Delhi High Court

ہندوستانی عدلیہ: انصاف کا ستون یا طاقت کا نیا مرکز؟

تازہ خبر مضامین
ہندوستانی عدلیہ: انصاف کا ستون یا طاقت کا نیا مرکز؟
کیا عوام کا عدالتوں پر اعتماد متزلزل ہو رہا ہے؟
اروند کیجریوال سے جسٹس سوارنا کانتا شرما تک: جانبداری کے الزامات نے نئی بحث 
عدلیہ کی ساکھ پر سب سے بڑا امتحان
عمران زین

 ازتحریر : عمران زین

ایڈیٹر زین نیوز
ہندوستان میں عدلیہ کو ہمیشہ جمہوریت کے ایک مضبوط ستون کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ عوام کی بڑی تعداد عدالتوں کو انصاف کی آخری امید سمجھتی رہی ہے، لیکن گزشتہ چند برسوں میں مختلف سیاسی مقدمات، متنازع عدالتی ریمارکس، اور اہم سیاسی شخصیات سے متعلق فیصلوں نے عدلیہ کی غیر جانبداری پر سوالات کھڑے کیے ہیں۔ حالیہ دنوں میں اروند کیجریوال اور دہلی شراب پالیسی مقدمہ کے دوران سامنے آنے والے واقعات نے ایک بار پھر ہندوستانی عدلیہ کے وقار، غیر جانبداری اور عوامی اعتماد پر سنجیدہ بحث چھیڑ دی ہے۔
اروند کیجریوال، جو خود کو بدعنوانی مخالف سیاست کا نمائندہ قرار دیتے رہے ہیں، گزشتہ چند برسوں سے مختلف قانونی مقدمات میں گھرے ہوئے ہیں۔ ان کے حامیوں کا الزام ہے کہ مرکزی حکومت تحقیقاتی اداروں اور عدالتی عمل کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کر رہی ہے، جبکہ مخالفین کا کہنا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور اگر کوئی سیاست دان الزامات کا سامنا کر رہا ہے تو اسے عدالت میں اپنی بے گناہی ثابت کرنی چاہیے۔ یہی اختلافِ رائے عدلیہ کے کردار کو بھی متنازع بناتا جا رہا ہے۔
کئی مواقع پر عدالتوں کے بعض ریمارکس اور فیصلوں نے عوامی سطح پر یہ تاثر پیدا کیا کہ سیاسی معاملات میں عدلیہ غیر معمولی طور پر سرگرم ہو رہی ہے۔ بعض حلقے اسے “عدالتی فعالیت” کہتے ہیں، جبکہ ناقدین اسے “عدالتی تجاوز” یا “ججوں کی حکومت” قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق جب منتخب حکومتوں کے فیصلوں، انتظامی معاملات، یا سیاسی تنازعات میں عدالتیں حد سے زیادہ مداخلت کرتی ہیں تو عوامی مینڈیٹ کی اہمیت متاثر ہونے لگتی ہے۔
دہلی شراب پالیسی مقدمہ کے دوران اس بحث نے ایک نیا رخ اُس وقت اختیار کیا جب دہلی ہائی کورٹ کی جج سوارنا کانتا شرما کے خلاف اروند کیجریوال نے کھلی عدالت میں جانبدار ہونے کا الزام عائد کیا۔ کیجریوال نے عدالت میں ذاتی طور پر پیش ہو کر کہا کہ انہیں اس بات کا “معقول اندیشہ” ہے کہ انہیں اس عدالت سے غیر جانبدارانہ انصاف نہیں مل سکے گا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ جسٹس سوارنا کانتا شرما راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے وابستہ وکلاء تنظیم “اکھل بھارتیہ ادھیوکتا پریشد” کے پروگراموں میں متعدد مرتبہ شرکت کر چکی ہیں، جس کی وجہ سے ان کے ذہن میں جانبداری کا خدشہ پیدا ہوا۔ کیجریوال کے وکلاء نے عدالت میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ ایک جج کو صرف غیر جانبدار ہونا ہی کافی نہیں بلکہ اس کا غیر جانبدار نظر آنا بھی ضروری ہے۔
کیجریوال نے عدالت میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ بعض عبوری احکامات اور عدالتی مشاہدات ایسے تھے جن سے بظاہر یہ محسوس ہوا کہ عدالت پہلے ہی ان کے خلاف ذہن بنا چکی ہے۔ ان کے مطابق چند مواقع پر عدالت نے تحقیقاتی اداروں کے مؤقف کو غیر معمولی اہمیت دی جبکہ دفاع کو مکمل موقع نہیں ملا۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ بعض ریمارکس سے ایسا محسوس ہوا جیسے عدالت انہیں پہلے ہی “تقریباً مجرم” تصور کر رہی ہو۔
