Anees Khan

ٹرین میں خاتون کانسٹیبل پر حملہ ۔مرکزی ملزم نسیم خان پولیس انکاؤنٹر میں ہلاک

تازہ خبر جرائم حادثات قومی
ٹرین میں خاتون کانسٹیبل پر حملہ ۔
مرکزی ملزم نسیم خان پولیس انکاؤنٹر میں ہلاک ۔دیگر دو ساتھی زخمی 
لکھنؤ:۔22؍ستمبر
(زین نیوز ڈیسک)
سریو ایکسپریس میں خاتون کانسٹیبل پر حملہ کرنے والے ملزم نسیم خان کو پولیس نے جمعہ کی صبح ایک انکاؤنٹر میں مار دیا۔ اس کے دو ساتھی آزاد اور وشومبھر دیال زخمی ہوگئے۔اور وہ ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ انیس اور آزاد ایودھیا کے حیدر گنج کے رہنے والے ہیں، دوبے سلطان پور کے رہنے والاہے۔
30 اگست کو ساون میلے کے دوران سریو ایکسپریس ٹرین میں ایک خاتون کانسٹیبل پر حملہ کیا گیا تھا۔ خاتون کانسٹیبل ٹرین کے فرش پر خون میں لت پت پڑی پائی گئی۔ اس واقعہ کے سامنے آنے کے بعد محکمہ پولیس میں ہلچل مچ گئی۔
یوپی ایس ٹی ایف اور ایودھیا پولیس مسلسل ملزم کی تلاش کر رہی تھی۔ ایس او پوراکلندر رتن شرما اور دو کانسٹیبل بھی اس انکاؤنٹر میں زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ یوپی حکومت نے ملزم پر ایک لاکھ روپے کا انعام رکھا تھا۔
پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایودھیا) راج کرن نیر نے کہا کہ پولیس کو ایک اطلاع ملی جس کے بعد متاثرہ کو ایک تصویر دکھائی گئی۔انہوں نے مزید کہا کہ متاثرہ کی جانب سے فراہم کردہ معلومات سے ملزمان کا سراغ لگانے میں مدد ملی۔ ذرائع نے بتایا کہ متاثرہ کو دکھائی گئی تصویر انیس خان کی تھی۔
پولیس کے مطابق یہ لوگ ٹرینوں میں ڈکیتی کی وارداتیں کرتے تھے۔ معلومات کے مطابق ایودھیا ضلع کے پورکلندر تھانے کے چھتریوا پارا کیل روڈ پر پولیس ٹیم اور ملزمین کے درمیان انکاؤنٹر ہوا۔ اسی معاملے میں عنایت نگر تھانے سے دو دیگر ملزمان کو بھی پولیس مقابلے میں گرفتار کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ 30 اگست کو ساون میلے کے دوران سریو ایکسپریس ٹرین کی بوگی میں سیٹ کے نیچے ایک خاتون ہیڈ کانسٹیبل خون میں لت پت اور بے ہوشی کی حالت میں پائی گئی تھی۔ خاتون کانسٹیبل کو لکھنؤ کے جی ایم یو کے ٹراما سینٹر لایا گیا۔ اس کے سر اور چہرے سمیت جسم کے کئی حصوں پر شدید چوٹوں کے نشانات تھے۔
اس گھناؤنے معاملے میں الہ آباد ہائی کورٹ نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے ملزمین کی فوری گرفتاری کا حکم دیا تھا۔ خاتون کانسٹیبل کو جب ہوش آیا تو اس نے افسروں کو حملے کی اطلاع دی اور کہا کہ اس پر دو لوگوں نے حملہ کیا ہے۔ فی الحال خاتون کانسٹیبل کا علاج کے جی ایم یو کے ٹراما سینٹر میں کیا جا رہا ہے۔ واقعہ کا پردہ فاش کرنے کے لیے ایس ٹی ایف کو تعینات کیا گیا تھا۔
خاتون کانسٹیبل پر جان لیوا حملہ کرنے والے تینوں بدمعاش ٹرینوں میں مجرمانہ وارداتیں کرتے تھے۔ اس کے خلاف کئی مقدمات بھی درج ہیں۔ ایس ٹی ایف کی جانچ میں پتہ چلا ہے کہ تینوں کورے بھار اسٹیشن پر سریو ایکسپریس کی جنرل بوگی میں سوار ہوئے تھے۔
جب ملزم بوگی میں سوار ہوا تو خاتون ہیڈ کانسٹیبل کے علاوہ اس میں دو سادھو بیٹھے تھے۔ خاتون کانسٹیبل اپنا بیگ تکیے پر رکھ کر سو رہی تھی۔ تینوں اس کے قریب گئے اور چھیڑ چھاڑ کرنے لگے۔
جب اس نے احتجاج کیا تو انیس نے اس کے گال پر بلیڈ سے حملہ کیا اور اس کا سر کھڑکی سے کئی بار مارا۔ پھر تینوں نے اس پر زبردستی کرنے کی کوشش کی اور اس کے کپڑے پھاڑ دیئے۔
ایودھیا جنکشن سے تقریباً دو کلومیٹر پہلے رام گڑھ ہولٹ پر اچانک ٹرین کی رفتار کم ہونے لگی جس کی وجہ سے تینوں کو شبہ ہوا کہ کسی نے زنجیر کھینچ لی ہے۔ تینوں نے ڈر کر ٹرین سے چھلانگ لگا دی اور آٹو سے ایودھیا آنے کے بعد الگ الگ بھاگ گئے۔
 ایس ٹی ایف نے بی ٹی ایس سے انیس کے موبائل کی لوکیشن حاصل کی جس کے متوازی خاتون کانسٹیبل اور دیگر دو حملہ آوروں کی لوکیشن بھی حاصل کی جا رہی ہے۔ اس کے بعد ایس ٹی ایف نے تینوں کی تلاش شروع کی اور انیس خان کو انکاؤنٹر میں مار دیا۔ اس کے دیگر دو ساتھی بھی پولیس کی فائرنگ سے زخمی ہوئے۔