کیچڑ اور گدلے پانی میں لوگوں کو تلاش کرنا مشکل۔ریسکیو ٹیم
احمد آباد :۔31/ اکتوبر
(زین نیوز ڈیسک)
گجرات کے موربی پل حادثے میں پیر کی صبح تک مرنے والوں کی تعداد141 سے زیادہ ہو گئی ہے۔ جاں بحق ہونے والوں میں 25 بچے بھی شامل ہیں۔170 افراد کو بچا لیا گیا ہے۔
حادثہ اتوار کی شام 6.30 بجے پیش آیا141 سال پرانا پل 6 ماہ سے بند تھا۔ حال ہی میں اس کی مرمت کی گئی۔ اسے 25 اکتوبر کو عام لوگوں کے لیے کھول دیا گیا تھا۔
اتوار ہونے کی وجہ سے بھیڑ بڑھ گئی۔ حادثہ کی وجہ یہی بتائی جا رہی ہے۔ضلعی انتظامیہ نے ایک ہیلپ لائن نمبر (02822243300) جاری کیا ہے۔ زخمیوں کے علاج کے لیے موربی اور راجکوٹ کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی وارڈ بنائے گئے ہیں۔
#Watch: The moment when the bridge collapsed in Morbi, killing over 140 people #GujaratBridgeCollapse pic.twitter.com/dzdhq5wePM
— NDTV (@ndtv) October 31, 2022
بچاؤ میں لگے این ڈی آر ایف افسر نے کہا کہ اس نے پہلی بار اتنی اموات دیکھی ہیں۔ہمیں دریا کے گدلے پانیوں میں لوگوں کو تلاش کرنا مشکل ہو رہا ہےصبح سے فوج، این ڈی آر ایف اور ایس ڈی آر ایف کی ٹیموں کا بچاؤ آپریشن جاری ہے۔
دریائے ماچھو میں پانی کم کرنے کے لیے چیک ڈیم کو توڑا جا رہا ہے۔معاملے میں برج کی انتظامیہ کمپنی کے خلاف مجرمانہ قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دی گئی ہے۔پی ایم مودی کا احمد آباد میں ہونے والا روڈ شو منسوخ کر دیا گیا۔
پی ایم کیواڑیہ سے موربی جا سکتے ہیںحادثے کی ہولناک کہانی، عینی شاہدین کے الفاظپہلا عینی شاہد: 1000 سے زیادہ لوگ جمع تھے،اس حادثے میں 8 لوگوں کی جان بچانے والے عینی شاہد نے بتایا-
یہاں ایک ہزار سے زیادہ لوگ موجود تھے۔ جو تیرنا جانتے تھے وہ تیراکی کرتے ہوئے نکل رہے تھے۔ بچے ڈوب رہے تھے، سب سے پہلے ہم نے انہیں بچایا۔ اس کے بعد بزرگوں کو باہر نکالا گیا۔ پائپوں کی مدد سے لوگوں کو نکالا جا رہا تھا۔دوسرا عینی شاہد: حاملہ مر گئی، زندگی میں ایسا نہیں دیکھا تھا۔
ایک اور عینی شاہد نے کہا کہ میں یہاں ہر اتوار کو چائے بیچتا ہوں۔ میں نے لوگوں کو تاروں سے لٹکتے دیکھا۔ اس کے بعد وہ پھسلنے لگے۔مجھے ساری رات نیند نہیں آئی۔ ساری رات لوگوں کو بچانے میں مصروف رہا۔ 7-8 ماہ کی حاملہ لاش دیکھ کر میرا دل ڈوب گیا۔ میں نے اپنی زندگی میں ایسا کچھ نہیں ہے
