ایمپلائز پروویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن نے آدھار کارڈ کو درست تاریخ پیدائش کے ثبوت کی فہرست سے ہٹا دیا
کن دستاویزات کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔جانیے
نئی دہلی:۔19؍جنوری
(زین نیوز ڈیسک)

نےلیبر اور روزگار کی وزارت کے تحت ایمپلائز پروویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن ‘ای پی ایف او نے آدھار کارڈ کو لے کر بڑا فیصلہ لیا ہے۔ اب ای پی ایف او میں کسی بھی کام کے لیے تاریخ پیدائش کے ثبوت کے طور پر آدھار کارڈ کی درستگی کو روک دیا گیا ہے۔
ایمپلائز پروویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن (ای پی ایف او) نے منگل (16 جنوری) کو ایک سرکلر میں اعلان کیا کہ انہوں نے آدھار کارڈ کو تاریخ پیدائش کے ثبوت کے طور پر قابل قبول دستاویزات کی فہرست سے ہٹا دیا ہے۔
EPFO کی طرف سے یہ قدم یونیک آئیڈنٹیفکیشن اتھارٹی آف انڈیا (UIDAI) (2023 کا سرکلر نمبر 08) کی طرف سے ایک ہدایت موصول ہونے کے بعد اٹھایا گیا ہے جس میں آدھار کو تاریخ پیدائش کے ثبوت کے طور پر قبول شدہ دستاویزات کی فہرست سے حذف کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔
یعنی اب ‘آدھار کارڈ کا استعمال تاریخ پیدائش کو اپ ڈیٹ کرنے یا اس میں کسی غلطی کو دور کرنے کے لیے نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ای پی ایف او نے آدھار کارڈ کو اپنے درست دستاویزات کی فہرست سے ہٹا دیا ہے۔
اس سلسلے میں ایک سرکلر 16 جنوری کو ‘ایمپلائز پروویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن’ نے جاری کیا ہے۔ یونیک آئیڈینٹی فکیشن اتھارٹی آف انڈیا ‘یو آئی ڈی اے کو آدھار کارڈ سے متعلق مندرجہ بالا ہدایات جاری کرنے کو کہا گیا تھا۔
اس کے بعد ہی ای پی ایف او نے تاریخ پیدائش میں تبدیلی کے لیے آدھار کارڈ کی درستگی کو روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے بعد آدھار کارڈ کو ای پی ایف او کے درست دستاویزات کی فہرست سے ہٹا دیا گیا ہے۔
EPFO کے مطابق، تاریخ پیدائش کے ثبوت کے طور پر 10ویں کلاس کا سرٹیفکیٹ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہی نہیں، کسی بھی سرکاری بورڈ یا یونیورسٹی کی طرف سے جاری کردہ مارک شیٹ کو بھی اس مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
تاریخ پیدائش کو اسکول چھوڑنے کے سرٹیفکیٹ اور ٹرانسفر سرٹیفکیٹ کے ذریعے بھی تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ یہی نہیں، اگر سول سرجن نے ایسا کوئی میڈیکل سرٹیفکیٹ جاری کیا ہے جس میں تاریخ پیدائش کا ذکر ہے
تو ای پی ایف او بھی اسے تسلیم کرے گا۔ اس کے علاوہ پاسپورٹ، پین نمبر، ڈومیسائل سرٹیفکیٹ اور پنشن دستاویز کو بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ آدھار کارڈ کو صرف شناختی کارڈ اور رہائش کے ثبوت کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔
سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ سنایا تھا2018 میں سپریم کورٹ نے آدھار کارڈ کو لے کر اہم فیصلہ دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ آدھار کارڈ کا استعمال کہاں کیا جائے گا اور کہاں استعمال نہیں کیا جائے گا۔
سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ بینک اکاؤنٹ اور موبائل نمبر کو آدھار سے جوڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ UGC، CBSE، NIFT اور کالج وغیرہ جیسے ادارے آدھار کارڈ پر لکھے گئے نمبر کا مطالبہ نہیں کر سکتے ہیں۔ اسکول میں داخلے کے لیے آدھار نمبر کا استعمال ضروری نہیں ہوگا۔