امریکی صدر ٹرمپ کا ہندوستان پر اضافی ٹیرف کا اعلان
ادویات پر 250 فیصد ٹیرف کی دھمکی: ہندوستانی فارما سیکٹر خطرے میں
نئی دہلی ؍واشنگٹن: ۔6؍اگست
( زین نیوز انٹر نیشنل ڈیسک)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ایک اہم اعلان کرتے ہوئے ہندوستان سے درآمد ہونے والے سامان پر 25 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے گئے ہیں جو 21 دن بعد، یعنی 27 اگست سے نافذ العمل ہوگا۔
ایگزیکٹو آرڈر میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی روس سے تیل کی خریداری جاری رکھنے پر ہندوستان کے خلاف کی گئی ہے۔ اس سے قبل 30 جولائی کو بھی صدر ٹرمپ نے ہندوستان پر 25 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان کیا تھا۔ اب، دونوں فیصلوں کو ملا کر ہندوستان پر کل 50 فیصد ٹیرف عائد کیا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہندوستان روس کے ساتھ تجارتی تعلقات برقرار رکھ کر یوکرین کے خلاف روسی جنگی مشین کو بالواسطہ تقویت دے رہا ہے، اور اس رویے کے خلاف سخت ردعمل ناگزیر ہو چکا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق، روسی تیل کی خریداری دراصل روس کی مالی امداد کے مترادف ہے، جو امریکی پالیسی کے منافی ہے۔
ایگزیکٹو آرڈر میں مزید کہا گیا ہے کہ "ہندوستانی حکومت روس سے براہِ راست اور بالواسطہ تیل درآمد کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں اب امریکہ میں داخل ہونے والے ہندوستانی سامان پر 25 فیصد اضافی ٹیرف لاگو ہوگا۔تاہم کچھ مخصوص حالات میں اس فیصلے سے استثنیٰ بھی دیا جا سکتا ہے، جیسے اگر سامان پہلے ہی سمندر میں لوڈ ہو چکا ہو یا وہ مقررہ تاریخ سے پہلے امریکہ پہنچ جائے۔واضح رہے کہ مارچ 2022 میں امریکہ نے روسی تیل اور اس سے متعلقہ مصنوعات کی درآمد پر مکمل پابندی عائد کر دی تھی۔
اب جب کہ امریکہ کو علم ہوا ہے کہ ہندوستان روسی تیل خرید کر اس پابندی کو نظرانداز کر رہا ہے، تو اس کے جواب میں یہ نیا معاشی اقدام سامنے آیا ہے۔دریں اثنا، صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز دواسازی کے شعبے پر بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے ہندوستانی ادویات پر 250 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی۔
ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ وہ ابتدائی طور پر دواسازی پر نسبتاً کم ٹیرف نافذ کریں گے، مگر آئندہ ڈیڑھ سال میں اسے بڑھا کر 150 فیصد اور پھر 250 فیصد تک لے جائیں گے۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھاکہ ہم چاہتے ہیں کہ دوائیں ہمارے ملک میں ہی تیار ہوں۔
ان کے مطابق امریکہ کا ہندوستان اور چین جیسے ممالک پر دواسازی کے شعبے میں حد سے زیادہ انحصار خطرناک ہے، اور اس پر قابو پانا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔قابلِ ذکر ہے کہ امریکہ، ہندوستان سے بڑی مقدار میں عام ادویات، ویکسین اور فعال دواساز اجزاء خریدتا ہے۔ سال 2025 میں ہندوستان کی امریکہ کو دواسازی کی برآمدات 7.5 بلین ڈالر (تقریباً 65 ہزار کروڑ روپے) سے تجاوز کر چکی تھیں۔
امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے مطابق، امریکہ میں استعمال ہونے والی تمام جنرک ادویات کا تقریباً 40 فیصد حصہ ہندوستان سے آتا ہے۔ٹرمپ انتظامیہ کے حالیہ فیصلے سے ہندوستانی معیشت، خاص طور پر دواسازی کے شعبے پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے، جبکہ امریکہ اور ہندوستان کے تجارتی تعلقات میں نئی کشیدگی جنم لے سکتی ہے
