جموں و کشمیر اور ہماچل پردیش میں بادل پھٹنے سے تباہی،درجنوں ہلاکتیں
جموں:۔17؍اگست
(انٹر نیٹ ڈیسک)
جموں و کشمیر اور ہماچل پردیش میں اتوار کی صبح بادل پھٹنے کے متعدد واقعات پیش آئے جن سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ حکام کے مطابق وادی جوڑ میں 7 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے جبکہ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث جوڑ گاؤں کا شہر سے رابطہ منقطع ہوگیا۔ کئی مکانات پانی اور ملبے میں دب گئے ہیں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
کٹھوعہ ضلع میں سرحدی علاقے کے تین مقامات پر بھی بادل پھٹنے کی واردات رپورٹ ہوئی ہے۔ کٹھوعہ کے ڈپٹی ایس پی راجیش شرما کے مطابق لینڈ سلائیڈنگ سے 2 سے 3 مکانات کو نقصان پہنچا اور 6 افراد کے پھنسے ہونے کی اطلاع ہے۔ جنگلوٹ سمیت قومی شاہراہ کے کئی حصے متاثر ہوئے ہیں جبکہ ریلوے ٹریک بھی شدید نقصان کا شکار ہوا ہے۔
محکمہ موسمیات نے 17 سے 19 اگست تک جموں و کشمیر میں موسلادھار بارش کی پیش گوئی کرتے ہوئے جموں، ریاسی، ادھم پور، راجوری، پونچھ، سانبہ، کٹھوعہ، ڈوڈہ، کشتواڑ، رامبن اور کشمیر کے کچھ حصوں میں بادل پھٹنے اور لینڈ سلائیڈنگ کی وارننگ جاری کی ہے۔
ہماچل پردیش میں بھی مون سون کی بارشوں نے تباہی مچائی ہے۔ کلو کے تاکولی اور شالنالہ میں بادل پھٹنے سے شدید نقصان ہوا۔ سیلابی ریلے نے تکولی سبزی منڈی اور فور لین پر ملبہ گرا دیا۔ کلو اور منڈی کے مختلف علاقوں میں 10 سے زیادہ مکانات تباہ ہوگئے جبکہ کئی گاڑیاں بہہ گئیں۔ افکون کمپنی کے دفتر اور کالونی کی دیوار بھی سیلاب میں گر گئی۔
چندی گڑھ۔منالی فور لین متعدد مقامات پر بند کر دی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات نے چمبہ، کانگڑا، منڈی، شملہ اور سرمور میں یلو الرٹ جاری کیا ہے۔ ریاست میں اس مانسون سیزن میں ہلاکتوں کی تعداد 261 تک پہنچ گئی ہے۔
اس سے قبل 14 اگست کو جموں و کشمیر کے کشتواڑ ضلع کے گاؤں چسوتی میں بادل پھٹنے کا ہولناک واقعہ پیش آیا تھا جس میں اب تک 65 افراد جاں بحق اور 200 سے زائد لاپتہ ہیں۔ 34 لاشوں کی شناخت ہوچکی ہے جبکہ 500 سے زیادہ افراد کو زندہ بچا لیا گیا۔ زخمیوں کی تعداد 180 بتائی جارہی ہے جن میں سے 40 کی حالت نازک ہے۔بچاؤ کے کاموں میں این ڈی آر ایف، فوج، پولیس اور دیگر ایجنسیاں حصہ لے رہی ہیں۔
مقامی افراد نے الزام لگایا ہے کہ امدادی کام سست روی کا شکار ہیں اور مشینری صرف اعلیٰ حکام کی آمد پر حرکت میں آتی ہے۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جائے حادثہ کا دورہ کیا اور متاثرین سے ملاقات کی۔ اس موقع پر ایک متاثرہ شہری نے کہاکہ ہمیں کچھ نہیں چاہیے، آپ سب کچھ اپنے گھر لے جائیں، بس ہماری لاشیں ہمیں دے دیں۔
میری ماں اور خالہ اب تک غائب ہیں۔یہ سانحہ اس وقت پیش آیا جب ہزاروں عقیدت مند مچل ماتا یاترا کے پہلے پڑاؤ چسوتی میں جمع تھے۔ خیمے، لنگر اور درجنوں دکانیں سیلابی ریلے میں بہہ گئیں۔
