد کا بھی شکار ہوتی جارہی ہیں

5) قطع رحمی کرنے والااللہ تعالی نے رشتوں کو جوڑنے اور ایک دوسرے کے دکھ درد کو سمجھنے کے لےء صلہ رحمی کرنے کا حکم دیابلکہ عربی زبان میں رشتہ داریوں کو رحم کہا جاتا ہے جو رحمان اور رحیم سے بنا ہے جو اللہ تعالی کے خاص نام ہیں جو بندہ اس رحم یعنی رشتوں کا.پاس ولحاظ نہیں رکھتا اور قطع رحمی کا ارتکاب کرتا ہے تو وہ سمجھ لے کہ وہ انسانوں سے نہیں بلکہ اپنے رحمان اور پروردگارسے رشتہ توڑ رہا ہےہمیں یہ بات نہیں بھولنا چاہیے کہ رشتے مشکل سے بنتے ہیں اور لوگ اس کو معمولی سمجھ کر اتنی ہی آسانی سے توڑدیتےہیں شوہر بیوی کے درمیان معمولی سی نااتفاقی کو بنیاد کر آج کئ لڑکیوں کے سہاگ کو اجاڑا جارہا ہے اللہ پاک سب کی حفاظت فرماے

6)المسبل الازارکپڑے کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والاشخص بھی محرومیوں کی فہرست میں آجاتا ہے عورت کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو مکمل مستوررکھے سر سےلیکر پاؤں تک ڈھکی ہوی ہوں ٹخنوں کو بھی چھپالے لیکن مرد آدمی کے لےء حکم ہیکہ وہ اپنے کپڑوں کو ٹخنوں کے اوپر تک ہی رکھے اس سے نیچے لٹکانا حرام ہے موجب عذاب اور باعث محرومی ہے عجیب حال ہے ہم لوگوں کا کہ کیچڑ اور پانی سے بچانے کے لےء تو اپنے کپڑوں کو سمیٹ لیتا ہے لیکن جہنم کی آگ سے بچانے کے لےء کپڑے کو اوپر کرنے کے لےء محض تکبر اور شوق کی بناء پر معیوب سمجھتا ہے کیا جہنم کی آگ سے بڑھ کر دنیاکاکیچڑ اور پانی ہوگیا ہے ؟خدارااس گناہ بےلذت سے بھی اپنے آپ کو بچانے کی فکر کریں اور رحمت الہی کے قریب ہوجائیں

7)مدمن الخمرشراب کا عادی انسان بھی اس رات میں رحمت الہی سے دورکردیا جاتا ہے شراب اور ہر وہ چیز جس سے انسان کو نشہ حاصل ہوتا ہے وہ سب شریعت نے حرام قراردے دیاہے شراب کو تو ام الخبائث کہ کر انسانیت کو اس سے بچنے کی تلقین وتاکید کی گیء ہے چونکہ شراب ہی کی وجہ سے سارے گناہ انسان سے صادر ہوتے ہیں آج نوجوان طبقہ شراب نوشی اور مختلف قسم کی نشہ آور اشیاء کا استعمال محض شوقیہ انداز میں کرنے کا عادی ہوچکا ہے جس کو وہ فیشن اور ماڈرن تہذیب سمجھ کر گناہ ہونے کاخیال ہی دل سے نکال دیاہے اوراپنی محفلوں ومجلسوں کی زینت بناکر اس کو رواج دیا جارہاہے ہر وہ چیز جس سے نشہ آجاے شریعت کی نظر میں وہ شراب ہی ہے اور حرام قطعی ہے جس کا مرتکب بھی رحمت الہی سے دور کردیا جاتاہے

8)عاق الوالدین والدین کا نافرمان شخص اس رات کی فضیلت کے باوجود مغفرت خداوندی سے محروم کہلاے گا والدین اس دنیا میں انسان کے وجود میں آنے کا ظاہری سبب ہے نیز پیدائش سے قبل کے دشوارگزار مراحل ولادت ورضاعت کے کٹھن لمحات پال پوسی کے ایام ان سب حالات میں والدین اپنی اولاد کی خاطر اپنی خوشیوں اور راحت کو قربان کرکے اولاد کی دیکھ بھال کرتے ہیں اس کو پروان چڑھاتے ہیں طفولیت سے بلوغت اس کے بعد تعلیم وتربیت اور شادی بیاہ تک سب کچھ والدین ہی کی قربانیاں ہوتی ہیں اس کے باوجود جب وہ دوکوڑی کمانے کے قابل بن جاتاہے تو سب کچھ اپنے آ پ کو ہی سمجھ لیتا ہے اور والدین کی تعظیم وتوقیر ان کی عزت واحترام کی فکر وپرواہ کیے بغیر ہی زندگی گذارنے لگتاہے حالانکہ والدین کا مقام ومرتبہ کسی بھی انسان سے پوشیدہ نہیں ہے

انہی کی رضا مندی سے رب کی رضا اور ان کی ناراضگی سے رب کی ناراضگی وابستہ ہے پھر کیوں یہ انسان ان کی قدر ومنزلت کو نہیں سمجھ پاتا اور اپنے بچپن کو فراموش کرکے سب کچھ اپنے آ کو سمجھ لیتا ہے مسلم معاشرہ میں والدین کی نافرمانی کا یہ روگ بھی بہت عام ہورہا ہے ضرورت اس بات کی ہیکہ ہم اپنے سماج ومعاشرہ کو ہر قسم کی نافرمانیوں سے روکنے کی فکرکریں بطور خاص وہ گناہوں سے ہم اپنے آپ کو اپنے معاشرہ کو دور رکھیں جن کی بناء پر بندہ اس فضیلت والی رات میں بھی رحمت الہی سے دور رکھا جاتا ہے اللہ پاک توفیق عمل نصیب فرماے آمین