از قلم: عبدالقیوم شاکر القاسمی
امام وخطیب مسجد اسلامیہ نظام آباد
9505057866
آمد رمضان سے قبل ہر فردمسلم کی زبان پررمضان المبارک کی آمد کا انتظار اس کی قیمتی گھڑیوں کا شوق بازاروں کی رونقوں کی قابل دید جگمگاہٹ معصوم بچوں اور بچیوں کے چہروں پہ خوشیوں کی لہر بڑوں اور گھروں کے ذمہ داروں پر ذمہ داری کا احساس عبادتوں کی فکر دیکھنے کو ملتی ہے
لیکن
کیا رمضان المبارک کے ان گذرتے لمحات اور بیت تے ہوے شب وروز اوررخصت ہوتے ہوے ایام کے دوران ہم نے کبھی اپنے آپ کا محاسبہ کیا ہے کیا ہمارے دلوں پر کسی کی قسم کی رقت طاری ہوی ہے کیا ہمیں غمخواری کا کچھ حصہ بھی نصیب ہوسکا ہے کیا ہمیں روزہ رکھ کر بھوک وپیاس سے سسکتی بلکتی انسانیت کے کچھ درد والم کا احساس ہوا ہے کیا راتوں کے قیام نماز تراویح سے کچھ سبق مل پایا ہے کیا مقصد رمضان یعنی تقوی کا حصول ہورہا ہے کیا لذت عبادات اور شوق طاعات کا کچھ جذبہ بیدار ہوا ہے
اگر ہاں تو ہمیں اللہ کا شکر اداکرکے مزید بقیہ ایام میں کیلےء استقامت کی دعاء مانگنا چاہیے اور اگر خدانخواستہ ان بابرکت ایام کے گذرتے ہوے ہمارے شب وروز بھی یوں ہی گذر گےء اور کچھ بھی اعمال صالحہ میں اضافہ اور اعمال سییہ میں کمی نہیں ہوی تو پھر ہمیں اپنے آپ کا محاسبہ کرنے کی اشد ضرورت ہے
آج پندرہ رمضان کے گذرتے ہوے ان بیش قیمت لمحات کے حوالہ سے امام ابن الجوزی علیہ الرحمۃ کا ایک ملفوظ پڑھنے کو ملا جس کی وجہ سے ایک داعیہ راقم سطور کے دل میں خود اپنی ذات کو لے کر یہ پیدا ہواکہ میں ان ایام میں کتنا کامیاب رہا اور کس قدر ناکام
پھر عوام وخواص کے لےء افادیت کے پیش نظر اسی جذبہ کو قلمبند کرنے کا شوق ہوا تو مذکورہ تحریر سپرد قرطاس کردیا
التبصرۃ فی الوعظ
کے حوالہ سے امام ابن الجوزی کا یہ ملفوظ نظر نواز ہواجس میں آپ یوں رقمطراز تھے کہ
اے لوگو تمہارا مہینہ آدھا گذرچکا ہے تو کیا تم میں سے کسی نے اپنے نفس کو کچل کر تابع فرمان بنایا؟کیا تم نے ان باتوں پر عمل کیاہے جو تمہیں پہونچی ؟کیا تمہیں اعلی منازل کو پانے کا کوی شوق پیدا ہوا؟ان ایام میں نیکیاں کرنے والو اپنا کام جاری رکھو .اور ان ایام میں برائیاں کرنے والواپنے آپ کو ڈانٹ ڈپٹ اور ملامت کرو..اگر اس مہینہ میں بھی خسارہ ہی اٹھایا ہے تو نفع کب کماؤگے ؟اگراب بھی نقصانات کو خیر باد کہ کر فوائد کی طرف رخت سفر نہیں باندھوگے توکب باندھوگے ؟
مذکورہ سطور ہمیں یہ بتلارہے ہیں کہ ہمیں اب اپنا احتساب شروع کردینا چاہیے اور آنے والے ایام کی قدردانی کرکے اپنے آپ کو مزید مجاہدات کے لےء کمر کس لینا چاہیے اس ماہ مبارک میں اللہ تعالی اپنے بندوں کے تنافس کو سیکھنا چاہتے ہیں کہ اعمال دنیا میں تو انسان حریص اور لالچی واقع ہوا ہے لیکن کیا رمضان المبارک میں اعمال صالحہ اور تلاوت قرآن اور ذکر الہی ودیگر عبادات مالیہ میں حرص وطمع پیدا کرتا ہے کہ نہیں اس لےء ہمیں اس بات کو نہیں بھولنا چاہیے کہ اس ماہ مبارک میں ہم ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر نیکیوں میں اور عبادات میں اپنی حصہ داری اداکریں باری تعالی سارے عالم کے مسلمانوں کو مزید ہمت وطاقت عطاء فرماے اعمال پر جمنے اور بڑھنے کا جذبہ اور شوق عطاء فرماے آمین