اس پورے مقدمہ نے اس وقت مزید شدت اختیار کی جب 27 فروری کو ماتحت عدالت نے اس مقدمہ میں شامل تمام 23 ملزمین، جن میں اروند کیجریوال، منیش سسودیا اور کے کویتا شامل تھے، کو بری کر دیا۔ ماتحت عدالت نے اپنے فیصلے میں مرکزی تحقیقاتی ادارے کی تفتیش پر سخت تنقید بھی کی اور کئی نکات کو کمزور اور ناقص قرار دیا۔ اس سے قبل یہ معاملہ سیاسی طور پر اس وقت انتہائی حساس بن چکا تھا جب 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران کیجریوال کو گرفتار کیا گیا اور وہ تقریباً 156 دن تک حراست میں رہے، بعد ازاں سپریم کورٹ نے انہیں ضمانت دی۔ اسی مقدمہ میں منیش سسودیا تقریباً 530 دن تک جیل میں رہے۔
بعد میں مرکزی تحقیقاتی ادارے نے ماتحت عدالت کے فیصلے کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا، جہاں جسٹس سوارنا کانتا شرما نے ابتدائی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ ماتحت عدالت کے بعض مشاہدات بظاہر “غلط” معلوم ہوتے ہیں۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں سے کیجریوال اور دیگر ملزمین نے جسٹس سوارنا کانتا شرما کی جانبداری پر سوال اٹھانا شروع کیا۔
اس کے بعد کیجریوال، منیش سسودیا اور دیگر ملزمین نے جسٹس سوارنا کانتا شرما سے مقدمہ سے الگ ہونے کی درخواست دائر کی۔ تاہم جسٹس سوارنا کانتا شرما نے ان درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ محض اندیشوں یا سیاسی بیانیوں کی بنیاد پر کوئی جج مقدمہ سے الگ نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر جج دباؤ، تشہیری مہمات یا عوامی مہمات کے تحت مقدمات چھوڑنے لگیں تو عدلیہ کی آزادی خطرے میں پڑ جائے گی۔ عدالت نے اس بات پر بھی ناراضگی ظاہر کی کہ عدلیہ کو عوامی اور سیاسی مہمات کے ذریعے متنازع بنایا جا رہا ہے۔
اس کے بعد صورتحال اس وقت مزید سنگین ہوگئی جب کیجریوال اور منیش سسودیا نے جسٹس سوارنا کانتا شرما کو خط لکھ کر اعلان کیا کہ وہ ان کی عدالت کی کارروائی کا بائیکاٹ کریں گے اور نہ ذاتی طور پر پیش ہوں گے اور نہ ہی اپنے وکلاء کے ذریعے مقدمہ لڑیں گے۔ عدالت اس موقع پر ان کی نمائندگی کے لیے سینئر وکلاء کو “عدالتی معاون” مقرر کرنے پر غور کر رہی تھی تاکہ کارروائی یکطرفہ نہ ہو۔
اسی دوران جسٹس سوارنا کانتا شرما نے عدالت میں ایک سخت بیان دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف انتہائی توہین آمیز، ہتک آمیز اور کردار کشی پر مبنی مواد سماجی ذرائع ابلاغ اور دیگر ذرائع پر پھیلایا جا رہا ہے۔ انہوں نے سالیسٹر جنرل تشار مہتا سے خطاب کرتے ہوئے کہا:
“میں آج عدالتی معاونین کے ناموں کا اعلان کرنے والی تھی، کچھ سینئر وکلاء نے رضامندی بھی ظاہر کی تھی، مگر اسی دوران میرے علم میں آیا کہ میرے خلاف نہایت ہتک آمیز اور کردار کشی پر مبنی مواد پھیلایا جا رہا ہے۔ میں نے بعض افراد اور ذمہ داران کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میں خاموش نہیں رہ سکتی۔”
جسٹس سوارنا کانتا شرما نے واضح کیا کہ عدلیہ کو دانستہ طور پر بدنام کرنے، ججوں کے خلاف نفرت پھیلانے اور عدالتوں پر عوامی دباؤ ڈالنے کی کوشش خطرناک رجحان ہے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ اس معاملہ پر تفصیلی حکم جاری کیا جائے گا۔
