مٹ کی پولیس کی تفتیش پر تمام تفصیلات منظر عام پر۔۔ملزمین پولیس کی حراست میں
مٹ پلی :8؍مارچ
(زین نیوز)
تلنگانہ ریاست کے ضلع جگتیال کے مٹ پلی شہر عید گاہ محلہ کے متوطن محمد سہیل 6 ماہ قبل گھر سے لاپتہ ہونے کا واقع مٹ پلی پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا تھاجس کی گذشتہ شام بھیانک تفصیلات منظر پر آنے سے علاقہ میں ہلچل کا ماحول بنا ہوا ہے جس پر آج ا خباری نمائندوں کو ڈی ایس پی مٹ یلی رو مندر ریڈی نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ عید گاہ محلہ کے متوطن محمد سہیل ولدمحمدسمیع گذشته سال -2021-09-06کو گھر سے لا پتہ ہوئے۔تلاش کیے جانے پر کہیں پتہ نہ چلا۔جس پر فرد کے لاپتہ ہونے کی شکایت درج کی گئی تھی۔

اسی اثناء میں جگتیال کے خواجہ قطب الدین نے مجرم سید سجاد علی عرف شہباز کو پولیس کے حوالہ کیاجس کے بعد پولیس کی جانب سے تفتیش کیے جانے پر پتہ چلا کہ محمد سہیل کی بہن سےسید سجاد علی کےناجائز تعلقات تھےجس کا علم محمد سہیل کو ہونے پر اس نے اپنی بہن پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے غلط حرکتوں سے باز آجانے کی تاکیدکی ۔
جس کے بعد محمد سہیل کی بہن نشاط فاطمہ نے اپنے بھائی کو راستے سے ہٹانے کے لئے منصوبہ بنایا اور ایک مجرم لڑکے اٹھارہ سال سے کم عمر والے کو ایک لاکھ رو پئے سپاری کے طور پر دینے کا وعدہ کیا
پورے منصوبہ کے تحت 4 سپٹمبر2021 کی رات 8 بجے وہ کم عمر لڑ کا سہل کو اپنے ساتھ لیکر دھوبی گھاٹ ایس آر ایس پی کنال چھوٹی بریج کے پاس لیکر گیا اور ایک مجرم محمد والد عبدالرحیم نامی نے نشہ آ وراشیا،بیرمیں ملاکر سہیل کو پلایا اور ورغلایا گیاسہیل کے قریب آنے پر سر پر بیر کے شیشہ ( بوتل )سےسر پر مارا اور کنال میں پھینک دیا۔دوبارہ نعش کو نکال کر ساڑی سے گلے میں باندھ کر زیادہ پانی کے بہاؤ مقام پرپھینک دیا
سید سجاد علی کو تفتیش کرنے پر اس اعتراف کرتے ہوئے اس واقع کو صحیح کہا بعد ازاںملزمین نشاط فاطمہ‘ سید سجاد‘ محمد کم عمرلڑکا کو پولیس کی تحویل میں لیا گیا ہے
ان کے پاس سے موبائیل فونس5 عدد بیر کی بوتلیں ‘ پٹھی ہوئی حالت میں ٹی شرٹ – آدھار کارڈ ضبط کیا گیا اور مقام واردات کا معائنہ کیا گیا ڈی ایس پی رویندر ریڈی نے بتایا کہ تمام تفصیلات کے حصول کے بعد ان ملزمین کو عدالت کے حوالہ کیا جا ئیگا