بیدر۔ 2جنوری
عبدالصمد منجووالا
گرام پنچایت اراکین کی تائید کرنے کامقصد سیاست کرنا نہیں ہے بلکہ اقدار پرمبنی سیاست کانفاذہے۔ویلفیرپارٹی آف انڈیا چاہتی ہے کہ عوام کی خدمت کرنے والا شخص سامنے آئے اور اس کے لئے ہم نے پنچایت سطح پر کام کی اہمیت کو بتایاہے۔ اور اس سطح سے اوپر تک یہ کام کرناچاہتے ہیں۔ یہ باتیں WPI کرناٹک کے صدر ایڈوکیٹ طاہر حسین نے کہیں۔ وہ آج ویلفیرپارٹی آف انڈیا بید رکی جانب سے طلب کردہ پریس کانفرنس میں خطاب کررہے تھے ۔ انھوں نے مزید کہاکہ صرف اتناہی نہیں بلکہ ہم آدی باسی اور پچھڑے ومظلوم طبقات کے ساتھ ہیں ۔انہیں انصاف دلاناہمارامقصد ہے۔ موصوف نے بتایاکہ ریاست کرناٹک میں ہوئے گرام پنچایت انتخابات میں ویلفیرپارٹی کے تائیدی 44امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے۔ جن میں سے 15کاتعلق بیدر ضلع سے ہے۔ساری ریاست کرناٹک سے مزید 15تا25آزاد لیکن کامیاب گرام پنچایت اراکین ہمارے رابطہ میں ہیں۔ ان سے بات چیت مکمل ہوتے ہی ہمارے تائیدی ارکان کی تعداد مزید بڑھ جائے گی۔ ایڈوکیٹ طاہر حسین نے دعویٰ کیا کہ ویلفیرپارٹی متبادل سیاسی پارٹی کے طورپر ملک بھر میں دیکھی جارہی ہے۔ کیونکہ ویلفیرپارٹی آف انڈیا نے اس ملک میں پیسے خرچ کئے بنا الیکشن میں حصہ لیا اور جیت کر دکھلایاہے۔ اسی طرح شراب اور جھگڑا، گالی گلوچ کے بغیر اور ووٹوں کی تقسیم کے بنا انتخابات لڑے جانے کاپیغام بھی بالخصوص کرناٹک میں دیاہے۔ ایک سوال کے جواب میں موصوف نے بتایاکہ ہم بسواکلیان کے ضمنی اسمبلی انتخابات میں اپناامیدوار کھڑا کریں گے وہ کوئی خاتون بھی ہوسکتی ہے ۔ پارٹی میں نیا داخل ہونے والامسلم شخص بھی ہوسکتاہے۔مسلم امیدوار ٹہرنے سے ووٹوں کی تقسیم ہوگی والے سوال پر طاہر حسین نے کہاکہ ووٹوں کی تقسیم کاخوف دلاکر پارٹیوں کو انتخابات میں حصہ نہ لینے پر مجبور کرنا دراصل ایک سازش ہے۔ ملک میں جمہوریت ہے اور ہر پارٹی کو انتخابات میں حصہ لینے کا حق حاصل ہے ۔ البتہ ہم کام خراب کرنے پر یقین نہیں رکھتے۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایاکہ ویلفیرپارٹی ایک جماعت یا مذہب کی پارٹی نہیں ہے۔ آئین ہند میں واضح ہے کہ سب کے لئے پارٹی بنائی جائے۔ ہم جماعت کی نہیں سماج کی بات کررہے ہیں۔ چونکہ اقدارپر مبنی سیاست کی بات کوئی نہیں کررہاتھااسلئے ہمیں آگے آنا پڑااور ہمیں امید ہے کہ آئندہ 2-3سال میں اہلحدیث ،اہلسنت و جماعت اور لنگایت ، مراٹھا اور دیگر طبقات کے افراد بھی ہمارے شانہ بہ شانہ کھڑے ہوکر اپنے سیاسی حقوق کی لڑائی لڑیں گے۔ بیدر میں واقع آثار قدیمہ کی مسجدِ سولہ ستون میں رکھی گئی مورتیوں سے متعلق کیس کے بارے میں انجینئر مبشرسندھے نے بتایاکہ 22ماہ قبل کے اس کیس میں بی رپورٹ دی گئی ہے۔ جس کے خلاف ہم عدالت پہنچ چکے ہیں۔پریس کانفرنس کاآغاز عزیز جاگیردار کے تعارفی کلمات سے ہوا۔ پریس کانفرنس میں مذکورہ قائدین کے علاوہ جناب مجاہد پاشاہ قریشی ریاستی سکریڑی ، اورمسٹر شرنپا شرماضلعی نائب صدر بھی موجودتھے۔
