نریندر مودی دھوکہ دے کر وزیر اعظم بنے ہیں
بی جے پی نے 25 سیٹیں 35 ہزار یا اس سے کم ووٹوں کے فرق سے جیتی۔ راہول گاندھی کا الزام
بی جے پی نے 25 سیٹیں 35 ہزار یا اس سے کم ووٹوں کے فرق سے جیتی۔ راہول گاندھی کا الزام
بنگلورو:۔8؍ا گسٹ
( زین نیوز ڈیسک)
کانگریس رہنما راہول گاندھی نے جمعہ کو الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی تیسری مرتبہ 25 سیٹوں کے فرق سے وزیر اعظم بنے ہیں، اور بی جے پی نے یہ سیٹیں 35 ہزار یا اس سے کم ووٹوں کے فرق سے جیتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر الیکٹرانک ووٹر ڈیٹا فراہم کر دیا جائے تو یہ ثابت ہو جائے گا کہ مودی دھوکے سے اقتدار میں آئے ہیں۔
راہول گاندھی بنگلورو کے فریڈم پارک میں منعقدہ کانگریس کی ’ووٹ رائٹس ریلی‘ سے خطاب کر رہے تھے، جس میں پارٹی کے قومی صدر ملیکارجن کھرگے بھی شریک ہوئے۔راہول گاندھی نے مطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن پورے ملک کی الیکٹرانک ووٹر لسٹ اور گزشتہ 10 برسوں کی ویڈیو گرافی فراہم کرے، ورنہ یہ جرم کے زمرے میں آئے گا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کرناٹک کے مہادیو پورہ اسمبلی حلقے میں 1,00,250 جعلی ووٹ درج کیے گئے، جس سے بی جے پی کو فائدہ پہنچا۔ راہل کے مطابق اس حلقے میں کل 6.50 لاکھ ووٹ ہیں اور جعلی ووٹوں کی تعداد کل ووٹوں کا چھٹا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ چوری 5 طریقوں سے کی گئی، جن میں ڈپلیکیٹ ووٹنگ اور فرضی پتوں پر ووٹرز کا اندراج شامل ہے۔
راہول گاندھی نے دعویٰ کیا کہ ایک بیڈروم کے مکان میں 40 تا 50 ووٹرز کا اندراج کیا گیا، لیکن وہاں کوئی نہیں رہتا تھا اور مکان کا مالک بی جے پی لیڈر نکلا۔ ان کا کہنا تھا کہ کرناٹک حکومت کو پیسے دے کر یہ دھاندلی کی گئی اور لوک سبھا انتخابات بھی چوری ہوئے۔انہوں نے مزید کہا کہ 34 ہزار ووٹ ایسے تھے جن میں فارم 6 (نئے ووٹرز کی رجسٹریشن کے لیے مخصوص) کا غلط استعمال ہوا، اور کئی بزرگ شہریوں کو بھی نئے ووٹر کے طور پر درج کیا گیا۔
ڈپلیکیٹ ووٹرز نے پہلے کرناٹک میں ووٹ ڈالا اور بعد میں مہاراشٹر اور اتر پردیش میں بھی ووٹ ڈالے۔راہل گاندھی نے دہلی کے اندرا بھون میں ایک گھنٹے سے زائد کے پریزنٹیشن میں ووٹر لسٹ میں بے ضابطگیوں کا ثبوت پیش کرنے کا دعویٰ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کرناٹک، تمل ناڈو اور ہریانہ میں بی جے پی کی حمایت کر رہا ہے۔ادھر کانگریس صدر ملیکارجن کھرگے نے کہا کہ پہلے الیکشن کمیشن سوالات کے جواب دیتا تھا، لیکن اب حکمراں جماعت کے نمائندے کی طرح اپوزیشن پر الزامات لگاتا ہے اور ان کے مطالبات کو نظرانداز کرتا ہے۔
