معصوم ماں کی گود میں تڑپ تڑپ کر دم توڑ گیا نہ تو ڈاکٹر ملا اور نہ ہی علاج

تازہ خبر قومی
 جبل پور کے ہسپتال میں دل کو جھنجھوڑنے والا واقعہ
 جبل پور:یکم؍ستمبر
(زیڈ این ایم ایس)
مدھیہ پردیش کے جبلپورسے ایک دل کو جھنجھوڑنے اور حکومت کے دعوؤں کی قلعی کھولنے والا ایک ویڈیو منظر عام پر آیا ہے ڈاکٹروں کی عدم موجودگی سے ایک پانچ سالہ لڑکا اپنی  جان گنوا بیٹھا ۔ ماں بار بار بیٹے کو اٹھنے کو کہتی رہی ‘ روتی رہی لیکن لڑکا ماں کی گود میں موت کی نیند سوگیا
جبل پور میں ایک ماں اپنے 5 سالہ بیمار بیٹے کو گود میں لیے ہسپتال کے باہر بیٹھی رہی۔
ایک معصوم بچہ مرکز صحت کے باہر ماں کی گود میں تڑپ تڑپ کر دم توڑ گیا کیونکہ اسے نہ تو ڈاکٹر مل سکا اور نہ ہی علاج۔ اس واقعہ کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے، جس میں خاتون ہسپتال کے باہر روتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔جو سوشل میڈیا پر تیزی کے ساتھ وائرل ہورہی ہے
سابق وزیر اعلیٰ مدھیہ پردیش کمل ناتھ نے اپنے ٹویٹر ہینڈل سے اس ویڈیو ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ مدھیہ پردیش کے جبل پور کے برگی کی یہ تصویریں دل کو دہلانے والی  ہیں۔ ایک معصوم بچہ مرکز صحت کے باہر ماں کی گود میں تڑپ تڑپ کر دم توڑ گیا کیونکہ اسے نہ تو ڈاکٹر مل سکا اور نہ ہی علاج۔

تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ مدھیہ پردیش کےواقعہ جبلپور ضلع کے برگی پرائمری ہیلتھ سنٹر کا ہے۔ متوفی بچے کے لواحقین کا کہنا ہے کہ بچے کو دست اور قئے کی شکایت کے بعد بدھ کی صبح 10 بجے ہسپتال لے جایا گیا، لیکن او پی ڈی کے وقت بھی کوئی ڈاکٹر نہیں ملا۔۔ یہاں کوئی ڈاکٹر نہیں تھا۔دو گھنٹے تک ڈاکٹروں کا انتظار کرتے رہے۔ لواحقین نے بچے کی موت کا ذمہ دار ہسپتال انتظامیہ کو ٹھہرایا ہے۔
اس معاملہ میں وزیر صحت ڈاکٹر پربھورام چودھری نے بتایا کہ انہوں نے کلکٹر سے فون پر بات کی ہے اور تحقیقات کی ہدایات دی ہیں اور رپورٹ طلب کی ہے۔ قصورواروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
برگی سے تقریباً 15 کلومیٹر دور تین ہیٹا گاؤں کے رشی کو بدھ کی صبح دست اور قئے کی شکایت ہوئی۔ بچے کو اس کے ماموں پون کمار اور اہل خانہ صبح 10 بجے کے قریب پرائمری ہیلتھ سنٹر برگی لے گئے۔ لواحقین کا الزام ہے کہ بچے کے طبی معائنے کے لیے ہسپتال میں ایک بھی ڈاکٹر موجود نہیں تھا۔ ایک نرس ڈیوٹی پر تھی۔
رشی کی حالت بگڑتی رہی اور ہسپتال میں ہی اس کی موت ہوگئی۔ پون کمار کا کہنا ہے کہ نرس نے بتایا کہ ڈاکٹر کی ڈیوٹی صبح 10 سے شام 4 بجے تک ہوتی ہے لیکن ہم 12 بجے تک ہسپتال میں علاج کے لیے مارے مارے پھرتے رہے۔
سی ایم ایچ او جبل پور دفتر سے موصولہ اطلاع کے مطابق ڈاکٹر لوکیش پرائمری ہیلتھ سنٹر برگی میں ڈیوٹی پر تھے۔ وہ بدھ کو دوپہر 12 بجے ہسپتال پہنچے۔ جبکہ ہسپتال کی او پی ڈی صبح 9 بجے شروع ہوتی ہے اور شام 4 بجے ختم ہوتی ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر لوکیش نے اپنے سینئرز کو بتایا کہ خاندان میں کسی مذہبی تقریب کی وجہ سے وہ ڈیوٹی پر دیر سے پہنچے۔
جبلپورکے کلکٹر الیاراجا ٹی کا کہنا ہے کہ بچہ ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ چکا تھا۔ بچے کو کوئی شدید بیماری نہیں تھی۔ اس کی ایک ٹانگ جھلس گئی تھی جس کا لواحقین گزشتہ 10 دنوں سے مقامی طور پر علاج کر رہے تھے۔
جلی ہوئی ٹانگ میں انفیکشن بڑھ گیا تھا جس کے لیے گھر والے اسے علاج کے لیے ہسپتال لے گئے تھے۔ ڈاکٹر لوکیش نے بچے کو دیکھ کر مردہ قرار دے دیا تھا۔ لواحقین کو یہ بھی بتایا گیا کہ بچہ ہسپتال آنے سے پہلے ہی دم توڑ چکا تھا۔