اسی بحث کے دوران سابق چیف جسٹس آف انڈیا ڈی۔ وائی۔ چندر چوڑ کا نام بھی بار بار زیرِ بحث آیا۔ جسٹس ڈی۔ وائی۔ چندر چوڑ کو ایک روشن خیال، آئینی آزادیوں کے حامی اور نسبتاً آزاد مزاج جج کے طور پر دیکھا جاتا تھا، مگر اس کے باوجود ایک واقعہ نے عدلیہ کی غیر جانبداری پر نئی بحث چھیڑ دی۔ جب وہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے منصب پر فائز تھے، اُس دوران وزیر اعظم نریندر مودی کی اُن کے گھر مذہبی تہوار کے موقع پر موجودگی کی تصاویر اور خبریں منظر عام پر آئیں۔ ناقدین نے سوال اٹھایا کہ ایک ایسے وقت میں جب حکومت سے متعلق حساس مقدمات عدالت میں زیرِ سماعت ہوں، چیف جسٹس اور وزیر اعظم کی اس نوعیت کی قربت عدلیہ کے وقار اور غیر جانبداری کے تاثر کو متاثر کر سکتی ہے۔
ہندوستان میں عدلیہ سے متعلق ایک اور اہم بحث اُن سابق ججوں کے گرد بھی رہی ہے جو سبکدوشی کے بعد حکومتی عہدوں پر فائز ہوئے۔ ناقدین کے مطابق اس سے عدلیہ کی آزادی اور غیر جانبداری پر سوالات پیدا ہوتے ہیں، خاص طور پر جب وہ جج اپنے دورِ ملازمت میں حکومت سے متعلق اہم یا متنازع فیصلے دے چکے ہوں۔
مثال کے طور پر سابق چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے ایودھیا تنازعہ، رافیل طیارہ معاملہ اور دیگر حساس مقدمات میں اہم بنچوں کی سربراہی کی۔ سبکدوشی کے کچھ ہی عرصہ بعد انہیں راجیہ سبھا کے لیے نامزد کر دیا گیا۔ اس فیصلے پر قانونی حلقوں، حزبِ اختلاف جماعتوں اور سماجی تنظیموں کے ایک طبقہ نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ تقرری عدلیہ اور حکومت کے درمیان فاصلہ کم کرنے کا تاثر پیدا نہیں کرتی۔
اسی طرح ایس عبدالنظیر، جو ایودھیا تنازعہ اور نوٹ بندی جیسے اہم مقدمات کی بنچ کا حصہ رہے، سبکدوشی کے بعد آندھرا پردیش کے گورنر مقرر کیے گئے۔ ناقدین نے اسے بھی عدلیہ اور حکومت کے تعلقات کے تناظر میں دیکھا، اگرچہ حکومت نے ان تقرریوں کو آئینی اور معمول کے مطابق قرار دیا۔
بعض حلقے یہ بھی کہتے ہیں کہ جب سبکدوشی کے فوراً بعد جج حضرات کو سرکاری عہدے، گورنری یا پارلیمانی نشستیں ملتی ہیں تو عوام میں یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ شاید عدالتی فیصلوں پر مستقبل کے امکانات اثر انداز ہوتے ہوں۔ دوسری طرف ان تقرریوں کے حامیوں کا کہنا ہے کہ تجربہ کار ججوں کی آئینی عہدوں پر خدمات لینا کوئی غیر معمولی بات نہیں اور اسے محض سیاسی زاویے سے نہیں دیکھنا چاہیے۔
اسی طرح بعض مسلم معاملات سے متعلق عدالتی فیصلے بھی ملک میں بحث کا موضوع بنے۔ مثال کے طور پر طلاقِ ثلاثہ کے فیصلہ میں سپریم کورٹ نے “طلاقِ ثلاثہ” کو غیر آئینی قرار دیا۔ اس فیصلے کو بعض حلقوں نے مسلم خواتین کے حقوق کے تحفظ کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا، جبکہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے حامی حلقوں نے اسے مذہبی معاملات میں عدالتی مداخلت سے تعبیر کیا۔ اسی طرح آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ سے متعلق معاملات میں بھی وقتاً فوقتاً یہ بحث اٹھتی رہی کہ عدالتیں مذہبی آزادی اور آئینی اصولوں کے درمیان توازن کیسے قائم کریں۔
اسی طرح عمر خالد جیسے مقدمات میں طویل حراست، ضمانت میں تاخیر، اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے سخت قوانین کے استعمال پر بھی انسانی حقوق کے حلقوں اور قانونی ماہرین نے سوالات اٹھائے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات میں عدالتی عمل کی رفتار اور رویہ عوامی اعتماد کو متاثر کرتا ہے، جبکہ دوسری طرف عدالتوں اور حکومت کا مؤقف یہ رہا ہے کہ قومی سلامتی اور قانون کی عملداری کے تقاضے مقدم ہیں۔
یہ تمام واقعات ملک میں عدلیہ کی ساکھ اور “ججوں کی گردی” کے تصور پر نئی بحث کا باعث بنے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بعض جج حضرات انتظامیہ اور سیاست میں حد سے زیادہ مداخلت کرتے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ بعض مواقع پر ان کے ریمارکس اور رویے ایسے محسوس ہوتے ہیں جیسے عدالتی طاقت عوامی مینڈیٹ سے بالاتر ہو گئی ہو۔ دوسری جانب عدلیہ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ عدالتیں آئین کی محافظ ہیں اور اگر وہ مداخلت نہ کریں تو حکومتی اختیارات بے لگام ہو سکتے ہیں۔
اگرچہ بعض قانونی ماہرین ان تمام معاملات کو آئینی اور قانونی دائرے میں دیکھتے ہیں، مگر ناقدین کے مطابق عدلیہ صرف غیر جانبدار ہونا ہی کافی نہیں بلکہ اس کا غیر جانبدار نظر آنا بھی ضروری ہے۔ جمہوری نظام میں اداروں کی ساکھ بڑی حد تک عوامی تاثر پر قائم ہوتی ہے، اور جب اعلیٰ ترین عدالتی منصب پر فائز شخصیات حکمران طبقے کے ساتھ غیر رسمی قربت میں دکھائی دیں یا حساس معاملات میں تضاد کا تاثر پیدا ہو تو شکوک و شبہات بڑھنے لگتے ہیں۔
ہندوستان میں عدلیہ پر اعتماد کم ہونے کی ایک بڑی وجہ فیصلوں میں تضاد کا تاثر بھی ہے۔ بعض حساس سیاسی مقدمات میں فوری سماعت اور جلد فیصلے ہوتے ہیں، جبکہ کئی عوامی نوعیت کے معاملات برسوں زیر التوا رہتے ہیں۔ اس صورتحال سے عوام میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا انصاف واقعی یکساں رفتار سے فراہم کیا جا رہا ہے یا نہیں۔ خاص طور پر جب حزبِ اختلاف رہنماؤں کے خلاف کارروائیاں تیز ہوں اور حکومتی حلقوں سے وابستہ افراد کے مقدمات سست روی کا شکار دکھائی دیں تو شکوک مزید گہرے ہوتے ہیں۔
اسی طرح سماجی ذرائع ابلاغ نے بھی عدلیہ کے وقار اور عوامی تاثر پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ پہلے عدالتی کارروائی صرف قانونی حلقوں تک محدود رہتی تھی، مگر اب ہر ریمارک، ہر سماعت اور ہر عبوری حکم سیاسی بحث کا حصہ بن جاتا ہے۔ سیاسی جماعتیں اپنے اپنے مفاد کے مطابق عدالتی فیصلوں کی تشریح کرتی ہیں۔ نتیجتاً عدالتیں بھی سیاسی تنقید کا مرکز بنتی جا رہی ہیں، جو ماضی میں کم دیکھنے کو ملتا تھا۔
تاہم یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ ہندوستانی عدلیہ نے کئی تاریخی فیصلوں کے ذریعے جمہوریت، بنیادی حقوق اور آئین کی بالادستی کو مضبوط کیا ہے۔ ایمرجنسی کے بعد کے دور سے لے کر اظہارِ رائے، شہری آزادیوں اور انتخابی شفافیت کے معاملات تک، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسی لیے مکمل طور پر عدلیہ پر عدم اعتماد کا تاثر بھی درست نہیں ہوگا۔ مسئلہ دراصل شفافیت، یکسانیت اور غیر جانبداری کے تاثر کا ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ عدلیہ نہ صرف آزاد ہو بلکہ عوام کو اس کی آزادی اور غیر جانبداری محسوس بھی ہو۔ عدالتوں کو اپنے فیصلوں اور ریمارکس میں ایسا توازن برقرار رکھنا ہوگا کہ سیاسی جانبداری کا شائبہ بھی پیدا نہ ہو۔ اسی طرح سیاسی جماعتوں کو بھی ہر فیصلے کو صرف اپنے مفاد کے زاویے سے دیکھنے کے بجائے اداروں کے وقار کا خیال رکھنا چاہیے۔
اگر عوام کا اعتماد عدلیہ سے متزلزل ہو جائے تو جمہوریت کی بنیادیں کمزور پڑ سکتی ہیں، کیونکہ انصاف کا نظام ہی ریاست اور شہری کے درمیان آخری اعتماد کا رشتہ ہوتا ہے۔ اس لیے ہندوستانی عدلیہ کے لیے موجودہ دور ایک بڑا امتحان ہے کہ وہ اپنے فیصلوں، طرزِ عمل اور شفافیت کے ذریعے اس اعتماد کو دوبارہ مضبوط کرے۔