وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

تازہ خبر مضامین

عورت جس روپ میں بھی ہو وہ قابل احترام ہی ہے
8/مارچ عالمی یوم خواتین
رشحات قلم عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماءضلع نظام آبادتلنگانہ9505057866
عالمی یوم خواتین کے موقع پر پوری دنیا میں وومینس ڈے مناکر یہ احساس دلایا جاتاہیکہ عورت کامقام ومرتبہ کیا ہے اور اس کو کس قدر عزت وعظمت کی نگاہوں سے دیکھنا چاہیے میں دنیا اور دنیا کی مختلف النوع تہذیبوں سے ہزاراختلاف کے باوجود اس عمل کو سراہتا ہوں کہ کم ازکم سال کے 365دنوں میں سے ایک دن خواتین کے نام سے منسوب کرکے ان کی عزت کو مانا اورمنوایا جاتاہے

لیکن اسلام ہو اس مذہب اور اس کی تعلیمات اور اس کے ماننے والوں پر جس مذہب نے خواتین کی پیدائش سے پہلے ہی ان کے مقام ومرتبہ سے انسانوں کو آشنا کرادیا اوربتلادیاکہ عورت جس روپ میں بھی ہو وہ قابل احترام ہی ہے ہر حال میں اس کے حقوق کا تحفظ اور عزتوں کی حفاظت اس کی عصمت وپاک دامنی کا خیال ہر فردبشر پر لازم ہے

دنیا اورآخرت کی خوشیوں کا سامان دلوں تسکین اورراحت جان بناکر کبھی اس کو ماں کی شکل دی تو کبھی بیوی بناکر پیش کیا تو کبھی بیٹی کاروپ دیا تو کبھی بہن کے قالب میں ڈھالااور ہر چہارجانب سے اس کے ساتھ حسن سلوک اور بہتررویہ کی تعلیم وترغیب دی میں عالمی یوم خواتین کے اس پر مسرت موقع کو بہتر سمجھتے ہوے واضح کرتا چلوں کہ اسلام نے جو عزت وعظمت کا تاج خواتین کے سر پر رکھا ہے وہ کسی اورمذہب میں متصورنہیں ہے زمانہ جاہلیت میں عورتوں کو بس ایک لاشہ بے جان کی حیثیت دی جاتی تھی

بے پردگی وعریانیت کا ننگا ناچ ان کے ساتھ ہوتا تھا مالی ومعاشی حقوق سے ان کو مارواء سمجھاجاتا تھا وراثت اورترکہ سے بھی محروم ہی سمجھاجاتاتھا بس وقت ضرورت ان کو استعمال کرکے چھوڑ دینا ایک عام سی بات تھی بلکہ بعض لوگ تو جہالت کی اس اندھیر نگری کے باشی تھے کہ روے زمین پر عورت کے وجود ہی کوناپسند کرکے پیداہونے سے پہلے ہی درگووکفن کردیتے تھے

ایک منحوس اور ناقابل برداشت مخلوق سمجھ کر اس کے ساتھ ہر وہ ظلم وستم کو روا رکھاجاتا جو کسی انسان تو درکنار جانور کے ساتھ بھی زیب نہ ہوتا تھا بہرحال یہ ناگفتہ بہ داستان تو بڑی طویل ترین ہے بس خلاصہ کلام یہ ہیکہ عورت کو اس کائنات کی سب سے مظلوم ترین اوربدترین مخلوق سمجھاجانے لگا تھا مگر سلام ہو اسلام اور اس کی سچی وصاف ستھری تعلیمات پر جس نے عورت کو تحت الثری سے اٹھاکر فوق الثریا کردیا اورہر وہ عزت وعظمت سے نوازا جس کا دنیا والے تصور بھی نہیں کرسکتے تھے آئیے

عورت کے مقام ومرتبہ کے حوالہ سے قرآن واحادیث پر ایک طائرانہ نظر ڈال کر سمجھنے اورسمجھانے کی ادنی کوشش کرتےہیں چنانچہ قرآن مجید کی ایک مستقل سورت ہی سورہ نساء کے نام سے اللہ تعالی موسوم فرمادیا جس سے ان کی عظمت کا اشارہ ملتاہے نیز بے شمار آیات قرآنیہ میں ان کا ذکر کرکے باضابطہ ان کے حقوق اور ذمہ داریوں سے آشنا کیا اورمردوں کو ہدایت دی کہ ان کے حقوق کا تحفظ کیا جاے

علاوہ ازیں احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ان کی تشریحات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا کہ عورت دنیا کا ایک حسین تحفہ ہے اورمرد اس کے بنا کچھ نہیں ہے عورت کو اگر ماں کے روپ میں دیکھا جاے تو اس کے قدموں تلے اللہ نے جنت رکھ دی ہے اب جس کے مقدر میں جتنا ہوسکے وہ اس کے ساتھ حسن سلوک کرکے اس کی عزت وخدمت کرکے اپنے آپ کو جنتی بنالے ماں کے ساتھ رہنے اس کی دیکھ بھال کرنے اس کی خدمت کرنے کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد فی سبیل اللہ کا مرتبہ دیا اورصحابی رسول معاویہ ابن جاہمہ کو کو روک دیا کہ تم جہاد میں نہیں جاؤگے بلکہ ماں کی خدمت میں جاؤگے

عورت اگر بیٹی کے روپ میں ہوں تو فرمایاگیاکہ اس کی عمدہ تعلیم وتربیت تمہارے لئےجنت کی ضمانت ہے سماجی ومعاشرتی سطح پر اسلام نے بیٹی کے مقام کو کتنا بلند کردیا عورت اگربیوی کے روپ میں ہوں تو فرمایا کہ یہ نسل انسانی کی بقاء کی ضامن ہوتی ہے توالد وتناسل کا اس سے عظیم سلسلہ وابستہ ہے اس کے ساتھ حسن سلوک کرو اس کی دلجوی کرو بلکہ رسول کریم نے حضرت عائشہ صدیقہ کے ساتھ عملی طورپر دلجوی کرکے بتلادیا اسی طرح عورت اگر بہن کے روپ میں ہوں تو اس بھائیوں کے لئےتعلیم دی گئی کہ وہ اس کء ساتھ رواداری واخوت کامعاملہ کریں ان کے حقوق ان کو دیں ان کی دین ودنیا کی فکر کریں جس پر ان کو جنت کی بشارت اور خوشخبری دی گئی ہے

بہرکیف اسلام نے پوری دنیا کے سامنے حقوق نسوان کا ایک ایسا حسین تصورپیش کیا کہ اسلام کے ماننے والوں کے علاوہ دیگر اقوام عالم کے لوگوں نے بھی یہ کہ دیا کہ اسلام ہی دراصل حقوق نسواں کا حقیقی علمبردار اور عدل ومساوات کاحقیقی ضامن ہے اسی لےء کہنے والے نے کہا وجودزن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ اسی کے ساز سے ہے زندگی میں سوزدروں اللہ پاک کائنات کے ہر انسان کو اس حقیقت سے آشنافرماے اور موجودہ دور میں جن افراد اور تنظیموں کی جانب سے خواتین کے حقوق کو پامال کہا جارہا ہے یا ان کا ستحصال کیا جارہا ہے انکو عقل سلیم عطاء فرماےآمین بجاہ سیدالمرسلین