Chief Election Commissioner

راہول گاندھی کا نام لیے بغیر الیکشن کمیشن کا نشانہ 

تازہ خبر قومی
راہول گاندھی کا نام لیے بغیر الیکشن کمیشن کا نشانہ 
 ڈیٹا ہمارا نہیں، الزامات پر حلف نامہ دیں یا قوم سے معافی مانگیں:
الیکشن کمشنر آف انڈیا سے میڈیا کے سخت سوالات
نئی دہلی، 16 اگست
(انٹرنیٹ ڈیسک)
الیکشن کمیشن آف انڈیا نے دہلی کے نیشنل میڈیا سینٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ووٹ چوری کے الزامات کو سختی سے مسترد کیا۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے راہول گاندھی کا نام لیے بغیر کہا کہ پریزنٹیشن میں دکھایا گیا ڈیٹا الیکشن کمیشن کا نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو بھی ووٹ چوری کے الزامات لگا رہا ہے وہ سات دن کے اندر حلف نامہ پیش کرے، بصورتِ دیگر قوم سے معافی مانگے۔
اگر مقررہ مدت میں حلف نامہ نہ ملا تو یہ الزامات بے بنیاد تصور کیے جائیں گے۔سی ای سی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے لیے کوئی حکمران پارٹی یا اپوزیشن نہیں ہے، تمام سیاسی جماعتیں برابر ہیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ اگر غلطیاں دور کرنے کی درخواست بروقت نہ دی جائے اور پھر ووٹ چوری جیسے الفاظ استعمال کرکے عوام کو گمراہ کیا جائے تو یہ جمہوریت کی توہین ہے۔

گیانیش کمار نے بتایا کہ کچھ ووٹروں نے بھی ووٹ چوری کے الزامات لگائے، لیکن ثبوت مانگنے پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایسے الزامات سے دبنے والا نہیں ہمارے کندھے پر بندوق رکھ کر ووٹروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ الیکشن کمیشن بے خوف ہو کر غریب، امیر، خواتین، بزرگ، نوجوانوں اور تمام مذاہب و طبقات کے لوگوں کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا ہے اور ہمیشہ کھڑا رہے گا۔
صحافیوں کے سخت سوالات
پریس کانفرنس کے دوران کئی صحافیوں نے الیکشن کمیشن پر سخت سوالات برسائے۔ ایک صحافی نے سپریم کورٹ کے حکم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:”سپریم کورٹ نے 65 لاکھ ڈیلیٹ کیے گئے ووٹروں کی فہرست 48 گھنٹوں میں شائع کرنے کا حکم دیا تھا، آپ نے اب تک ایسا کیوں نہیں کیا؟”اس سوال پر چیف الیکشن کمشنر واضح جواب نہ دے سکے۔
ایک اور صحافی نے براہِ راست نشانہ سادہ الفاظ میں یہ کہاکہ”آپ ووٹر لسٹ میں بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کی شکایات کی جانچ کرنے کے بجائے اُن لوگوں کے خلاف بول رہے ہیں جو شکایت درج کر رہے ہیں (اشارہ راہول گاندھی کی طرف تھا)۔ کیا یہ ووٹروں کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچاتا؟”اسی دوران ایک صحافی نے کہاکہ آپ کے کندھے پر بندوق رکھ کر بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کے الزامات لگ رہے ہیں، مگر آپ صرف وضاحتوں پر اکتفا کر رہے ہیں۔ حقیقی جواب کب ملے گا؟

سوشل میڈیا پر بھی کئی ویڈیوز وائرل ہوئیں جن میں صحافیوں کو الیکشن کمیشن سے تیز و تند سوال کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ ایک ویڈیو میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ سوال ہر ہندوستانی کو دیکھنا چاہیے، کیونکہ میڈیا کا بڑا حصہ اصل سوالات پوچھنا بھول چکا ہے۔
یاد رہے کہ 7 اگست کو کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے الیکشن کمیشن پر ووٹ چوری کے سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ انہوں نے کہا تھاکہ ووٹ چوری ہو رہے ہیں۔ ہمارے پاس ثبوت ہیں کہ الیکشن کمیشن بی جے پی کے ساتھ مل کر یہ سب کر رہا ہے۔راہول گاندھی نے ایک گھنٹہ 11 منٹ طویل پریزنٹیشن میں 22 صفحات پر مشتمل ڈیٹا پیش کیا تھا، جس میں انہوں نے کرناٹک کی ووٹر لسٹ کو مشکوک قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ووٹر لسٹ میں بے ضابطگیاں موجود ہیں۔انہوں نے مزید الزام لگایا کہ مہاراشٹر کے انتخابی نتائج دیکھنے کے بعد یہ شک یقین میں بدل گیا کہ انتخابی عمل میں چوری ہوئی ہے۔ ان کے مطابق الیکشن کمیشن نے بی جے پی کے ساتھ ملی بھگت کرکے مہاراشٹر کے نتائج متاثر کیے۔راہول گاندھی نے کہاکہ”ہم نے ووٹ چوری کا ایک ماڈل پیش کیا ہے اور میرا یقین ہے کہ یہ ماڈل کئی لوک سبھا اور اسمبلی حلقوں میں استعمال ہوا۔