از قلم: عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمیعۃ علماء امام وخطیب مسجد اسلامیہ
نظام آباد تلنگانہ
9505057866
دنیا کی یہ عجیب وغریب حالت دیکھ کر آج ہرفردبشر اپنی حیرانی اور تعجب کا یقینا اظہار کررہا ہے جدھر نظر دوڑاؤ ادھراموات کا سلسلہ ہے کہیں فقروفاقہ اور بھکمری کی سسکیاں ہیں تو کہیں سیلاب وطوفانوں کی آہیں کہیں بیماریوں اور وباؤں کادوردورہ ہے تو کہیں بم اوربندوق کی گولیوں کی گھن گرج توکہیں کاروباروتجارت کا رونا ہے
بہر کیف
انسانیت آج مختلف قسم کی پریشانیوں کا سامنا کررہی ہے اور نگاہیں آسمان کی جانب مرکوز کرکے متی نصر اللہ کی صدائیں لگارہی ہے کب اللہ کی مددآے گی اور کب انسانیت اس دنیا میں راحت وسکون کی سانس لے گی کوی اپنے بڑوں سے جداہورہا ہے کوی اپنے گھر والوں کو کھورہاہے کوی باپ تو کوی ماں سے دور ہورہا ہے کوی اپنی معصوم اولادکوداغ مفارقت دے رہا ہے تو کہیں شوہر اور بیوی میں ناختم ہونے والی دوریاں ہورہی ہیں
ان حالات کا آج پوری دنیا اپنی چشم سر سے مشاہدہ کررہی ہے اور پتہ نہیں کب تک ایسا ہوتا رہے گا اورکب باری تعالی کو ہم پررحم آے گا اورکب انسانیت چین کی سانس لے گی عالم اسلام کے مسلمانوں کوچاہیے کہ وہ رجوع الی اللہ کرے طاعات وعبادات سے پروردگارکوراضی کرکے رحم وکرم کی بھیک مانگیں
اس پاک پروردگارکے علاوہ کوی طاقت وقوت نہیں جو ہم کو اس مرض اور بیماری سے نجات اور چھٹکارا دے سکے
اس معمولی سی بیماری کو لے کرآج دنیاکے بڑے بڑے عقلاء اور نامور سائنس داں وڈاکٹرس بھی حیران وششدر ہے ہزار کوششوں کے باوجود بھی جس کا کوی حل سامنے نہیں آرہا ہے ہر کوی اپنے اپنے مبلغ علم اور سطح تحقییق سے سعی کررہا ہےاور اپنے تجربات سے واقف کرواکر احتیاط کرنے اور جانون کے تحفظ پرتوجہ دینے کی اپیل کررہا ہے سینکڑوں تحقیقات سامنے آرہی ہیں لیکن
مرض بڑھتا گیاجوں جوں دواکی کے مترادف حالات روز بہ روز گمبھیرہی ہوتے جارہے ہیں حکومتیں اپنے معیار سے کوشش کررہی ہیں سماجی وفلاحی تنظیمیں اپنے حدود ودائرہ کار میں رہ کر انسانیت کو بچانے کی فکر میں لگی ہوی ہیں
ہرکسی کی محنتیں اپنی جگہ مسلم ہیں مگر ایسا لگتا ہیکہ اس مرض کی دوا اور اس درد کا درماں صرف خالق کائنات ہی کے پاس ہے جس سے لولگاکر ہی ہم اس سے چھٹکارا پاسکتے ہیں اور شاید اسی میں ہم کوتاہ واقع ہورہے ہیں
اسباب کی دنیا علاج ومعالجہ پر بھی توجہ دے کر مسبب الاسباب کی جانب حقیقی توجہ دی جاے تو شاید اس کاازالہ ممکن ہوسکے
ویسے بھی سابق میں جہاں جہاں اس قسم کی وبای بیماریاں وجود میں آئیں اور لوگوں کے دلوں میں اس کاخوف اور ڈر پیدا ہوا تو زمانہ کے اکابرین علماء واہل اللہ ہی کی راہ نمای میں انسانیت نے اجتماعی توبہ کا اہتمام کیا اور رستگاری پای ہے آج پوری شدت سے ہمیں اپنےاعمال کا محاسبہ کرتے ہوے رحمت حق کو متوجہ کرنے کی ضرورت ہے
یہ بھی پڑھیں : عادی شرابی مسلم شخص نے 15؍ہزار میں بیٹی کو فروخت کردیا۔
بیت المقدس کے حالات ہوں یا فلسطین کے معصوم بچوں اور عام مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے ناروامظالم اوراسرائیلی بربریت کے شکار مسلمانوں کی جان واموال اور عزتوں سے ہونے والے کھلواڑ ہوں یا کورونا وائریس سے پریشان ہندوستانی مسلمان اور عالم
انسانیت پر منڈلانے والے خوف ودہشت کے مناظر
ہر قسم کے حالات سے نمٹنے کے لےء بس ایک ہی واحد راستہ نظر آرہا ہیکہ اس دنیا کے پیداکرنے والے کے سامنے جبین نیاز خم کرکے توب واستغفارکیاجاے اور منشاء ومرضی مولی کے خلاف ہم لوگوں کی شاید زندگیاں گزررہی ہیں اس لےءراہ راست پر چلتے ہوے اس کومنانا ضروری ہے تب کہیں جاکر شاید ہم ان حالات سے نکل سکیں زندگی کے ہرلمحہ کو ہم اب غنیمت سمجھیں اور اللہ کے دین کی خاطر اپنے آپ کو بنانے اور سنوارنے کی خاطر فرصت وقت کو بڑی نعمت تصور کریں
تلاوت قرآن ذکرخدا وتذکرہ رسول اور اسلامی تعلیمات کو اپنی زندگی کاحصہ بناکر اچھی زندگی کا سلیقہ حاصل کریں
اللہ پاک عافیت کا معاملہ فرمائے