جگتیال ضلع میں تیز اور موسلا دھار بارش کی تباہ کاریاں

تازہ خبر تلنگانہ
 سیلاب زدہ علاقوں سے لوگوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی
تمام ذخائر آب لبریز۔ تالابوں کے پشتوں میں شگاف پڑنے کا خدشہ
ریاستی وزیر کوپولا ایشور نے صورتحال کا جائزہ لیا
جگتیال : 13؍جولائی
(زین نیوز)
جگتیال ضلع بھر میں آج پانچویں دن بھی موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری ہے۔جس کی عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہےعوام کوکافی مشکلات کا سامنا کرناپڑ رہا ہے نشیبی علاقوں میں پانی بھرنے کی وجہ عوام کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے نچلے سطح کے علاقہ مکمل زیرآب ہوتے جارہے ہیں کئی مواضعات میں پانی داخل ہوچکا ہے کئی شاہرائیں مسدود ہوتی جارہی ہے۔ضلع جگتیال کے منڈل کورٹلہ‘ مٹ پلی‘ دھرم پوری‘ رائیکل‘ میڈپلی‘ گُلہ پلی کے علاوہ دیگرمنڈل شدید بارش کی وجہ سے متاثر ہیں
قومی شاہراہ نظام آباد پربھی گاڑیوں کی آمد و رفت متاثر ہوئی ہے ضلع کلکٹرجگتیال جی روی ‘ ضلع ایس پی سندھو شرما’ ایڈیشنل کلکٹر مجالس مقامی جے ارونا سری ‘ آر ڈی او  مادھوری‘  کے علاوہ دیگر عہدیداران ‘ رکن اسمبلی جگتیال ڈاکٹر ایم سنجے کمار‘ ایم ایل سی ٹی جیون ریڈی ‘  مختلف مقامات کا دورہ کرتے ہوئے معائنہ کیا مختلف محکموں کے افسران کو عوام کے لئے دستیاب رہنے کی ہدایت بھی دی ہے۔ اور کہاکہ سیلاب زدہ علاقوں میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے۔ صفائی ستھرائی کا ہر روز مناسب انتظام کیا جائے اور موسمی بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں۔
مسلسل بارش کے سبب عوام کو مشکلات پیش آرہی ہیں۔اس دوران محکمہ پولیس پوری طرح متحرک ہیں اور مواضعات کادورہ کرتے ہوئے حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔وہیں  عوام بھی گھروں میں رہنےکی ترجیح دے رہے ہیں اور انتظامیہ کی جانب سے بھی عوام کو گھروں میں رہنے اور شدید ضرورت کے وقت ہی باہر نکلنے کا مشورہ دیا جارہا ہے۔ضلع کلکٹر جی رو ی نے ضلع میں بہنے والے ندی نالوں اور مکمل تالابوں کی وجہ سے کسی بھی حادثے کو روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور بہتے پانی والے پلوں پر ٹریفک کو روکنے کا حکم دیا۔ مسلسل بارش کی وجہ سے پنچایتی سڑکوں، آر اینڈ بی سڑکوں اور دیگر نقصانات کی تفصیلات پیش کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔انہوں نے ضلع ایس پی کے ہمراہ دھرم پوری رائے پٹنم پہنچ کر گوداوری ندی میں پانی کی سطح اوربہاؤ کا معائنہ کیا۔
ضلع کلکٹریٹ اور پولیس ہیڈکوارٹر میں ایمرجنسی کے موقع رابط کرتے ہوئے مدد حاصل کرنے کے لئے کنٹرول کا قیام عمل میں لایا گیا ہے اور ہیلپ لائن نمبر بھی جاری کیا گیا ہے اور شدید ایمرجنسی کے وقت ہیلپ لائن نمبرات پر ربط کرنے عوام کو مشورہ دیا گیا ہے۔کلکٹر نے بتایا کہ ضلع کے 3 ڈویژنوں میں کنٹرول روم قائم کیے گئے ہیں اور لوگ ریونیو ڈویژن کنٹرول روم نمبر 7702492610، میٹ پلی کنٹرول روم نمبر 9000068092، کوروٹلا کنٹرول روم نمبر 9985252016 پر کال کر کے اپنے مسائل کی اطلاع دے سکتے ہیں۔
ریاستی وزیر سماجی بہبود کے وزیر کوپولا ایشور نے ضلع کلکٹر اور ضلع ایس پی کے ساتھ دھرم پوری میں دریائے گوداوری کے بہاؤ کا معائنہ کیا۔ بعد میں وزیر نے وہاں صحافیوں کو بتایا کہ ریاست بھر میں ہو رہی موسلادھار بارش کی وجہ سے جگتیال ضلع میں ندی نالوں میں طغیانی آ گئی ہے اور ندیاں بہہ رہی ہیں۔
وزیر نے کہا کہ ایس ایس آر ایس پی اور کڈیم پراجیکٹس سے بڑے پیمانے پر پانی کا اخراج ہوگا اور ہمارے ضلع میں ہونے والی تیز بارش اس میں اضافہ کرے گی۔ وزیر نے کہا کہ سی ایم کے سی آر کے حکم کے مطابق وقتاً فوقتاً ضلع کی صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے اور جانی نقصان سے بچنے کے لیے مسلح اقدامات کیے گئے ہیں۔
ریاستی وزیر نے کہا کہ لوگوں کو ان حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرنا چاہئے جنہوں نے اس وقت ایسے ناخوشگوار واقعات سے بچنے کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کی ہیں جب ضلع میں بارش ہو رہی ہے۔جگتیال ضلع میں 3 دن تک موسلادھار بارش کے امکانات ہیں، ریاستی وزیر نے لوگوں سے کہا کہ وہ صرف ایمرجنسی کی صورت میں ہی باہر نکلیں اور لوگ آفت کے وقت حکام کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔

انہوں نے این ٹی و ی رپورٹر محمدضمیر الدین کے بہہ جانے پر اپنے دکھ کا اظہار کیا۔ کہا کہ سیلاب کے دوران کسی بھی قسم کی آفت سے نمٹنے کے لیے ضلعی انتظامیہ چوکس ہے اور ضلع کے تمام محکموں کے افسران کی جانب سے بروقت کام کو انجام دینے کی وجہ سے زیادہ نقصان سے بچنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔ وزیر موصوف نے تجویز دی کہ عوامی نمائندے محلے میں رہیں اور ہر وقت صورتحال پر نظر رکھے۔

ضلع کلکٹر جی روی نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ایس ایس اے آر ای ایس پی پروجیکٹ اور کڈیم پروجیکٹ سے بڑے پیمانے پر سیلاب آنے کے پیش نظر جگتیال ضلع میں گوداوری کا تقریباً 7 لاکھ کیوسک پانی بہہ رہا ہے اور بھاری بارش کی وجہ سے مزید ایک لاکھ کیوسک سیلاب کا امکان ہے۔ بارش مقامی طور پر گر رہی ہے. کلکٹر نے کہا کہ جگتیال ضلع میں گوداوری ندی کیچمنٹ کے 10 دیہاتوں سے 2300 لوگوں کو محفوظ مقامات پر آباد کاری کے مراکز میں منتقل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع کے 1100 تالابوں میں سے 750 تالاب اوور فلو ہو رہے ہیں۔کلکٹر نے لوگوں سے کہا کہ وہ حکام کی ہدایات پر عمل کریں اور چوکس رہیں۔
ایس پی سندھو شرما نے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے 37 سڑکوں پر ٹریفک بند کر دیا گیا ہے اور لوگ غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلیں بلکہ سڑکوں پر خطرے میں سفر نہ کریں۔
شہر جگتیال میں مسلسل موسلا دھار بارش کی وجہ سے سڑکیں جھیلوں میں تبدیل ہوچکی ہیں۔محلہ محبوب پورہ‘ ستاری پیٹ ‘ پیارے بھائی اسٹریٹ‘ گنج  اور دیگر محلہ جات میں مکانات بھی منہدم ہونے کی اطلاعات ہیں‘ سلیمی گارڈن علاقہ میں جہاں مکانات زیر آب آگئے ہیں اورجن کے مکانات بوسیدہ اور دیواریں مخدوش ہیں انھیں مسلم شادی خانہ قلعہ گڈ ہ جگتیال میں منتقل کیا جارہا ہے شہر جگتیال کے مسلم نوجوان رضاکارانہ طور ایسے لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے کام میں لگے ہوئے ہیں ۔ سلیمہ گارڈن کے علاقہ سے لوگوں کو مسلم شادی خانہ قلعہ گڈہ جگتیال منتقل کیا جارہا ہے۔‘ مرکزی کمیٹی امارات ملت اسلامیہ جگتیال محمد عبدالباری نے بھی مسلمانا ن جگتیال سے بارش کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور گھروں میں رہنے کی تلقین کی ہے
 مصیبت اور پریشانی کی اس گھڑی میں شہر جگتیال کے نوجوان رضارانہ طور پر عوام کو محفوظ مقامات پرپہنچارہے ہیں سلیمہ گارڈن سے قریب واقع کنڈلہ پلی تالاب میں پانی کی سطح میں بے تحاشہ اضافہ ہونے کی اطلاع پر آج صبح رکن اسمبلی جگتیال ڈاکٹر ایم سنجے کمار، رکن قانون ساز کونسل مسٹر ٹی  جیون ریڈی عہدیداروں کے ہمراہ پہنچ کر معائنہ کیا۔
عہدیداروں نے بتایا کہ تالاب میں پانی کے اضافہ کی وجہ تالاب کے پشتہ میں شگاف پڑنے کے امکانات ہیںرکن قانون ساز کونسل مسٹر ٹی جیون ریڈی نے ضلع کلکٹر جی روی سے بات کرتے ہوئے حالات سے واقف کرواتے ہوئے حفاظتی اقدامات کرنے کی خواہش کی ہے
 ضلع جگتیال کے مٹ پلی منڈل میں بھی  موسلا دھار بارش کی وجہ سے صورتحال بہت تباہ ہےکئی علاقے زیر آب آگئے ہیں مٹ پلی کے محلہ جات دین دیال نگر اور ربانی پورہ میں تقریباً 25 مکانات میں بارش کا پانی گھروں میں 4 فٹ تک  داخل ہوگیا ہے جس کی وجہ پکوان کا سامان تباہ ہوگیا اور دیگر سامان پانی میں بہہ گیا۔مکانات میں پانی داخل ہونے کی وجہ سے تقریباً 100 افراد گھروں میں پھنسے ہوئے ہیں جنھیں محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی سیاسی قائدین کی جانب سے حکومت اور ضلع انتظامیہ سے خواہش کی گئی ہے