Nanded Hospital

مہاراشٹر میں 72 گھنٹوں میں  38 لوگوں کی موت۔ اموات کا سلسلہ جاری 

تازہ خبر قومی
مہاراشٹر میں 72 گھنٹوں میں  38 لوگوں کی موت۔ اموات کا سلسلہ جاری 
 ناندیڑ میڈیکل کالج کے ڈین، ڈاکٹروں کے خلاف مجرمانہ قتل کا مقدمہ درج
ناندیڑ :۔5؍اکتوبر
(زین نیوز ڈیسک)
مہاراشٹر  ناندیڑ پولیس نے جمعرات کو ڈاکٹر شنکر راؤ چوان میڈیکل کالج اور ہسپتال کے ڈلیوری ڈیپارٹمنٹ کے ڈین شیام راؤ وکوڑے اور ڈاکٹروں کے خلاف دو دنوں میں مبینہ طور پر دوائیوں کی کمی کی وجہ سے صحت کی سہولت میں 31 مریضوں کی موت کے بعد مقدمہ درج کیا۔اے این آئی نے اطلاع دی کہ ان کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 304 اور 34 کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
مہاراشٹر کے ناندیڑ کے ڈاکٹر شنکر راؤ چوان میڈیکل کالج اور سرکاری ہسپتال میں اموات کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ 72 گھنٹوں میں 38 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔۔ حیران کن بات یہ ہے کہ مرنے والوں میں 12 نومولود بھی شامل ہیں۔ 500 بستروں پر مشتمل سرکاری ہسپتال میں 1200 مریض داخل ہیں جن میں سے 70 کی حالت تشویشناک ہے
 ناندیڑ کے میڈیکل کالج ہسپتال میں جمعرات کو ایک 21 سالہ خاتون اور اس کے نوزائیدہ بچے کی موت کے معاملے میں ناندیڑ دیہی پولیس اسٹیشن میں ایک کیس درج کیا گیا ہے۔
دریں اثنا، ہسپتال کی ابتر حالت پر حکومت کے اندر اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے دعویٰ کیا ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ مہاراشٹر کے طبی تعلیم کے وزیر حسن مشرف نے منگل کو کہا کہ اموات کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور تحقیقات کے لیے ڈاکٹروں کی ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ ہسپتال کے ڈین نے ان اموات کی وجہ ادویات اور ہسپتال کے عملے کی کمی کو قرار دیا
اپوزیشن نے ہسپتال میں ادویات اور عملے اور آلات کی کمی کا بھی الزام لگایا ہے اپوزیشن کا کہنا تھا کہ ٹرپل انجن حکومت کو ان اموات کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔۔ مہاراشٹر حکومت نے تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ کمیٹی نے منگل سے ہی کام شروع کر دیا ہے۔
جانکاری کے مطابق سرکاری ہسپتال کے بانی ایس آر وکوڑے نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں 24 مریضوں کی موت کے معاملے میں ہاتھ اٹھائے ہیں۔ اس نے یہ دعویٰ کر کے معاملے سے بچنے کی کوشش کی ہے کہ زیادہ تر مرنے والے باہر کے مریض تھے۔ اس واقعہ سے ناندیڑ سمیت پوری ریاست میں سنسنی پھیل گئی ہے اور اس معاملے کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
یہاں بمبئی ہائی کورٹ نے ناندیڑ اور چھترپتی سمبھاج نگر کے سرکاری ہسپتالوں میں ہونے والی اموات کو سنجیدگی سے لیا ہے۔ ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے عدالت نے کہاکہ ہم ہسپتالوں میں ادویات کی کمی کی وجہ کو قبول نہیں کرتے۔ عدالت نے جمعرات تک ریاستی حکومت سے صحت کے بجٹ کی تفصیلات طلب کی ہیں۔
