نیپال میں عوامی بغاوت کے بعد نئی حکومت کی راہ ہموار،
جین جی تحریک کے سربراہ سدن کا دوٹوک اعلان
نیپال:۔12 ستمبر
(انوار الحق قاسمی)نیپال میں عوامی تحریک نے بالآخر اولی حکومت کا خاتمہ کردیا۔ 6 ستمبر کو حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا پر عائد کردہ پابندی عوامی آزادی سلب کرنے کے مترادف سمجھی گئی جس نے ملک گیر احتجاج کو جنم دیا اور عوام نے حکومت کے خلاف زبردست تحریک برپا کردی۔
جین جی تحریک کے سرگرم نوجوانوں نے بڑھتی ہوئی بے روزگاری، مالی خستگی اور بدعنوانیوں کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا۔ ان کے اس عزم و حوصلے نے ثابت کردیا کہ عوام کی طاقت کے سامنے کوئی حکومت زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتی۔اولی حکومت کے خاتمے کے بعد جین جی تحریک کے سربراہ سدن نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا:> ’’یہ بگڑا ہوا نیپال سنوارنا ہر نیپالی کی ذمے داری ہے۔
ہم پارٹیوں (کانگریس، اے مالے، ماؤوادی وغیرہ) میں بٹ کر ملک کو نقصان نہیں پہنچائیں گے بلکہ سب متحد ہو کر محبت و بھائی چارے کے ساتھ ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالیں گے۔‘‘انہوں نے مزید کہا:> ’’ہم نے دیش کی قسم کھائی ہے کہ ایک ایک بھرشٹاچاری اور گھوٹالہ باز سے ایک ایک پیسے کا حساب لیا جائے گا۔
چاہے وہ کہیں بھی چھپا بیٹھا ہو، ہم اسے پکڑ کر قوم کی امانت واپس لائیں گے۔‘‘سدن نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اب ہر نیپالی شہری کی عزت و وقار کا تحفظ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اب تک ملک میں یہ روایت رہی کہ عہدے دار اور سرکاری افسران کرسی پر بیٹھتے ہی غرور و تکبر میں عوام کے ساتھ بدسلوکی کو اپنا حق سمجھتے تھے۔
پولیس بھی اسی روش پر عمل پیرا تھی اور عوام کو حقیر جانتی تھی۔لیکن نئے نیپال میں یہ رویہ ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ سدن کے مطابق اب ہر سرکاری افسر، کارندہ اور خادم کے لیے لازم ہوگا کہ وہ عوام کو عزت دیں، ان کی خدمت کریں اور ان کا احترام کریں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا:> ’’اب نیپال میں نیپالی ناگرک کی حکومت چلے گی
