Chandaryan -3= Shaik Mohd.Muzamil Ali

چاند کی سطح پر چندریان 3 کی کامیاب لینڈنگ، اسرو کی ٹیم میں تلنگانہ کے مزمل علی بھی شامل، پیشہ تدریس سے وابستہ والدین نے کہا ہمیں فخر ہے

تازہ خبر قومی
جو یقین کی راہ پر چل پڑے انہیں منزلوں نے پناہ دی 
جنہیں وسوسوں نے ڈرا دیا وہ قدم قدم پہ بہک گئے
چاند کی سطح پر چندریان 3 کی کامیاب لینڈنگ کروانے والی اسرو کی ٹیم میں
تلنگانہ کے مزمل علی بھی شامل، پیشہ تدریس سے وابستہ والدین نے کہا ہمیں فخر ہے
حیدرآباد:۔24؍اگست
Imran zain(عمران زین)
ہندوستان نے چاند تک رسائی حاصل کرلی ہے چاند کے ایسے تاریک حصے پر قدم رکھا ہے جہاں ابھی تک ترقی یافتہ ممالک بھی نہیں پہنچ سکے۔ہندوستان اسرو ISRO کے چندریان ۔3، چاند کے قطب جنوبی ( تاریک کونے) پر کامیابی سے اترنے والا دنیا کا پہلا اور چاند کی سطح پر سافٹ لینڈنگ کرنے والا دنیا کا چوتھا ملک بن گیا ہے۔جس کے بعد پورے ملک میں جشن کا ماحول دیکھا جا رہا ہے
ہندوستانی سائنسدانوں کی جدوجہد اورانکی خدمات ،کامیابی جو چندریان ۔3 کا حصہ بنے ہیں کی بین الاقوامی سطح پر پذیرائی  ہورہی ہے وہیں چندریان۔ 3 لانچ کرنے والی کامیاب ٹیم کا حصہ بننے والے سائنسدانوں پر قوم کو فخر ہے۔ اوریہ تمام ہندوستانیوں بالخصوص نوجوان نسل اور مسلمانوں کے لیے بڑے فخر اور خوشی اورجوش کی بات ہے۔
مشہورکہاوت ’’ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات‘‘ یعنی ہونہار بچے ہر جگہ مضبوطی سے کھڑے رہتے ہیں  تلنگانہ ریاست کے متحد ہ ضلع عادل آباد کے سائنسداں شیخ محمد مزمل علی پر یہ کہاوت صادق آتی ہے
 چندریاں مشن کی کامیابی میں تلنگانہ کے متحدہ ضلع عادل آباد میں شہر کاغذ نگر سے تعلق رکھنے والے سائنسداں شیخ مزمل علی نے اسرو میں چندریان مشن میں اپنی  بہترین کارکردگی کے مظاہرہ سے کامیاب ٹیم کا حصہ بنے ہیں  جسے انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) نے انجام دیا تھا
اور انکے والدین ہی نہیں بلکہ سارے مسلمانوں کے لئے قابل فخر کی بات ہے۔ آئیے جانتے ہیں سائنسداں شیخ محمد مزمل علی بارئےمیں۔۔۔زین نیوز 24نےاسرو کے سائنسداں شیخ محمدمزمل علی کے والد محترم شیخ محمد مخدوم علی بات چیت کی ہے ۔
شیخ محمدمخدوم علی پیشہ کے اعتبار سے معلم ہیں وہ منڈل پریشد پرائمری اردو اسکول لکھارام منڈل اوٹنور میں برسر خدمات ہیں ۔ انھوں نے اللہ رب العزت کا شکر بجالایا اور کہاکہ میرے بیٹے شیخ محمدمزمل علی نے  چندریان ۔3چاند مشن کا کامیاب ٹیم کا حصہ بن کر نہ صرف ملک بلکہ ہمارا اور ساری قوم کا سر فخرسے بلند کردیا۔یہ ہمارے لئے اللہ تعالیٰ کی جانب سے انعام و اکرام ہے۔کہاکہ انکا لڑکا مستقبل میں بھی اسی طرح ملک کا نام روشن کرتا رہے۔
انھوں نےبتایا کہ سائنسدان شیخ محمدمزمل علی کی ابتدائی تعلیم سابق متحدہ ریاست کرنول ضلع میں ہوئی اس کے بعد انھوں نے انٹر میڈیٹ چیتنہ کالج حیدر آباد سے کیا اور ریاست کیرا کہ کے کالی کٹ جے این ٹی یو سے بی ٹیک اور ایم ٹیک کی تعلیم مکمل کی
اسکے بعد 2016 میں انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن ( اسرو)کی تقریبا 200 جائیدادوں کے لئے منعقدہ امتحان میں شیخ محمدمزمل علی نے کامیابی حاصل کی۔اور 2017 میں بحیثیت ’’سائنٹسٹ گروپ گزیٹیڈ آفیسر‘‘ کی حیثیت سے تقرر ی عمل میںآئی۔
 وہ گزشتہ چھ سال سے اسرو میں بطور ’’سائنٹسٹ گروپ گزیٹیڈ آفیسر‘‘  کے طور پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں جس سے نہ صرف ملک کی ساکھ بڑھ رہی ہے بلکہ اپنے والدین کا نام روشن کرنے کے ساتھ ریاست تلنگانہ کا نام بھی روشن کررہے ہیں
 شیخ محمد مخدوم علی کی اہلیہ محترمہ میمن انساء بھی پیشہ تدریس سے وابستہ ہیں وہ کرنو ل ضلع کے کوڈور منڈل کے پرائمری اسکول پر خدمات انجام دے رہی ہیں افراد خاندان میں ایک لڑکی دو فرزندان ہیں جن میں پہلی لڑکی جوریہ عرشی جو پیشہ کے اعتبار سے ڈاکٹر ماہر خواتین گائنالوجیسٹ ہیں انکے شوہر اعجاز پرویز بھی ڈاکٹر ہیں کرنول بھی پیشہ طب سے جڑے ہوئے ہیں
 جبکہ دو فرزاندان میں سائنسداں شیخ محمد مزمل علی بڑے فرزند ہیں انکی اہلیہ بنگلورو میں سینئر الکٹرانک انجینئر ہیں جبکہ انکے چھوٹے فرزندشیخ محمد منیب علی بھی فوارتیش میدیکل کالج بنگلو ر میں ڈاکٹر ہیں اور جنرل میڈیسن کی تیار ی کررہے ہیں

Shaik Mohd.Mahood Ali

چندریان ۔3 کی کامیابی پر شیخ محمد محمود علی کو مٹھائی کھلائی جاری ہے دوسری تصویر میں کامیابی پر مسرت اظہار کرتے ہوئےدیکھا جاسکتا ہے
شیخ محمد مخدوم علی نے کہاکہ میری سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ میرا لڑکا ملک اور قوم کی خدمت کرے۔اور اسرو میں تقریری کے بعد میری یہ خواہش رہی کہ میرا لڑا نئی نسل کے لئے مشعل راہ بنے۔
 چندریان ۔3 کی کامیابی کے بعد ہم سب ہمار ے لڑکے پر فخر محسوس کررہے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ دوسرے لڑکے بھی ہمارے لڑکوں کو دیکھ کر آگے بڑھنے کی کوشش کرے اور اپنی صلاحتیوں کو اجاگر کریں سچی لگن اور محنت جدوجہد کرنے پر اللہ تعالیٰ کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے خاص کر ٹیچر برداری کے لئے خوشی کی بات ہے اور پیسہ تدریس سے وابستہ افراد میں انتہائی خوشی ہے اور مبارکبادیاں دی جارہی ہیں
واقعتاًشیخ محمد مخدوم علی اور انکی اہلیہ مسلم خاندانوں کے لئے قابل تقلید ہیں جنھوں نے اپنے بچوں کو اعلی تعلیم سے آراستہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔اور مسلم والدین کے لئے ایک مشعل راہ ہیں۔ آج ہماری پسماندگی کی بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ ہم نے علم سے جو ہماری میراث تھی پہلو تہی کی ہے۔