حیدرآباد: 20؍مئی
(زین نیوز)
دنیا میں جب سے کورونا وبا ء پھیلی ہے انسانیت دم توڑتی نظر آرہی ہے مشکل اور نازک حالات میں غیر تو کیا اب اپنے ہی ساتھ چھوڑ کر را ہ افرار اختیار کررہے ہیں اس وبا ءنے غیر او راپنوں کو بانٹ دیا ہے ‘ خاندان کا کوئی عزیز کورونا سے متاثر ہوجائے یا مر جائے تو خود اسکے اپنے منہ موڑ رہے ہیں
ملک میں ائے دن کچھ عجیب و غریب واقعات رونما ہورہے ہیں کورونا سے بچنے کےلئے سخت بنددشیں عائد کی جارہی ہیں اورخود کو بچانے کے لئے اپنوں کو تک دور کردیا جارہا ہے
تلنگانہ ریاست کے محبوب نگرضلع میں نواب پیٹ کے کیشٹم پلی تانڈہ کےقبائلیوں نے ایک غر متوقع فیصلہ لیا ہے ۔کورونا انفیکشن سے متاثر ہونے والے چار افراد کو شمشان گھاٹ میں قریطین میں رکھا گیا ہے ۔ اور یہ فیصلہ موضع کی پنچایت کی جانب سے لیا گیا ہے

کشٹم پلی موضع کی پنچایت نے کورونا انفیکشن سے متاثر ہونے والوں کے شمشان گھاٹ میں ایسولیشن ‘(قرنطینہ) کے طور استعمال کرنے کا فیصلہ لیا ہے 350 کی آبادی پر مشتمل موضع پنچایت نے کورونا کو پھیلنے سے روکنے کے لئے یہ قرار داد منظورکی ہے موضع کے سرپنچ بی سرینواس نے بتایا کہ موضع کی عوام نے پنچایت کے فیصلے کو متفقہ طور پر تسلیم کرلیا ہے کیونکہ دوافراد کورونا مثبت پائے گئے ہیںمزید اس کو پھیلنے سے روکنے کے لئے یہ فیصلہ لیا گیا ہے
یہ بھی پڑھیں : ہرجانب موت ہے آہیں ہیں سسکیاں ہیں
موضع میں جس کسی بھی شخص کو کورونا کی علامتیں ظاہر ہونگی انھیں چار دن تک اس سنٹر میں رکھا جائیگا۔اگر کوئی ایمرجنسی ہوتی ہے تو قریبی نواب پیٹ منڈل ہیڈ کوارٹر پر علاج کے لئے بھیج دیا جائیگا
سرپنچ سرینواس نے بتایا موضع میں آئسولیشن سنڑ کی سہولت نہ ہونے کی وجہہ سے شمشان کو ہی ایسولیشن سنٹر میں تبدیل کیا گیا ہے۔ جہاں دو کمرے ہیں جن میں سات افراد کو آسانی کے ساتھ رکھا جاسکتا ہے۔ فی الحاج چار افراد شمشان گھاٹ ( قریطین ) سنٹر میں ہیں جنھیں ادویات‘ کھانا‘ وغیرہ فراہم کیا جارہا ہے اور انکی صحت کی دیکھ بھال کے لئے پیرا میڈیکل عملہ بھی نگرانی کررہا ہے