راہول گاندھی کا الیکشن کمیشن اور بی جے پی پر ووٹ چوری کا الزام
ایک گھنٹے سے زائد کے پریزنٹیشن میں ووٹر لسٹ کی بے ضابطگیاں بے نقاب
نئی دہلی:۔ 7 اگست
(زین نیوز ڈیسک)
کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے جمعرات کو دہلی کے اندرا بھون میں پریس کانفرنس کے دوران ووٹر لسٹ میں سنگین بے ضابطگیوں کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے ایک گھنٹہ 11 منٹ طویل پریزنٹیشن پیش کرتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹر، کرناٹک، تمل ناڈو اور ہریانہ سمیت کئی ریاستوں میں انتخابات میں بڑے پیمانے پر ووٹ چوری کیے گئے اور اس عمل میں الیکشن کمیشن نے بی جے پی کا ساتھ دیا۔
راہول گاندھی نےا سکرین پر کرناٹک کی مہادیو پورہ اسمبلی حلقے کی ووٹر لسٹ دکھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہاں 6.5 لاکھ ووٹوں میں سے ایک لاکھ ووٹ جعلی تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہی پتے پر ہزاروں ووٹرز درج ہیں، جو مشکوک، ڈپلیکیٹ یا جعلی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر یہ ووٹ درست ہوتے تو کانگریس کرناٹک میں 16 سیٹیں جیت سکتی تھی، جبکہ حقیقت میں اسے صرف 9 سیٹیں ملیں۔
راہول گاندھی نے الزام عائد کیا کہ الیکشن کمیشن مشین ریڈ ایبل ووٹر لسٹ فراہم کرنے سے انکار کر رہا ہے، جس کی وجہ سے شفاف تجزیہ ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر میں صرف پانچ مہینوں میں لاکھوں نئے ووٹروں کو ووٹر لسٹ میں شامل کیا گیا، جن میں سے چالیس لاکھ ووٹروں کی شناخت مشکوک ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ شام 5 بجے کے بعد ووٹنگ ٹرن آؤٹ میں اچانک اضافہ بھی غیر معمولی اور مشکوک ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ووٹ چوری کا یہ ماڈل صرف ایک ریاست تک محدود نہیں بلکہ اس کا استعمال کئی لوک سبھا اور ودھان سبھا حلقوں میں کیا گیا ہے۔راہول گاندھی نے کہا کہ کانگریس نے مہاراشٹر میں ہونے والی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی ہے، اور یہ سب کچھ بی جے پی اور الیکشن کمیشن کی ملی بھگت سے کیا گیا۔
راہول گاندھی نے کہا کہ کانگریس نے ان بے ضابطگیوں کے حوالے سے کئی بار الیکشن کمیشن سے سوالات کیے، مگر کمیشن نے ایک بھی جواب نہیں دیا۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ واضح کرے کہ ووٹر لسٹ درست ہے یا نہیں، اور یہ بھی بتائے کہ شام 5 بجے کے بعد ووٹنگ کی شرح میں اضافہ کیوں ہوا۔
انھوں نے کہا کہ ہم نے لاکھوں کاغذات کو دستی طور پر چیک کرنے کے بعد یہ ثبوت جمع کیے ہیں۔ اگر ان کاغذات کو ایک بنڈل میں رکھا جائے تو یہ 7 فٹ اونچا ہوگا۔ شواہد اکٹھے کرنے میں تقریباً 6 ماہ لگے۔ ایسا اس لیے ہوا کہ الیکشن کمیشن نے جان بوجھ کر ہمیں نان مشین ریڈ ایبل کاغذات فراہم کیے، تاکہ وہ مشین سے اسکین نہ ہو سکیں۔
سماج وادی پارٹی، سی پی آئی اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں نے بھی راہول گاندھی کے انکشافات کو سنجیدہ قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن سے جواب طلب کیا ہے۔راہل گاندھی کے اس پریزنٹیشن کے بعد سیاسی منظرنامے میں ہلچل مچ گئی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا الیکشن کمیشن ان الزامات پر کوئی وضاحت دیتا ہے یا یہ معاملہ بھی دیگر تنازعات کی طرح سیاسی بیان بازی کی نذر ہو جاتا ہے۔
بی جے پی نےراہول گاندھی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔ بی جے پی کے سینئر رہنما روی شنکر پرساد نے کہا کہ راہل گاندھی آئینی ادارے پر شرمناک تبصرے کر رہے ہیں، اور انہوں نے تمام حدیں پار کر دی ہیں۔
مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ راہل گاندھی کی ہارڈ ڈسک کرپٹ ہو گئی ہے۔دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے راہل گاندھی کی حمایت کی ہے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے کہا کہ ایک وقت تھا جب الیکشن کمیشن کی پوری دنیا میں مثال دی جاتی تھی، لیکن آج جب کوئی ادارے سے سوال کرتا ہے تو وہ حکمراں جماعت کے نمائندے کی طرح الزامات لگاتا ہے۔
