امریکہ میں ہندوستانی وزرائے اعلیٰ اور آر ایس ایس پر پابندیوں کا مطالبہ
عالمی سطح پر آر ایس ایس اور مذہبی آزادی سے متعلق بڑھتی ہوئی بحث۔
ازتحریر : عمران زین

ایڈیٹر زین یوز
ملک کی موجودہ صورتحال میں راشٹریہ سوایم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور اس سے وابستہ تنظیموں کا معاملہ محض ہندوستان کی داخلی سیاست تک محدود نہیں رہا بلکہ بین الاقوامی سفارتی، انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کے مباحث کا ایک اہم موضوع بن چکا ہے۔ ایک جانب مغربی ادارے، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور مذہبی آزادی کے نگران ادارے ہندوستان میں اقلیتوں کے تحفظ، مذہبی آزادی اور ہندوتوا سیاست کے بڑھتے ہوئے اثرات کے حوالے سے مسلسل سوالات اٹھا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب مرکزی حکومت ان اعتراضات کو سیاسی، یکطرفہ اور ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے مسترد کر رہی ہے اور اسے ہندوستان کے خلاف منظم پروپیگنڈا قرار دے رہی ہے۔
بعض آزاد اور تحقیقی صحافتی اداروں نے بھی گزشتہ برسوں کے دوران ہندوستان میں مذہبی آزادی، اقلیتوں کے حقوق اور ہندوتوا سیاست کے اثرات پر متعدد رپورٹس اور تجزیے شائع کیے ہیں۔ دی وائر، سکرول، دی کاروان، نیوز لانڈری اور دیگر آزاد میڈیا پلیٹ فارمز نے مختلف مواقع پر بلڈوزر کارروائیوں، نفرت انگیز تقاریر، فرقہ وارانہ کشیدگی، اقلیتوں کے خلاف تشدد کے واقعات اور مذہبی آزادی سے متعلق مسائل پر تفصیلی رپورٹنگ کی ہے۔
ان اداروں کے تجزیوں میں یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ بعض سرکاری اقدامات اور سیاسی بیانیوں نے اقلیتوں میں عدم تحفظ کے احساس کو بڑھایا ہے اور اس کے اثرات ہندوستان کی بین الاقوامی شبیہ پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔ اس کے برعکس حکومت کے حامی مبصرین، بعض قومی میڈیا ادارے اور حکمران جماعت سے وابستہ حلقے ان رپورٹس کو یکطرفہ قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان میں ملک کی سلامتی، غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائیوں، عدالتی فیصلوں اور اکثریتی طبقے کے خدشات کو مناسب اہمیت نہیں دی جاتی۔
ان کے مطابق آر ایس ایس کو سماجی خدمت، قدرتی آفات کے دوران امدادی سرگرمیوں، تعلیم، صحت اور قومی یکجہتی کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کرنے والی تنظیم کے طور پر بھی دیکھا جانا چاہیے، جس کے مثبت پہلو اکثر بین الاقوامی مباحث میں پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔بین الاقوامی سطح پر متعدد، تحقیقی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی ہندوستان میں مذہبی آزادی اور اقلیتی حقوق کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے
، جبکہ ہندوستانی حکومت مسلسل اس مؤقف پر قائم ہے کہ ملک کا آئین تمام شہریوں کو مساوی حقوق فراہم کرتا ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ قانونی تقاضوں کے مطابق انجام دی جاتی ہیں۔ یہی اختلافِ رائے آر ایس ایس، مذہبی آزادی اور اقلیتی حقوق کے موضوع کو ملکی اور عالمی سطح پر جاری بحث کا مرکز بنائے ہوئے ہے۔
اسی پس منظر میں امریکہ کی بین الاقوامی مذہبی آزادی کمیشن (USCIRF) میں منعقدہ ایک خصوصی سماعت کے دوران ہندوستان کے تین اہم وزرائے اعلیٰ اور راشٹریہ سوایم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے خلاف مالی، سفری اور دیگر پابندیوں کا مطالبہ سامنے آیا، جس نے اس بحث کو مزید شدت بخش دی۔ کمیشن کے روبرو پیش کی گئی سفارشات میں اسام کے وزیراعلیٰ ہیمنتا بسوا سرما، اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور اتراکھنڈ کے وزیراعلیٰ پشکر سنگھ دھامی پر عالمی میگنٹسکی قانون کے تحت پابندیاں عائد کرنے کے ساتھ ساتھ آر ایس ایس اور اس سے وابستہ بعض تنظیموں کے خلاف بھی کارروائی کی اپیل کی گئی۔
7مئی 2026 کو واشنگٹن میں "ہندوستان میں مذہبی آزادی کی بگڑتی ہوئی صورتحال” کے عنوان سے منعقدہ سماعت میں امریکہ میں مقیم کشمیری نژاد صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن، سینٹر فار دی اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ کے بانی راقب حمید نائیک نے بطور گواہ بیان دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ہندوستان میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف منظم امتیازی پالیسیوں، نفرت انگیز تقاریر اور انتظامی اقدامات کے ذریعے ایک تشویشناک ماحول پیدا کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض ریاستی حکومتوں کی کارروائیاں اور سیاسی بیانات مذہبی اقلیتوں کے بنیادی حقوق اور دستوری تحفظات کو متاثر کر رہے ہیں، جس کے باعث بین الاقوامی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔راقب حمید نائیک نے امریکی حکومت سے اپیل کی کہ عالمی میگنٹسکی قانون کے تحت مذکورہ تینوں وزرائے اعلیٰ سمیت دیگر بعض سیاست دانوں پر پابندیاں عائد کی جائیں۔ انہوں نے آر ایس ایس، بجرنگ دل، وشو ہندو پریشد اور دیگر متعلقہ تنظیموں پر بھی پابندی لگانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتوں کے خلاف مبینہ امتیازی اقدامات انتظامی سرپرستی اور مکمل بے سزائی کے ماحول میں فروغ پا رہے ہیں۔
سماعت کے دوران انہوں نے دعویٰ کیا کہ "لون جہاد”، "لینڈ جہاد” اور دیگر متنازع سیاسی نعروں اور بیانیوں نے معاشرے میں تقسیم کو گہرا کیا ہے، جبکہ بلڈوزر کارروائیوں، املاک کی مسماری اور بعض انتظامی اقدامات نے اقلیتوں میں عدم تحفظ کے احساس کو بڑھایا ہے۔ ان کے مطابق شہریت ترمیمی قانون (CAA)، قومی رجسٹر آف سٹیزنز (NRC) اور بعض دیگر حکومتی اقدامات بھی بین الاقوامی سطح پر تنقید کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔امریکہ کی بین الاقوامی مذہبی آزادی کمیشن نے اپنی 2026 کی سالانہ رپورٹ میں بھی آر ایس ایس کے خلاف سخت اقدامات کی سفارش کی ہے۔ کمیشن نے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آر ایس ایس کے اثاثے منجمد کیے جائیں، اس کے اراکین کے امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کی جائے اور تنظیم پر قانونی پابندی لگائی جائے۔
تاہم یہ سفارشات مشاورتی نوعیت کی ہیں اور اب تک امریکی حکومت نے آر ایس ایس یا مذکورہ تینوں وزرائے اعلیٰ کے خلاف کوئی عملی اقدام نہیں کیا ہے۔کینیڈا میں بھی بعض سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے آر ایس ایس پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ نیو ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما جگمیت سنگھ اور نیشنل کونسل آف کینیڈین مسلمانز سمیت کئی تنظیموں نے آر ایس ایس کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کی اپیل کی ہے۔
اسی طرح برطانیہ، آسٹریلیا اور بعض یورپی ممالک میں بھی مسلم اور سکھ تنظیموں نے آر ایس ایس کے عالمی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، تاہم اب تک کسی بھی ملک میں اس تنظیم پر فعال قانونی پابندی عائد نہیں کی گئی۔دوسری جانب ہندوستانی وزارت خارجہ نے امریکی کمیشن کی سفارشات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں "متعصب، مغرضانہ اور ہندوستان کے اندرونی معاملات میں غیر ضروری مداخلت” قرار دیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ہندوستان ایک مضبوط جمہوری ملک ہے جہاں تمام شہریوں کو قانون کے تحت مساوی حقوق حاصل ہیں اور مذہبی آزادی کو آئینی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔
وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ یو ایس سی آئی آر ایف کی رپورٹس اور سماعتیں حقائق کو مسخ کرتی ہیں اور ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت چلائی جا رہی مہم کا حصہ ہیں۔ حکومت نے اپنے بیان میں کہا کہ ہندوستان ایک مضبوط جمہوری ملک ہے جہاں قانون کی حکمرانی قائم ہے اور تمام شہریوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں۔اس معاملے پر ہندوستان میں سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔
حکمراں جماعت بی جے پی کے رہنماؤں نے ان سفارشات کو ہندوستان کے خلاف منظم پروپیگنڈا قرار دیا ہے، جبکہ کانگریس سمیت بعض اپوزیشن جماعتوں نے کہا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر اٹھنے والے سوالات حکومت کی پالیسیوں پر نظرثانی کا تقاضا کرتے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ داخلی سیاست اور بین الاقوامی سفارت کاری دونوں کے لیے اہمیت اختیار کر چکا ہے۔
تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو آر ایس ایس پر آزادی کے بعد ہندوستان میں تین مرتبہ پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ پہلی پابندی 1948 میں مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد سردار ولبھ بھائی پٹیل نے لگائی گئی تھی، جبکہ دوسری پابندی 1975 کی ایمرجنسی اور تیسری پابندی 1992 میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد عائد کی گئی۔ تاہم بعد میں یہ تمام پابندیاں واپس لے لی گئی تھیں اور تنظیم نے اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دی تھیں۔اس تمام پس منظر کے درمیان وزیر اعظم نریندر مودی نے آر ایس ایس کے قیام کے سو سال مکمل ہونے کے موقع پر اس کی خدمات کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
انہوں نے آر ایس ایس کو قومی خدمت، سماجی بہبود اور قومی تعمیر میں اہم کردار ادا کرنے والی تنظیم قرار دیتے ہوئے اس کے لاکھوں رضاکاروں کی خدمات کو سراہا ہے۔اگرچہ یو ایس سی آئی آر ایف کی سفارشات قانونی طور پر امریکی حکومت پر لازم نہیں ہوتیں اور اب تک آر ایس ایس یا مذکورہ وزرائے اعلیٰ کے خلاف کوئی عملی پابندی عائد نہیں کی گئی، تاہم اس سماعت نے ایک بار پھر ہندوستان میں مذہبی آزادی، اقلیتی حقوق، ہندوتوا سیاست اور آر ایس ایس کے کردار سے متعلق جاری عالمی بحث کو نمایاں کر دیا ہے۔
ایک جانب ناقدین اسے انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کے حوالے سے اہم بین الاقوامی انتباہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ہندوستانی حکومت اور اس کے حامی حلقے ان الزامات کو بے بنیاد اور ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت سے تعبیر کر رہے ہیں۔
اگرچہ یہ معاملہ فی الحال سفارشات اور سیاسی بیانات کی حد تک محدود ہے، تاہم اس نے ایک بار پھر آر ایس ایس، مذہبی آزادی، اقلیتی حقوق اور ہندوستان کے بین الاقوامی تشخص کے بارے میں جاری بحث کو عالمی سطح پر نمایاں کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق آنے والے برسوں میں یہ بحث مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ہندوستان خود کو ایک بڑی جمہوری، معاشی اور عالمی طاقت کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
ایک جانب حکومت اور اس کے حامی حلقے آر ایس ایس کو قومی تعمیر و ترقی کا اہم ستون قرار دیتے ہیں، تو دوسری جانب ناقدین اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اقلیتوں کے تحفظ، مذہبی آزادی اور دستوری مساوات سے متعلق سوالات اٹھا رہی ہیں۔ یہی متضاد بیانیے آر ایس ایس، مذہبی آزادی، اقلیتی حقوق اور ہندوستان کے سیکولر کردار سے متعلق مباحث کو نہ صرف ملک کے اندر بلکہ عالمی سطح پر بھی زیرِ بحث رکھے ہوئے ہیں، اور بظاہر یہ موضوع آنے والے عرصے میں بھی سیاسی، قانونی، سفارتی اور سماجی گفتگو کا اہم حصہ بنا رہے گا