غزہ شہر پر قبضہ کا نیتن یاہو کا منصوبہ ۔سیکیوریٹی کابینہ کی منظور ی
نیتن یاہو نے فوجی قیادت کے تحفظات مسترد کرتے ہوئے پیش قدمی کا اعلان کیا
تل ابیب:,۔8/اگسٹ
(انٹرنیشنل ویب ڈیسک)
اسرائیلی سیکیوریٹی کابینہ نے جمعہ کی صبح غزہ کی پٹی پر بتدریج فوجی قبضے کے ایک وسیع منصوبے کی منظوری دے دی، جس میں حماس کو غیر مسلح کرنا، تمام 50 یرغمالیوں کی واپسی جن میں سے تقریباً 20 کے زندہ ہونے کا یقین ہے .اور انکلیو پر مکمل اسرائیلی سیکیورٹی کنٹرول قائم کرنا شامل ہے۔منصوبے کے تحت غزہ میں ایک متبادل شہری انتظامیہ قائم کی جائے گی جس میں نہ حماس ہو گی اور نہ ہی فلسطینی اتھارٹی۔
وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی زیرِ قیادت 10 گھنٹے طویل اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا کہ ابتدائی مرحلے میں غزہ شہر کے قلب پر قبضے کی تیاری کی جائے گی، جب کہ اگلے مرحلے میں فوج ان علاقوں میں پیش قدمی کرے گی جو اب تک بڑے پیمانے پر کارروائی سے محفوظ رہے ہیں اور جہاں حماس کے یرغمالیوں کو رکھنے کا شبہ ہے۔
اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ وہ غزہ کے تقریباً 75 فیصد علاقے پر پہلے ہی قبضہ کر چکی ہے۔ شمالی غزہ شہر سے جنوبی خان یونس تک پھیلی ساحلی پٹی کا ایک اہم حصہ تاحال اسرائیلی کنٹرول سے باہر ہےان علاقوں میں لاکھوں بے گھر فلسطینی خیموں، عارضی پناہ گاہوں اور تنگ اپارٹمنٹس میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔
نیتن یاہو نے جمعرات کو فاکس نیوز سے گفتگو میں واضح کیا کہ اسرائیل کا ارادہ پورے غزہ پر کنٹرول سنبھالنے کا ہے، اگرچہ فوجی کمان نے اس پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ کارروائی میں توسیع سے یرغمالیوں کی جان کو خطرہ اور فلسطینی شہری ہلاکتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ ہمارا ارادہ ہے۔ یہ اقدام ہماری سلامتی کو یقینی بنائے گا، حماس کو اقتدار سے ہٹائے گا اور غزہ کی انتظامیہ کو ایک دوسری پارٹی کے حوالے کرنے کے قابل بنائے گا۔ ہم غزہ کو عرب افواج کے سپرد کرنا چاہتے ہیں، ہم وہاں مستقل حکومت نہیں چلانا چاہتے۔
بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اعلان حماس پر جنگ بندی کے مذاکرات میں رعایت دینے کا دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی ہو سکتا ہے۔حماس نے اس بیان کو "مذاکرات کے طریقہ کار کا واضح الٹ” قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ نیتن یاہو دراصل حتمی معاہدے سے پیچھے ہٹنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
عسکری قیادت میں بھی اختلافات سامنے آئے ہیں۔ اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے منصوبے پر خدشات ظاہر کیے ہیں، خاص طور پر فلسطینی آبادی پر براہِ راست فوجی حکومت کے بوجھ اور طویل المدتی لڑائی کے خطرات کے بارے میں۔
ان کا کہنا ہے کہ باقی ماندہ غزہ پر قبضہ چند مہینوں میں ممکن ہے، لیکن مغربی کنارے کی طرح ایک نگرانی کا نظام قائم کرنے کے لیے ممکنہ طور پر پانچ سال کی مسلسل فوجی موجودگی درکار ہوگی۔
اسرائیل کے اندر بھی یہ منصوبہ سیاسی تنازع کا باعث بن گیا ہے۔ حزبِ اختلاف اور یرغمالیوں کے اہل خانہ نے فوجی آپریشن میں مزید توسیع پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام قیمتی انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ دوسری جانب حکومت کے حامی اسے حماس کے خلاف فیصلہ کن فتح کی جانب ایک ضروری قدم قرار دے رہے ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر اسرائیل پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ تقریباً دو سال سے جاری جنگ کو ختم کرنے اور غزہ میں پیدا ہونے والے بھوک اور انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔
تاہم سیکیوریٹی کابینہ کی اکثریت کا مؤقف ہے کہ فوج کی محتاط حکمتِ عملی حماس کی شکست یا یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مؤثر نہیں ہوگی، اس لیے جارحانہ پیش قدمی ہی واحد حل ہے۔
