ساتھی طلباء سے مسلم طالب علم کو تھپڑ رسید کروانے والی ٹیچر ترپتا تیاگی کے خلاف مقدمہ درج
دوست کی پٹائی کرنے والے طلباء کو ایک دوسرے سے گلے ملوایا گیا
ٹیچر نے معافی پر مشتمل ویڈیو جاری کیا
مظفر نگر:۔26؍اگست
(زین نیوز ڈیسک)
ملک میں مسلمانوں کے تئیں زہر او ر فرقہ فرستی کے نظریہ میں اضافہ کے ساتھ توہین آمیز سلوک کا نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے ایسے ہی اسلامو فوبیا کے ایک اور واقعے میں ایک ٹیچر کی ہندو طالب علموں کو ایک مسلم ہم جماعت کو تھپڑ مارنے کی ترغیب دینے کی ویڈیو جمعہ 25 اگست کو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی
یہ واقعہ مظفر نگر کے منصور پور تھانے کی حدود میں واقع کھبا پور گاؤں کے نیہا پبلک اسکول میں پیش آیا۔۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوئی اور عوام کی جانب سے بڑے پیمانے پر غم و غصے کا اظہار کیا جارہا ہے
ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اسکول کی ٹیچرجس کی شناخت ترپتا تیاگی کے طور پر کی گئی ہے۔ٹیچر کے یہ کہتا سنا جاسکتا ہے کہ’’میں کلیر کہہ دیا کہ جیتنے بھی محمڈن بچے ہیں۔۔جس کے بعد وہ گندی گالیاں بکتی ہیں،اورہم جماعت ساتھیوں سے آٹھ سالہ مسلمان طالب علم کو تھپڑ مارنے لگواتی ہے
جب ایک پریشان مسلمان طالب علم اپنے ہم جماعتوں کے تھپڑ کھانے کے بعد رونا شروع کر دیتا ہے توٹیچر یکے بعد دیگرطلباء سے کہتی ہے کہ ’ اے کیا تم مار رہے ہو اسے… زورسے مارو نا… چلو اور کس کا نمبر ہے …، تم کیا کر رہے ہو… زور سے مارو… اگلا کون ہے؟)
नफरत की आग स्कूलों तक पहुंची, देश के बच्चों को तो बख्श दो 😓#ArrestTriptaTayagi pic.twitter.com/nD1pnvhUk9
— Gaurav Kumar Sharma (@GauravSharmaINC) August 25, 2023
جس کے بعد اتر پردیش پولیس کو جواب دینے اور واقعے کی تحقیقات کرنے پر آمادہ کیا۔مظفر نگر کے پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) (سٹی) ستیہ نارائن نے کہا کہ ٹیچر ترپتا تیاگی کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 323 (رضاکارانہ طور پر چوٹ پہنچانا) اور 504 (امن کی خلاف ورزی پر اکسانے کے ارادے سے جان بوجھ کر توہین) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تفتیش کے نتائج کی بنیاد پر کیس میں دیگر عناصر کو شامل کیا جائے گا
مظفر نگر کے ضلع مجسٹریٹ اروند ملاپا بنگاری نے بتایا کہ چائلڈ ویلفیئر کمیٹی کی ایک ٹیم کو کھٹولی علاقے کے کھباپور گاؤں میں لڑکے کے گھر بھیجا گیا تاکہ لڑکے کی کونسلنگ کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی شکشا ادھیکاری (BSA) کو بھی اس معاملے کی تحقیقات کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
کانگریس کے سابق سربراہ راہول گاندھی، کانگریس کے رکن پارلیمنٹ (ایم پی) ششی تھرور، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے رہنما اسد الدین اویسی، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن پارلیمنٹ ورون گاندھی اور راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) سمیت کئی رہنما۔ رہنما جینت چودھری نے X (( ٹویٹر ) پر واقعہ کی مذمت کی۔
آلٹ نیوز کے صحافی محمد زبیر کے مطابق متاثرہ لڑکےکے والد نے فیس واپس لے کر واقعہ کے بعد اپنے بچے کو اسکول سے نکالنے کا فیصلہ کیا۔
محکمہ تعلیمات کے اعلیٰ عہدیداروں نے ایک ٹیم کو لڑکے کے گھر بھیجا گیا تاکہ لڑکے کی کونسلنگ کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ بنیادی شکشا ادھیکاری (BSA) کو بھی اس معاملے کی تحقیقات کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔۔
اس دوران ترپتا تیاگی بھی اپنے بیان کے ساتھ سامنے آئیں اور کہاکہ میں نے ساتھی طالب علموں کے ذریعہ بچے کی پٹائی کروا کر غلطی کی۔ میں معذور ہوں اور اٹھ نہیں سکتا، اس لیے میں نے طلبہ سے کہا کہ وہ بچے کو تھپڑ ماریں۔ اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ویڈیو کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے۔
https://twitter.com/Samantha_eth__/status/1695409164955336848
دوسری طرف سوشل میڈیا پر ایک جذباتی ایک ویڈیو وائرل ہورہی ہے اسکول ٹیچر کے کہنے پر دوست کی پٹائی کرنے والے طالب علم نے دوست کو گلے لگا لیا۔اس ویڈیو سے یہ ثابت ہوگیا کہ ٹیچر کے دل میں زہر اور نفرت بھری ہوئی ہے لیکن بچوں کے درمیان صرف دوستی اور محبت ہے۔
بچوں میں نفرت نہیں تھی۔ نہ ہی کسی نفرت کی وجہ سے اس بچے کو کلاس کے باقی لوگوں نے تھپڑ مارا تھا۔
یہ تو اس ٹیچر کے ذہن کا فتور اور زہر تھا جس نے تھپڑ رسید کروائے۔ اس میں ان معصوم بچوں کا کیا قصور؟بتایا جاتا ہے خود کسان لیڈر نریش ٹکیٹ نے دو بچوں کو گلے ملوایا
