خانگی اسکولوں میں تعلیم کے بنیادی حق کے قانون پر مکمل عمل درآمد یقینی کو بنایا جائے
گورنمنٹ وہیپ اڈلوری لکشمن کمار کو ٹی جیو ن ریڈی کی تحریری یادداشت
جگتیال: 14؍اپریل
(زین نیوز)
جگتیال تحصل چوراستہ پر بھارت رتن، آئینِ ہند کے معمار ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کی 134 ویں جینتی کی پُروقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں مختلف عوامی نمائندے اور سیاسی قائدین نے شرکت کی۔تقریب کے دوران سابق وزیر ٹی. جیون ریڈی نے گورنمنٹ وہیپ اڈلوری لکشمن کمار کو عوامی مسائل پر مبنی ایک یادداشت پیش کی اور کہا کہ "آپ ہمارے ضلع کے لیے وزیر کے مساوی ہیں، برائے کرم ان مطالبات کو وزیر اعلیٰ تک پہنچاکر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔”
بعد ازاں خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر ٹی. جیون ریڈی نے کہا کہ ڈاکٹر امبیڈکر نے آئین کے تیسرے باب میں تعلیم کو بنیادی حق کا درجہ دے کر ہر شہری کو برابری کی بنیاد پر تعلیم حاصل کرنے کا حق دیا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم ہی وہ ذریعہ ہے جس سے جہالت کا اندھیرا دور ہو سکتا ہے اور شعور کی روشنی پھیل سکتی ہے۔ تعلیم سے ہی ہر فرد اپنے سماجی و قومی فرائض بہتر طور پر ادا کر سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یو پی اے حکومت کے دور میں سونیا گاندھی کی قیادت میں اور اس وقت کے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے 2009 میں 6 سے 14 سال تک کے بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کا قانون (RTE) نافذ کیا، جس کے تحت نہ صرف سرکاری اسکولوں بلکہ نجی اسکولوں میں بھی غریب طلبہ کو تعلیم کی سہولتیں فراہم کی جانی تھیں۔انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ کئی خانگی اسکولوں میں اس قانون پر مکمل عمل نہیں ہورہا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ خانگی اسکولوں میں درج فہرست ذاتوں (SC)، درج فہرست قبائل (ST)، دیگر پسماندہ طبقات (BC) اور اقلیتوں کے لیے مخصوص فیصد کے مطابق مفت نشستیں مختص کی جائیں اور ان پر باقاعدہ داخلے دیے جائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ RTE قانون کے مطابق SC کو 15 فیصد، ST کو 10 فیصد، اور EWS طبقے کو 25 فیصد نشستیں دی جانی چاہئیں، اور اگر یہ نشستیں خالی رہیں تو متعلقہ ضلع کلکٹر کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کر کے عوام سے درخواستیں طلب کرنی چاہئیں۔
انہوں نے فیس ریگولیشن قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تمام خانگی اسکولوں کو صرف وہی فیس وصول کرنی چاہیے جو فیس ریگولیشن کمیٹی نے مقرر کی ہو۔ والدین سے اضافی فیس طلب نہ کی جائے اور بچوں پر کسی قسم کا دباؤ نہ ڈالا جائے تاکہ وہ سکون سے تعلیم حاصل کر سکیں۔آخر میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ ضلع کلکٹر فیس کی منظوری سال کے آغاز میں ہی کلاس وائز اعلان کریں تاکہ والدین اپنے بچوں کو مناسب اسکول میں داخل کرا سکیں۔
سابق وزیر نے زور دیا کہ ریاست تلنگانہ میں بھی تمام خانگی اسکولوں میں تعلیم کے بنیادی حق کے قانون پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ تمام طبقات کے طلبہ کو برابری کی بنیاد پر معیاری تعلیم حاصل ہو اور ڈاکٹر امبیڈکر کے خوابوں کا بھارت تشکیل دیا جا سکے۔