اتر پردیش کے فتح پور میں ہندو تنظیموں کا مقبرے پر ہنگامہ، توڑ پھوڑ اور پوجا
فتح پور :۔11؍اگسٹ
( زین نیو ز ڈیسک)
اترپردیش کے فتح پور میں پیر کے روز ایک ہندو تنظیم کے ارکان نے ایک مقبرے میں توڑ پھوڑ کی یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ یہ مقبرہ دراصل ایک مندر پر بنایا گیا تھا۔پیر کی صبح تقریباً 10 بجے بجرنگ دل، ہندو مہاسبھا سمیت کئی ہندو تنظیموں کے تقریباً دو ہزار کارکن عیدگاہ میں واقع ایک مقبرے پر پہنچ گئے زعفرانی پرچم تھامے مقبرے کے گرد "جے شری رام” کے نعرے لگا رہے ہیں۔
پولیس نے پہلے ہی مقبرے کے اطراف ناکہ بندی کر رکھی تھی، تاہم لاٹھیوں سے لیس ہندو تنظیم کے کارکنوں نے مقبرہ کو "مندر” قرار دے کر توڑ پھوڑ شروع کر دی۔ کچھ افرادمقبرہ کی چھت پر چڑھ گئے اور بھگوا جھنڈا لہرا دیا۔
ہندو مہاسبھا کے رہنما منوج ترویدی بھی بھیڑ کے ساتھ مقبرہ کے اندر پہنچے اور وہاں پوجا کی اس دوران مقبرہ پر بھگوا پرچم اورتھوڑ پھوڑ کو دیکھ کر مقامی مسلم برادری کے افراد مشتعل ہو گئے اور تقریباً 1500 مسلمان عیدگاہ پہنچ گئے۔
اس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان پتھراؤ شروع ہو گیا۔پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا، مگر حالات بگڑنے پر 10 تھانوں کی اضافی نفری طلب کر لی گئی۔ ہندو تنظیموں کے سینکڑوں کارکن مقبرےسے تقریباً 500 میٹر دور ڈاک بنگلہ کراسنگ پر جمع ہو گئے، سڑک کو بلاک کر دیا اور ہنومان چالیسہ پڑھنا شروع کر دیا
ضلعی انتظامیہ نے مزید بدامنی کو روکنے کے لیے علاقے میں پولیس اور پی اے سی کی بھاری نفری تعینات کر دی ہے اور متنازع مقام کے گرد رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں تحصیل صدر کے علاقہ ریڈیا کے ابو نگر میں واقع یہ مقبرہ تنازع کا مرکز بنا ہوا ہے۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق، کھسرہ نمبر 753 میں درج یہ "مقبرہ منگی” (قومی املاک) ہے، لیکن مٹھ مندر سنرکشن سنگھرش سمیتی اور دیگر ہندو گروپوں، بشمول بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ارکان، کا دعویٰ ہے کہ یہ ٹھاکر جی اور بھگوان شیو کے لیے وقف ایک قدیم مندر تھا۔
بی جے پی کے ضلعی صدر مکل پال نے الزام لگایا کہ نواب عبدالصمد کا یہ مقبرہ دراصل ایک ہزار سال پرانا مندر ہے، جسے وقت کے ساتھ تبدیل کر دیا گیا۔ انہوں نے مقبرہ کے اندر کمل کے پھول اور ترشول کی موجودگی کو ثبوت کے طور پر پیش کیا۔
اس دعوے کے بعد ہندو تنظیم کے ارکان مقبرے کے احاطے میں داخل ہوئے اور بیرونی حصے میں توڑ پھوڑ کی۔ رپورٹس کے مطابق گروپ اس مقام پر پوجا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جس سے حالات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں