حل تلاش کرنے کی اشد ضرورت
ازقلم: عبدالقیوم شاکر القاسمی
(جنرل سکریٹری جمیعۃ علماء(امام وخطیب مسجد اسلامیہ نظام آباد
9505057866
تعلیم کی اہمیت وضرورت سے کسی بھی انسان کو انکار نہیں ہے اور اس کی افادیت سے سارا زمانہ واقف ہے دنیا کی ترقی کا مدار ہی تعلیم پر موقوف ہے سماج اور معاشرہ کی سالمیت اورملک کی ترقی کا راز اسی تعلیم میں مضمر ہے تعلیم کے بغیر انسانی زندگی محض زندگی ہے جس میں کوی جان اورروح نہیں ہے اور
یہ بات اظہر من الشمس ہیکہ تعلیم ایک ایسا زینہ ہے جس سے دنیا کی ہر چوٹی اور بلندی کو حاصل کیا جاسکتا ہے خواہ دنیاوی اعتبارسے ہوں یا دینی اعتبار سے اگر انسان کے پاس علمی قابلیت اور تعلیمی صلاحیت موجود ہوں تو وہ کسی بھی وقت اس سے استفادہ کرکے منزل مقصود کو پانے میں کامیاب اور بامراد ہوجاتا ہے
لیکن آفتاب نیم روز کی طرح یہ حقیقت بھی آج ہمارے سامنے ہیکہ موجودہ وبای مرض کورونا وائریس کی وجہ سے جہاں دیگر شعبہاے زندگی تعطل اور جمود کا شکار ہوے ہیں کہیں
مالی بحران کا سامنا ہے تو کہیں تجارتی وکاروباری اعتبار سے گراوٹ آگئی ہے تو کہیں معاشرتی دوریوں اور انتظامی پریشانیوں کے مسائل درپیش ہیں بالکل اسی طرح آج انسانیت تعلیمی بحران کی بھی شکار ہوچکی ہے
گذشتہ سال کاپوراعرصہ اور سال حال کے ابھی تک کے ایام لاک ڈاؤن کی نذر ہو گئے ہیں جس میں خاطر خواہ تعلیم کی جانب کوی توجہ نہ دی گیء اور نہ ہی یہ ممکن تھا
دیگر زندگی کے شعبوں میں ہونے والے نقصان کی تلافی اور پابجای کی راہیں مختلف سیاسی وسماجی تنظیمیں ڈھونڈ نکال رہی ہیں اور یہ ممکن بھی ہیکہ کچھ حد تک مالی خسارہ کا تدارک ہوبھی جاے اور آئندہ مستقبل قریب میں مالی بحران سے نجات مل جاے اور معیشت پھر سے مستحکم ہوجاے لیکن تعلیمی شعبہ میں ہونے والے نقصان کا کیا کیا جاے کیسے اس کی تلافی ممکن ہوسکے گی
چونکہ روز بہ روز حالات کی سنگینی اور خطرات بڑھتے چلے گئے اورمدارس واسکولس و دیگر تعلیم گاہیں مقفل کرنا پڑا آن لائن تعلیم کا سلسلہ یہ سمجھ کر بعض مقامات پر شروع کیاگیا تھا کہ شاید چند دنوں کی بات ہوگی پھر عام حالات کے مطابق تعلیمی مشاغل لوٹ آئیں گے لیکن ایسا نہ ہوسکا نیز اس طریقہ تدریس سے کوی قابل ذکر فائدہ بھی سامنے نہیں آیا اور تاحال تمام ہی تعلیمی ادارے بند ہی ہیں
ایسے ماحول اور حالات میں ہم ذمہ داران وسرپرست احباب کی ذمہ داری کیا ہوگی طلباء کے اس تعلیمی بحران کا حل کیا نکالا جاے گا اس سلسلہ میں ماہرین وتجربہ کار افراد کو سوچنے اور مستقل لائحہ عمل اس حوالہ سے مرتب کرکے ملت کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے
گرچیکہ ڈگریوں اور سال کے اعتبار سے ترقیات مل گئیں لیکن کیا مستقبل میں اس طرح کی ترقی سے وہ کام چلے گا جو باضابطہ تعلیمی میدان میں محنت ومجاہدات کرکے نمبرات حاصل کئے جاتے ہیں
دینی مدارس کے ذمہ داران کی جانب سے اپیلیں اور داخلوں کے اعلانات تو آچکے ہیں لیکن کوی طریقہ کار سامنے نہیں آیا اگر قبل ازوقت اس جانب توجہ کرلی جاے اور تعلیمی خاکہ تیار ہوکر عام ہوجاتا تو شاید دیہاتوں اور دیگر علاقوں میں موجود چھوٹے مدارس بھی اپنی ترتیب بنالیتے اور کام کا آغاز ہوسکتا آج کی اس دنیا میں جہاں دیگر شعبہ جات بری طرح متاثرہوے ہیں وہیں تعلیم کا شعبہ جس سے ہماری نئ نسل کا مستقبل وابستہ ہے جس سے بچوں کی نشوونما وابستہ ہے بلکہ ہمارے ملک عزیز کی تقدیروابستہ جو نسل ملک کا مستقبل بننے والی ہے وہ آج اگر تعلیم سے دوررہی اور یوں ہی سلسلہ جاری رہا تو ہمارے اندازہ سےبھی کئ گنہ زیادہ نقصان کا خمیازہ ملک کو بھگتنا پڑے گا
ابھی کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق بچے گذشتہ ڈیڑھ سال سے اسکولوں اورمدارس سے دور رہنے کے سبب جدید الفاظ کے سیکھنے سے محروم رہے جس کی وجہ سے ان کی لسانیات بھی یقینا متاثر ہوی اور ہورہی ہے
آن لائن تعلیم کا سلسلہ کچھ اسکولوں بلکہ حکومتی اداروں میں شروع کیاگیا اورکوششیں جاری بھی ہیں مگر اس طریقہ کار سے ملک کی 70 فیصد آبادی والا غریب طبقہ استفادہ کرنے سے عاجز رہے گا چونکہ آن لائن تعلیم کے لۓ اسمارٹ فون کی ضرورت پڑے گی جس کو حاصل کرنے سے یہ طبقہ عاجز ہے لازما وہ اس طریقہ تعلیم سے اب بھی دور ہی رہے گا
گذشتہ برسہا برس سے ملک میں تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کی قابل قدر کوششیں کی گئیں لیکن اس وبای مرض کے آتے ہوے وہ کوششیں بھی اب رائیگاں ہوتی نظر آرہی ہے چونکہ ڈیڑھ سال کے اتنے طویل عرصہ میں طلباء کے اندر اکتاہٹ اور تعلیم سے دورونفور اس قدر بڑھ چکا ہیکہ ازسرنو اس میدان میں پوری حکمت عملی سے پیش قدمی کی ضرورت ناگزیر ہوچکی ہے
واٹس ایپ اور سوشل میڈیا کے ذریعہ ایک میسیج بشکل ویڈیو وائرل بھی جس میں بیٹے نے اسکول کی عمارت کو دیکھ کر باپ سے کہا کہ شاید میں نے اس بلڈنگ کو پہلے بھی دیکھا ہے باپ نے جواب میں کہا کہ بیٹا یہ تمہارااسکول ہے جس سے معلوم ہوا کہ آج کی تازہ ترین صورتحال یہی ہے جواس مفروضہ ویڈیو میں دکھلای گئی ہے
یہ سچ ہیکہ تعلیمی نظام کا مختل ہوجانایقینا موت سے بھی زیاد خطرناک ثابت ہوگا چونکہ ہر شعبہ تعلیم ہی سے زندہ وکارگر ہے اگر یہی ناکارہ رہا تو پھر دیگر شعبوں کی ترقی کیسے ممکن ہوسکے گی
اس لئے درد مندان قوم وملت سے ہم خواہش کرتے ہیں کہ اس سلسلہ میں سرجوڑ کر بیٹھیں اور کوئ عام استفادہ کی راہیں ڈھونڈ نکالیں جس سے امیر وغریب سب ہی مستفید ہوکر اس بحران سے نجات حاصل کریں اور والدین وسرپرستوں کی صحیح راہ نمای ہوجاے
اللہ پاک توفیق عمل نصیب فرمائے
آمین
