آہ! مولانا حافظ عبدالوہاب قاسمی
ایک عہد کا اختتام، علم و تقویٰ کا روشن چراغ گل ہوگیا

ازتحریر عمران زین
ایڈیٹر زین نیوز
نہایت رنج و الم کے ساتھ یہ خبر دلوں کو سوگوار کر گئی کہ مولانا حافظ عبدالوہاب قاسمی اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے۔ یقیناً ان کا وصال صرف ایک فرد کا انتقال نہیں بلکہ ایک علمی، دینی اور اخلاقی عہد کا اختتام ہے۔مولانا گزشتہ 27 برس سے مسجد ہزاری میں امامت و خطابت کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ یہ ایک طویل اور باوقار دور تھا جس میں انہوں نے اخلاص، استقامت اور تقویٰ کے ساتھ دین کی خدمت کی۔ حالات ہمیشہ سازگار نہیں رہے۔
بعض مواقع پر چند مخالفین کی جانب سے انہیں ذہنی اذیت پہنچانے کی کوششیں بھی ہوئیں، مگر انہوں نے صبر، حلم اور وقار کا دامن کبھی نہیں چھوڑا۔ اختلاف کو دشمنی میں بدلنے کے بجائے ہمیشہ اخلاق، بردباری اور دعا کا راستہ اختیار کیا۔ ان کے لہجے میں کبھی تلخی نہ آئی اور منبر سے ہمیشہ اتحاد، صبر اور تقویٰ ہی کا درس دیا۔مولانا علمی بصیرت، فکری گہرائی اور جرأتِ اظہار کے اعتبار سے نمایاں مقام رکھتے تھے۔ قرآن و حدیث پر گہری دسترس اور عصری مسائل پر متوازن و مدلل گفتگو ان کا امتیاز تھا۔
وہ دین کے معاملے میں بے باک اور حق گو تھے، مگر ان کی بے باکی میں سختی نہیں بلکہ حکمت اور شفقت شامل ہوتی تھی۔ ان کی پوری زندگی پیکرِ سنت تھی—سادگی، تقویٰ، دیانت اور حسنِ اخلاق ان کی پہچان بن چکے تھے۔نمازوں کی پابندی ان کی زندگی کا روشن باب تھی۔ وہ ہمیشہ مصلیوں سے پہلے مسجد میں موجود رہتے اور فجر کی نماز میں کبھی ناغہ نہیں کیا۔ نمازِ جمعہ میں ان کا بیان سننے کے لیے دور دراز علاقوں سے لوگ آتے، جبکہ بعد نمازِ فجر قرآنِ کریم کی تفسیر سننے کے لیے بھی بڑی تعداد شریک ہوتی۔
ان کے خطبات علم و حکمت اور دردِ دل کا حسین امتزاج ہوتے تھے جو سامعین کے دلوں پر گہرا اثر چھوڑتے تھے۔ انہوں نے قول و عمل سے ثابت کیا کہ اصل دعوت کردار سے دی جاتی ہے۔علمی اعتبار سے مولانا عبدالوہاب قاسمی عربی زبان کے ماہر تھے۔ وہ ڈگری کالج اور جونیر کالجوں میں طلبہ و طالبات کو عربی پڑھاتے تھے۔ نہ صرف زبان بلکہ اس کے ادبی و دینی پس منظر سے بھی روشناس کراتے۔ ان کی تدریسی صلاحیت، صبر اور شفقت کی بدولت طلبہ علم و اخلاق دونوں میں ترقی کرتے۔

جب وہ پیدل کالج جاتے تو راستے بھر ہر چھوٹے بڑے کو بلا تاخیر سلام کرتے، مسکراتے چہرے کے ساتھ محبت اور اخوت کا پیغام دیتے اور عملی طور پر سنتِ نبویؐ کو زندہ رکھتے۔ طلبہ کے لیے وہ صرف استاد نہیں بلکہ ایک مشفق مربی اور کردار ساز رہنما تھے۔مولانا مرحوم نے ہمیشہ تقویٰ اور ایمانداری کی زندگی گزاری۔ دنیاوی نمود و نمائش اور لالچ سے کوسوں دور رہے۔ حق بات کہنے میں کسی ملامت کرنے والے کی پروا نہ کرتے، مگر ان کی زبان میں نرمی اور انداز میں حکمت ہوتی تھی۔ دوست و دشمن سب ان کی دیانت کے معترف تھے۔