نارمل ڈیلیوری کے بعد علاج نہ ہونے کی وجہ سے ماں اور بچے کی موت ہوگئی۔کندھار، ناندیڑ کی انجلی واگھمارے کو 30 ستمبر کو ڈیلیوری کے لیے داخل کیا گیا تھا۔ بچے کی حالت تشویشناک بتاتے ہوئے ڈاکٹر نے خون کا تھیلا اور کچھ دوائیں منگوائیں۔
اس پر 45 ہزار روپے لاگت آئی۔ لیکن کوئی علاج نہیں ہوا۔ وہاں نہ ڈاکٹر تھے اور نہ ہی نرس۔ انجلی کے والد نے اس کی شکایت ڈین ڈاکٹر شیام وکوڑے سے کی، لیکن شکایت یہ ہے کہ انھوں نے اسے بھگا دیا۔
اس کے بعد انجلی کے بچے کی اسی دن موت ہو گئی۔ انجلی کی بھی 4 اکتوبر کو مناسب علاج نہ ہونے کی وجہ سے موت ہوگئی۔
 انجلی کے والد نے الزام لگایا تھا کہ ڈاکٹر شیام وکوڑے اور ان کے ساتھی ان دونوں اموات کے ذمہ دار ہیں، اس لیے دیہی پولیس نے دفعہ 304 کے تحت مقدمہ درج کیا۔
ایم ایل اے نے ڈین کے ذریعہ بیت الخلا کی صفائی کروائی، ایف آئی آر درج اس سے قبل 3 اکتوبر کی شام کو شیوسینا کے رکن پارلیمنٹ ہیمنت پاٹل نے ناندیڑ کے اسپتال پہنچ کر موت کے معاملے پر ناراضگی ظاہر کی اور ڈین ایس آر وکوڑے سے بیت الخلا کی صفائی کروائی۔
 واقعہ کی تصویر اور ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس نے ہیمنت پاٹل کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ ڈین نے الزام لگایا ہے کہ ایم پی نے انہیں اپنی ڈیوٹی انجام دینے سے روکا اور ان کی توہین کی۔
چھترپتی سمبھاج نگر کے سرکاری ہسپتال میں 18 مریضوں کی موت ہوگئی۔چھترپتی سمبھاج نگر کے سرکاری میڈیکل کالج اور ہسپتال میں 24 گھنٹوں میں 18 مریضوں کی موت ہوئی جن میں سے 2 نومولود تھے۔ ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے بتایا کہ یہ اموات 2 اکتوبر کی صبح 8 بجے سے 3 اکتوبر کی صبح 8 بجے کے درمیان ہوئیں۔
شنکر راؤ چوان میں 70 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔ناندیڑ کےشنکر راؤ چوان سرکاری ہسپتال میں مرنے والے 38 افراد میں 16 بچے بھی شامل ہیں۔
 اس ہسپتال میں 30 ستمبر کی رات سے اموات کا سلسلہ جاری ہے۔70 مریضوں کی حالت اب بھی تشویشناک بتائی جاتی ہے جن میں سے 38 نومولود ہیں۔ اس وقت ہسپتال میں 138 نومولود بچے زیر علاج ہیں۔
ناندیڑ ہسپتال کے نوزائیدہ انتہائی نگہداشت یونٹ (این آئی سی یو) میں 65 بچے داخل ہیں، جب کہ گنجائش صرف 24 بچوں کی ہے۔ ہسپتال میں 500 بستروں کا انتظام ہے لیکن 1200 مریض داخل ہیں۔
مریضوں کا لاپرواہی کا الزام۔مریضوںکے لواحقین کا الزام ہے کہ محکمہ صحت کی غفلت کے باعث مریض مر رہے ہیں۔ شنکر راؤ چوان ہسپتال کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر گنیش مانورکر نے کہا کہ سنگین مریضوں کی جان بچانے کے لیے خصوصی کوششیں کی جارہی ہیں۔ نومولود بچوں کے لیے 42 بستروں کا انتظام کیا گیا، چھٹی پر جانے والے عملے کو واپس بلا لیا گیا ہے۔
مہاراشٹر کے طبی تعلیم کے وزیر حسن مشرف نے کہا کہ سرکاری ہسپتال میں ہر مریض کی موت کی تحقیقات کی جائیں گی۔ آئندہ 15 روز میں ہسپتال کی صورتحال بہتر ہو جائے گی۔