KTR

گبھیراؤپیٹ میں یتیم بچی کی شادی؛ والد اور بھائی کے سائے کے بغیر دل کو چھو لینے والا منظر

تازہ خبر تلنگانہ
گبھیراؤپیٹ میں یتیم بچی کی شادی؛ والد اور بھائی کے سائے کے بغیر دل کو چھو لینے والا منظر
شریک ہونا محض ایک رسم نہیں بلکہ رشتوں کی سچائی اور بھروسے کی مثال ہے: کے ٹی آر
گبھیراؤپیٹ:16؍اگست
( نمائندۂ خصوصی)
زندگی کے کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جو سیاست سے بڑھ کر انسانی رشتوں اور جذبات کی اصل معنویت کو اجاگر کرتے ہیں۔تلنگانہ کے سرسلہ راجنا ضلع کے گبھیراؤپیٹ منڈل کے نرمال گاؤں میں ایسا ہی ایک منظر اس وقت دیکھنے کو ملا جب یتیم بچی نوِتا نے اپنی شادی میں والد اور بھائی کے نہ ہونے کی کمی کو پُر کرنے کے لیے سابق وزیر و بی آر ایس کے کارگذار صدر کے۔ ٹی۔ راماراؤ (کے ٹی آر) کو خصوصی طور پر مدعو کیا۔
کے ٹی آر نے اپنی شرکت کے دوران جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ آج مجھے ایک خاص دعوت نامہ موصول ہوا، جو میرے لیے ایک انوکھا اور جذباتی احساس تھا۔ ہر بیٹی اپنی شادی میں والد کی دعاؤں اور بھائی کے سہارے کی خواہش رکھتی ہے۔ مگر میری بہن نوِتا نے اپنے والد اور بھائی کو کھونے کے بعد اس کمی کو پورا کرنے کے لیے مجھے یاد کیا۔
 یہ دعوت میرے لیے محض ایک رسمی بلاوا نہیں، بلکہ مجھ پر کیا گیا بھروسہ اور ایک بھائی پر رکھی گئی امید ہے۔ نوِتا کی اس خواہش کا احترام کرنا میں نے اپنی ذمہ داری اور فرض سمجھا۔نوِتا کے والد دھیان بویِن نرسِملو بی آر ایس پارٹی کے سرگرم اور مخلص کارکن تھے جنہوں نے اپنی زندگی پارٹی کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔ کورونا وبا کے دوران وہ انتقال کر گئے۔
ان کے بعد خاندان کا سہارا بننے والے بیٹے دھیان بویِن نریش بھی ایک حادثے میں جان کی بازی ہار گئے۔ لیکن اپنی وفات کے بعد بھی انہوں نے اپنے اعضا عطیہ کرکے ایثار اور انسانیت کی لازوال مثال قائم کی۔اس موقع پر کے ٹی آر نے مزید کہاکہ ایسے پس منظر میں، بہن نوِتا کی خوشی میں شریک ہونا اور اُس کے ساتھ بھائی اور اپنے جیسے عزیز بن کر کھڑا رہنا میرا فرض ہے۔
Being part of the- occasion
میرا یقین ہے کہ عوام سے رشتہ محض سیاست تک محدود نہیں، بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ ایسے مواقع مجھے ہمیشہ یاد دلاتے ہیں کہ ہم سب ایک ہی خاندان کا حصہ ہیں۔ میں دلی دعا کرتا ہوں کہ بہن نوِتا اور سنجے کی نئی زندگی کا سفر خوشیوں، محبت اور دعاؤں سے بھرا رہے۔
 اور یہ یقین دلاتا ہوں کہ بی آر ایس پارٹی ہمیشہ آپ کے ساتھ کھڑی رہے گی۔یہ لمحہ نہ صرف ایک بہن کی زندگی کا خوشی بھرا دن تھا بلکہ اس نے ایک بار پھر یہ احساس بھی تازہ کر دیا کہ سیاست سے بڑھ کر رشتوں کی اہمیت اور اعتماد سب سے بڑی طاقت ہے