مخالفین سے بھی محبت اور خلوص کے ساتھ ملتے، اختلاف کو دلوں کی دوری نہیں بننے دیتے اور دلوں کو جوڑنے کا ہنر جانتے تھے۔چونکہ راقم نے مولانا کو قریب سے دیکھا تھا، اس لیے یہ کہنا بجا ہے کہ وہ ایک زندہ دل، ملنسار اور نہایت شفیق انسان تھے۔ ان کی مسکراہٹ میں خلوص اور گفتگو میں اپنائیت جھلکتی تھی۔ وہ خاموشی سے اور چھپاکر ضرورت مندوں کی مدد کیا کرتے تھے۔ کئی خاندان ان کی بے لوث معاونت کے گواہ ہیں، مگر انہوں نے کبھی اس کا اظہار پسند نہیں کیا۔مولانا کا مطالعہ وسیع تھا اور وہ دینی و علمی معلومات کا خزینہ تھے۔
طلبہ، علماء اور عام لوگوں کے لیے ان کی صحبت ایک روشن کتاب کی مانند تھی جہاں ہر نشست علم و حکمت سے معمور ہوتی تھی۔گزشتہ کچھ دنوں سے وہ علیل تھے اور تقریباً پندرہ دنوں سے ڈائلاسس کروا رہے تھے۔ بیماری کے باوجود حوصلہ بلند تھا اور انہوں نے خود بتایا تھا کہ ڈائلاسس کے بعد صحت میں کچھ بہتری محسوس ہو رہی ہے۔ تاہم دو دن قبل رات کو ڈائلاسس ہوا اور اگلی صبح تقریباً ساڑھے گیارہ بجے وہ کرسی پر بیٹھے تلاوتِ قرآن میں مشغول تھے کہ اسی حالت میں ان کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کرگئی اور اپنے حقیقی مالک سے جا ملی۔
یوں ان کا وصال عبادت اور تلاوت کی حالت میں ہوا۔ انتقال کے بعد ان کا چہرہ انتہائی پُر نور تھا، جیسے علم، تقویٰ اور اللہ کی قربت کی روشنی نے اس پر جلوہ افروز کی ہو۔جب طبیعت زیادہ ناساز ہوئی تو ان کے فرزند کی جانب سے اطلاع ملتے ہی راقم فوری طور پر پہنچا، مگر افسوس کہ میرے پہنچنے تک وہ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے تھے۔ اس لمحے کی کیفیت الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔مرحوم کی نمازِ جنازہ بعد نمازِ عشاء مسجد ہزاری میں ادا کی گئی۔
مسجد کے دونوں حصے، بالا اور زیریں، مکمل طور پر بھر گئے جبکہ باہر بھی لوگوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ اطراف و اکناف کے دیہاتوں سے علماء اور ائمۂ مساجد بھی کثیر تعداد میں جنازے میں شریک ہوئے، جو مرحوم کی علمی و دینی قدر و منزلت کا واضح ثبوت ہے۔ نمازِ جنازہ مرحوم کے فرزند محمد حبیب اللہ نے پڑھائی۔ بعد ازاں تدفین ہزاری قبرستان میں عمل میں آئی، جہاں اہلِ شہر، شاگردوں اور عقیدت مندوں نے اشکبار آنکھوں سے انہیں سپردِ خاک کیا۔
مولانا عبدالوہاب قاسمی کا وصال یقیناً ایک عظیم علمی، دینی اور اخلاقی خسارہ ہے، مگر ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دے گئی کہ اصل کامیابی تقویٰ، دیانت، اخلاص، محبت اور اللہ کی یاد میں ہے۔ ان کی یادیں، ان کے خطبات، ان کی مسکراہٹ اور ان کا کردار ہمیشہ دلوں میں زندہ رہیں گے۔اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین